’’ماہ نو‘‘ کا حبیب جالب نمبر

’’ماہ نو‘‘ کا حبیب جالب نمبر

آج کے دور اور مسائل پر نظر ڈالیں اور پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں تو کئی ہستیاں نظر آتی ہیں ،جو خاک میں تو مل گئیں، لیکن حالات اور خود اُن کی فکر نے اُن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ابھی دو روز ہوئے بھائی ظہیر الحسن جاوید کا فون آیا وہ آج کل لاہور ہی میں ہیں اور چند روز قبل انہوں نے مولانا چراغ حسن حسرت کی ایک نظم فیس بُک پر ’’یادوں کے دریچے‘‘ کھولنے کے لئے چلائی تھی اور ہم نے اس کی ستائش کی، ہم جیسے اور بھی بہت سے حضرات ہوں گے،جنہوں نے حسرت صاحب کے امروز میں اُن کے ساتھ یا اُن کے بعد کام کیا،ہم تو بعد والوں میں ہیں، لیکن اُن کی تعریف اور اُن کے کام اور شعور کے بارے میں بہت کچھ سُنا، اور پھر اُن میں جو خود داری اور درویشی پائی جاتی تھی اِس کے حوالے سے واقعات سُن کر دُکھ ہوتا تھا کہ ان کے دور میں کام سیکھنے اور کرنے کا موقع نہیں ملا، ان کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ وہ امروز کے ایڈیٹر تھے تو مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان تھے، ان کی شہرت اس حد تک تھی کہ دائیں مونچھ اور بائیں مونچھ پنجاب کے ایک سابق حکمران جیسی مثال بن گئی تھی، کہا جاتا تھا دائیں مونچھ ہلی کام بن گیا، بائیں ہلی تو بگڑ گیا ایک روز ان کے ملٹری سیکرٹری نے حضرت چراغ حسن حسرت صاحب کو فون کیا اور کہا کہ گورنر ان سے ملنا چاہتے ہیں اور انہوں (گورنر) نے بلایا ہے۔ جواب میں اس درویش نے کہا ’’مولانا کہاں وہ ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان اور کہاں ہم فقیر، ہمارا ان کا کیا مقابلہ، میری طرف سے معذرت کر لیجئے اور ملک صاحب سے عرض کیجئے گا کہ کبھی ان کا میو ہسپتال کی طرف سے گزر ہو تو امروز کے دفتر میں تشریف لا کر ایک کپ چائے ہماری طرف سے پی لیں، ظہیر الحسن جاوید حسرت صاحب کے حوالے سے کسی تقریب کی فکر میں ہیں، اللہ ان کو کامیاب کریں، اب تو حسرت صاحب کے دور والوں میں سے منو بھائی اور عبدالقادر حسن جیسے اِکا دُکا لوگ ہی رہ گئے یوں یا پھر ہم سننے والے ہیں۔

مولانا چراغ حسن حسرت کے حوالے سے لکھنا تو ضرورت تھا، لیکن آج تو ان کی یاد ایک اور درویش کی وجہ سے آئی، جس کی عادات میں بھی ’’حسرت پن‘‘ جھلکتا تھا۔ یہ محترم حبیب جالب ہیں ان سے تو ہماری ملاقاتیں بھی رہیں اور یادیں بھی ہیں تاہم تازہ ترین یہ ہے کہ الیکٹرونک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز کے ڈائریکٹر جنرل برادرم محمد سلیم بیگ نے ہمیں ماہ نامہ ’’ماہ نو‘‘ کا شمارہ خاص طور پر بھجوایا جو حبیب جالب نمبر ہے۔ انتہائی خوبصورت ٹائٹل، بہترین کاغذ اور پرنٹنگ کے ساتھ یہ نمبر بہت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں نہ صرف حبیب جالب کے فن کا ذکر ہے، بلکہ ان کی تمام تر زندگی اور مساعی کو یکجا کر دیا گیا اور اس ایک نمبر میں حبیب جالب کے بارے میں سبھی کچھ مل جاتا ہے کہ بے شمار لکھنے والوں کی تحریریں اس میں شامل کر دی گئی ہیں، جو ان کی زندگی کے سفر اور فن کا بھی احاطہ کرتی ہیں،اور انہی تحریروں کے حوالے سے حبیب جالب کا کلام بھی مل جاتا ہے۔ہمارا حبیب جالب سے ٹاکرا ہوتا رہتا تھا، کبھی میاں محمود علی قصوری کی رہائش، کبھی نوابزادہ نصر اللہ کے ڈیرے اور کبھی ہائی کورٹ میں ملاقات ہو جاتی تھی، وہ جن جلسوں میں پڑھتے تھے ان کی کوریج کے لئے جانا ہوتا، تو ان سے بھی سلام دعا ہو جاتی۔

حبیب جالب واقعی درویش تھے اور زندگی بھر انقلاب اور ترقی پسندانہ نظام کے لئے کام کرتے رہے۔ اگرچہ ان کی شہرت کا بہترین حوالہ ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو، مَیں نہیں مانتا‘‘ سے ہے، لیکن ان میں جرأت رندانہ بھی تھی اور یہ حبیب جالب ہی تھے جنہوں نے باغ بیرون موچی دروازہ میں جلسہ عام کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کہہ دیا

’’نہ جا امریکہ نال کڑے،

سانوں تیرا بڑا خیال کُڑے‘‘

حبیب جالب نے جس جبر اور آمریت کے دور میں جدوجہد کی، اس میں ہم جیسے کارکنوں کا بھی حصہ ہے اور آزادی صحافت کے ساتھ تحفظ روزگار کے لئے صعوبتیں بھی برداشت کیں، لیکن حبیب جالب تو جابر سلطان کے سامنے کلم�ۂ حق کہنے سے نہیں چوکتے تھے۔ ہمیں آج کے دور میں ان کے کلام سے تو مستفید ہونے کا موقع مل جاتا ہے، لیکن یہ دیکھ کر بھی دُکھ ہوتا ہے کہ کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا، بلکہ حبیب جالب کے خواب تو کب کے چکنا چور ہو چکے، اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جو حبیب جالب استحصال کے خلاف نبرد آزما تھا، اس کا اپنا استحصال کس طرح اور کیسے کیسے ہوا۔ جالب نے فلموں کے لئے بھی گیت لکھے، وہ ترقی پسند تھے، فلموں والے بھی انہیں معاوضہ نہیں دیتے تھے، پیار سے دلار سے لکھوا لیتے اور پھر حبیب جالب کی شام کا اہتمام کر دیتے وہ واقعی بڑا آدمی تھا۔ جھکنا نہیں جانتا تھا، اور ہر ایک کے سامنے دِل کی بات کہہ دیتا تھا، جلسوں میں ترنم سے پڑھتا تو سماں باندھ دیتا۔ ایوب کے خلاف تحریک میں حبیب جالب کو جلسے میں بلانے کے لئے دوڑ لگنی تھی۔حبیب جالب نمبر واقعی کمال کا ہے۔ جالب کے فن پر جس جس نے بات کی ان سب کو یہاں یکجا کر دیا گیا، ان کی شخصیت اور فن بھی یہیں جمع ہو گئے ہیں۔ سلیم بیگ نے محبت فرمائی شکریہ، لکھا ہے کہ نگران اعلیٰ شفقت جلیل ہیں۔ یہ بھی تو پیارے انسان اور کھلے ذہن اور اچھا ویژن رکھنے والے ہیں۔

مزید : کالم