میرٹ کی دھجیاں بکھیردی گئیں

میرٹ کی دھجیاں بکھیردی گئیں
 میرٹ کی دھجیاں بکھیردی گئیں

  

حکمرانوں نے میرٹ کا یہ حال کیا کہ ایچی سن کالج لاہور میں میرٹ سے ہٹ کر اعلیٰ طبقات اور سیاستدانوں کے بچوں کو داخل نہ کرنے کی پاداش میں بورڈ آف گورنرزنے اپنے پرنسپل کا کنٹریکٹ منسوخ کردیا ۔

معلوم ہوا کہ داخل نہ کئے جانے والے بچوں میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، میاں منشاء سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ کے پوتوں سمیت بڑے خاندانوں کے بچے شامل ہیں۔ مارچ2015میں نئے سال کے آغاز سے قبل داخلوں کے دوران ایچی سن کالج کے پرنسپل آغاغضنفر نے میرٹ پر پورا نہ اترنے والے مذکورہ شخصیات کے بچوں کو کالج میں داخل کرنے سے نہ صرف انکار کر دیاتھا بلکہ ان بچوں کے فائنل نمبروں پر دستخط کر کے فہرست ویب سائٹ پر جاری کر دی تھی جس پر ان لوگوں نے بہت شور مچایا اور پرنسپل کو فارغ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ کل477طلباء نے داخلہ ٹیسٹ میں حصہ لیا جس میں سے140 بچوں کا میرٹ پر انتخاب کیاگیا اس میرٹ کی سزا اب متعلقہ پرنسپل کو ان کے کنٹریکٹ کی منسوخی کی صورت میں دی گئی ہے۔

کس قدر بدقسمتی ہے کہ معاشرے کی یہ اعلیٰ شخصیات اپنے کردار و عمل سے اعلیٰ رویوں کا مظاہرہ نہیں کرتیں وہ چاہتی ہیں کہ ان کے پوتے اور نواسے بھی میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تعلیمی اداروں میں داخل کئے جائیں اور اسی کردار کے ساتھ عملی سیاست میں شامل ہو کر قوم پر حکمرانی کریں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ان کے پوتے نواسے اور بیٹے میرٹ پر پورے نہیں اترتے تو ان کے داخلوں پر اصرار کیوں؟کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی عام شہری کے بچے کو جو میرٹ پر پورا اترتاہے اور باصلاحیت ہے داخلے سے محروم کر کے ان کی نالائق اولادوں کو داخل کیاجائے اور جو پرنسپل تعلیم کے فروغ اور ادارے کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے مسلسل کوشاں ہے، اسے محض اس وجہ سے ادارے سے فارغ کر دیاجائے کہ اس نے ان نالائق اولادوں کے والدین کی خواہشات کی تکمیل نہ کی۔

متعلقہ ادارے کے پرنسپل لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے غیر مستحق طلباء کے نمبروں کی فہرست پر دستخط کر کے اسے ویب سائیٹ پر جاری کر دیا، تاکہ دنیا ان کی صلاحیت اور استعدادکا بخوبی اندازہ کر سکے۔ بورڈ آف گورنرز نے بھی پرنسپل کا کنٹریکٹ منسوخ کرنے کے سلسلے میں سراسر غلط فیصلہ کیا۔ ایچی سن کالج کے معیار کا تقاضا یہی تھا کہ بورڈ پرنسپل کے فیصلوں کی تائید وحمایت کرتا، مگر اس نے اس کے برعکس میرٹ کی پامالی کی خواہاں شخصیات کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی اور ادارے کے تعلیمی معیار کو پس پشت ڈال دیا جو سراسرافسوسناک طرزعمل ہے۔

آغا غضنفر کو سابق گورنر چودھری محمد سرور نے 2014ء میں اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔ انکی تعیناتی کا مقصد ایچی سن کالج میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا تھا۔ آغا غضنفر کو سابق گورنر چودھری محمد سرور لندن سے لائے تھے، جس طرح چودھری صاحب گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر آئیڈیلزم کا شکار ہو گئے، اسی طرح ڈاکٹر آغا غضنفر بھی عصری شعور سے نابلد ہونے کی وجہ سے اشرافیہ کی اہمیت کو بھول بیٹھے اور انہیں ایک ہی دھکے سے نکال باہر کیا گیا۔

پاکستان میں تمیز بندہ و آقا جس نے بھی ختم کرنے کی کوشش کی، اْسے نشانِ عبرت بنایا گیا ، تاکہ دوسرا کوئی جرات نہ کرے، مگر آغا غضنفر چونکہ بیرون مْلک رہتے تھے، اس لئے انہیں اس ضابطے کی خبر نہ ہو سکی۔ اشرافیہ کے بچوں کو ایچی سن کالج جیسے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہ ملنا تو ایک پہلو ہے، لیکن اشرافیہ کے لئے اس سے بھی زیادہ باعثِ تشویش بات یہ ہے کہ عام آدمی کے بچے ذہانت کی بنیاد پر ایچی سن میں داخل ہو جائیں اور اچھوت و برہمن کے فرق کو مٹا دیں۔ ایلیٹ کلاس کے تعلیمی اداروں میں صرف اسی کے بچے داخل ہو سکتے ہیں۔ چاہے وہ کند ذہن،بلکہ فاطر العقل ہی کیوں نہ ہوں۔

جس بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں پرنسپل کی برطرفی کا فیصلہ ہوا اْس کی صدارت گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کی، جو بلحاظِ عہدہ بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہوتے ہیں۔ اب ملک محمد رفیق رجوانہ کا تعلق تو کسی طرح بھی ایلیٹ کلاس سے نہیں، نہ ہی وہ اشرافیہ میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے خود بھی عام سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور اْن کے بچے بھی وہیں پڑھے اور اب پوتے اور نواسے بھی وہیں پڑھ رہے ہوں گے، مگر اس کے باوجود انہوں نے یہ فیصلہ کرنے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کوئی اختلاف رائے ظاہر نہیں کیا، اس کا مطلب ہے کہ گورنر کو بھی اپنے عہدے پر براجمان ہونے کے بعد اشرافیہ کی سننی پڑتی ہے اور میرٹ وغیرہ کی باتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔گورنر پنجاب رفیق رجوانہ جو ایک بڑے قانون دان ہیں اور ہمیشہ میرٹ کی بات کرتے ہیں، اس فیصلے میں کیسے شریک ہو گئے؟ اس سے تو شبہ پڑتا ہے کہ یہ فیصلہ بورڈ آف گورنرز نے کیا نہیں، کہیں اوپر سے آیا ہے۔

اب تک غریب گھرانوں کے ہزاروں ذہین طلبہ و طالبات کو انٹری ٹیسٹ کے ذریعے اعلیٰ تعلیم سے محروم کیا جا چکا ہے اور اْن کی جگہ اشرافیہ کے کند ذہن بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن رہے ہیں۔یہ حقیقت تو اندھے کو بھی معلوم ہے کہ پاکستان میں دو قسم کے تعلیمی ادارے سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ ایک عوام کے لئے ہیں اور دوسرے اشرافیہ کے لئے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے دانش سکولز قائم کر کے اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ آج دانش سکولوں کا کوئی پْرسان حال نہیں، جبکہ ایچی سن کالج، برن ہال کالج ایبٹ آباد، صادق پبلک سکول جیسے اداروں کی شان و شوکت آج بھی برقرار ہے۔ اشرافیہ کسی صورت یہ نہیں چاہے گی کہ ان تعلیمی اداروں میں میرٹ نافذکیا جائے۔

مزید :

کالم -