بھارت الزام سے پہلے سکھ دشمنی ترک کرے

بھارت الزام سے پہلے سکھ دشمنی ترک کرے
بھارت الزام سے پہلے سکھ دشمنی ترک کرے

  

بھارت نے پاکستان دشمنی کا سفر جاری رکھا ہواہے اور اب تو وہاں ہندو انتہا پسندوں کی حکومت بھی برسراقتدار آچکی ہے۔ حال ہی میں جب گورداسپورکے ایک تھانہ پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تو بھارت نے فوری طورپر اس حملے کا الزام پاکستان پر دھردیا ،حالانکہ اس صوبے کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے واضح طورپر کہا کہ یہ حملہ ایک اندرونی کارروائی ہے اور اس میں کوئی غیرملکی ہاتھ نہیں۔ بھارت یہ الزام لگاتے ہوئے بھول گیا کہ بھارت کے صوبہ پنجاب میں آزاد خالصتان کی ایک مضبوط تحریک موجود ہے اور بھارتی سکھ ایک الگ قوم کی حیثیت سے بھارتی ہندوؤں کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں۔ اندراگاندھی کے دور میں ان سکھوں کے خلاف امرتسر کے مقدس گوردوارہ گولڈن ٹمپل میں سردار جرنیل سنگھ بھنڈرنوالے اور ان کے ہزاروں ساتھیوں کے خلاف بھارتی فوج نے انتہائی بڑا آپریشن کیا تھا جس کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں سکھ مارے گئے۔ ،جس کے باعث سکھوں میں بھارت دشمنی اور زیادہ راسخ ہوگئی ۔ گولڈن ٹمپل کے آپریشن کے بعد ہی وزیراعظم اندراگاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے وزیراعظم ہاؤس میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا، جس کے بعدبھارت میں ہندوؤں نے سکھوں کے خلاف نفرت کی وسیع مہم چلائی اور پورے بھارت میں سکھوں پر حملے کئے گئے۔

ہندوؤں کی اس نفرت نے سکھوں میں آزاد خالصتان بنانے کے جذبے کو مزید فروغ دیا اور وہ ہندو کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے زیادہ منظم ہوگئے۔ بھارت کی جانب سے سکھوں کی کسی بھی کارروائی کے بعد پاکستان پرالزام دھرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سکھ پنجاب اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں ان کے بہت سے اہم مقدس مقامات پاکستانی پنجاب میں واقع ہیں، بلکہ ساڑھے پانچ سو سال قبل سکھ دھرم کی بنیاد بھی بابا گورونانک نے ننکانہ صاحب میں رکھی تھی۔ ان کے چھٹے گورو، گوروارجن دیو سنگھ کی مڑھی اور جائے پیدائش بھی لاہور میں موجود ہے۔ دنیا بھر کے سکھوں کا سب سے مقدس مقام ننکانہ صاحب ہے۔ جہاں سکھ دھرم کے بانی بابا گورونانک صاحب پیدا ہوئے اور جہاں جنم استھان کے نام سے سکھوں کے سب سے بڑے گوردوارے کی بنیاد رکھی گئی ۔ میں حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان میں واقع ہندو مندروں اور سکھ گوردواروں کے ایڈمنسٹریٹر کے فرائض بھی سرانجام دیتا رہا ہوں۔ ہمارے سکھ بھائی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے سال میں چار مرتبہ پاکستان آتے ہیں۔ ایک مرتبہ بابا گورونانک صاحب کے جنم دن کے موقع پر، ایک مرتبہ بیساکھی ،ایک مرتبہ اپنے چھٹے گورو ارجن دیو سنگھ کے جنم دن پر اور ایک مرتبہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جنم دن پر۔

سکھوں کے علاوہ ہندوؤں کا ایک جتھا بھی ضلع چکوال میں واقع کٹاس راج کے مندر کی زیارت کے لئے سال میں ایک مرتبہ پاکستان آتا ہے۔ ہندو کٹاس راج کے اس مندر کو طاقت کے دیوتا شیو کی ایک آنکھ کہتے ہیں ،جبکہ ان کے مطابق شیودیوتاکی دوسری آنکھ کا مندر بھارت میں واقع ہے، اسی طرح ہندوؤں کا ایک اور جتھا سال میں ایک مرتبہ اندرون سندھ میں واقع کالی دیوی کے مندر کی زیارت کے لئے آتا ہے۔ مَیں نے سکھوں میں پاکستان کے لئے والہانہ محبت بھی دیکھی اور آزادخالصتان کے قیام کے لئے ان کا بھرپور جذبہ بھی۔ جب سکھ پاکستان آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ سکھوں کے بھیس میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد آتی ہے جو پاکستان میں سکھوں کے روابط اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں، اس کے باوجود پاکستان میں داخلے کے بعد سکھوں نے ایک بہادر قوم ہونے کے ناطے ہمیشہ پاکستان سے محبت اور آزاد خالصتان کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ بھارت نے کئی مرتبہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن حکومت پاکستان نے ہمیشہ سکھ یاتریوں کو این اوسی جاری کردیا، بلکہ انہیں قیام و طعام اور پاکستان میں سفر کی بہترین سہولتیں بھی فراہم کیں۔

ایسے حالات میں آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ سکھ بھارتی پنجاب میں کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ لیکن اپنے ظلم کے خلاف اپنے لوگوں کا ردعمل چھپانے کے لئے پاکستان بھارت کا بہت آسان ٹارگٹ ہے اور وہ جب چاہتا ہے پاکستان پر الزام عائد کردیتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر تمام چھوٹے بڑے تنازعات کی جڑ ہے، اگر بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یا مسئلے کے تینوں فریق، یعنی۔۔۔ پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کی نمائندہ جماعتیں مذاکرات کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرلیں تو اس خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اس ریجن میں جہالت اور غربت کے خاتمے کے نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ یوں تو پاکستان کی تمام حکومتیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دیتی رہیں ،لیکن اس مسئلے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے سب سے زیادہ کوشش، نواز شریف حکومت نے کی۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ کرلیا۔ واجپائی اس مسئلے کو حل کرنے میں بہت سنجیدہ نظر آئے اور انہوں نے دورۂ پاکستان کے دوران بھرپور خوشی کا اظہار بھی کیا، لیکن جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اس مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت روک دی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے وہ واحد لیڈر ہیں جو مسئلہ کشمیر کو جان لڑاکر حل کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ پاکستان کی تیز رفتار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہم بھارت کو مسئلہ کشمیر کا کوئی مثبت حل ڈھونڈنے پر آمادہ کرلیں۔ اس وقت ہم سندھ طاس معاہدے کے تحت مقبوضہ کشمیر سے اپنے دریاؤں کے لئے پانی حاصل کررہے ہیں، اس لئے بین الاقوامی برادری کو اس مسئلے کے حل میں شامل کئے بغیر اور سندھ طاس جیسے مزید معاہدے کئے بغیر کشمیر کا حل ممکن نہیں۔ یہ بات سب سوچ بچار رکھنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا فوجی حل ممکن نہیں اور اس مسئلے کو صرف مذاکرات کی میز پر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس مسئلے کو جلد ازجلد حل کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، ورنہ دونوں ممالک کے عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ کشمیر کے نام پر بعض مخصوص مفادات کا تحفظ اور سیاست کی جارہی ہے اور دونوں ممالک مسئلے کے کسی مثبت حل کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کررہے۔

مزید : کالم