دہشت گرد پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دشمن

دہشت گرد پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دشمن

  

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ گورداس پور میں حملے کے لئے عسکریت پسند پاکستان سے دریائے راوی کے راستے آئے تھے، سرحدی علاقے میں شدید بارشوں، دریاؤں اور نالوں میں طغیانی کے سیلابی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکریت پسند سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوئے، وزیرداخلہ نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کے پاس چینی اسلحہ تھا،حملے کے بعد جائے وقوعہ سے تین اے کے47 رائفلیں،19میگزین اور دو جی پی ایس برآمد کئے گئے، انہوں نے کہا یہ بھی شبہ ہے کہ دہشت گردوں نے ٹرین کو تلونڈی کے قریب پانچ مقامات سے اڑانے کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، راج ناتھ نے کہا کہ حکومت سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی، تقریر کے دوران کانگریس اور اپوزیشن کی دوسری جماعتوں نے گورداس پور واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا،وزیر داخلہ کی تقریر کے دوران ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر داخلہ کے اشتعال انگیز بیان کو امن و سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے اور بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، وہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، بھارت دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے، بھارتی میڈیا نے پاکستان پر اسی وقت الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، جب ابھی اس کی سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے مقابلہ جاری تھا، اگر بھارت کے پاس کوئی ٹھوس شواہد ہیں تو اِن کا حکومتِ پاکستان کے ساتھ تبادلہ کیا جائے، الزام تراشی سے کسی کا فائدہ نہیں ہو گا، تحقیقات کے بغیر کسی پر انگلی اٹھانا صحت مند رجحان نہیں، دہشت گرد پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دشمن ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی الزام تراشی کا بڑا مسکت جواب دے دیا ہے اور اس سلسلے میں بالکل درست موقف یہ اختیار کیا ہے کہ اگر بھارت کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو پاکستان کے حوالے کر دیئے جائیں، دونوں ممالک کے ماہرین بیٹھ کر اِن کا جائزہ لے لیں، اس کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے، لیکن بھارت کا طرز عمل ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اس کے ہاں جونہی کوئی چھوٹا یا بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے بھارتی ادارے میڈیا کے ساتھ مل کر فوراً الزام پاکستان کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں اور بھارتی الیکٹرانک میڈیا اپنی حکومت سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔ ماضی میں سمجھوتہ ایکسپریس میں آتشزدگی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں بھارت نے پاکستان کو ملوث کرنے کی مضحکہ خیز کوششیں کیں، لیکن بالآخر تحقیقات کے نتیجے میں ایک حاضر سروس کرنل اس واقعہ میں ملوث پایا گیا، اور ایک دیانتدار پولیس افسر کُھرا ناپتے ناپتے فوجی افسر تک پہنچ گیا تھا اور عین ممکن تھا کہ اس کرنل کی گرفتاری ہو جاتی، کیونکہ تحقیقات کرنے والے پولیس افسر نے اس کا عندیہ دے دیا تھا، اور اِس سلسلے میں ضابطے کی حتمی کارروائی ہو رہی تھی کہ یہ پولیس افسر پُراسرار حالات میں قتل ہو گیا۔ آج تک یہ شُبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پولیس افسر کو اِس لئے قتل کیا گیا کہ اُس کا ہاتھ سمجھوتہ ایکسپریس کو جلانے والے کرنل کے گریبان تک پہنچنے والا تھا، بھارتی فوج اپنے افسر کی اِس سلسلے میں گرفتاری سے پریشان تھی، چنانچہ پولیس افسر کو قتل کر کے معاملہ دبا دیا گیا۔ آج تک پاکستان کو اِس سلسلے کی تحقیقات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

بھارت کے کئی صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور زعفرانی دہشت گردی میں بھی بھارت خود کفیل ہے، بہت سے بھارتی گروہ ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں،ایک زمانے میں بھارتی پنجاب میں سکھوں کی تحریک نے پوری بھارتی حکومت کو زچ کر رکھا تھا، چنانچہ اندرا گاندھی نے سکھوں کے مقدس مقام دربار صاحب امرتسر میں فوج داخل کی، اور وہاں مذہبی رسومات ادا کرنے والے سکھوں کو گولیوں سے بھون ڈالا، سکھ اپنے مقدس مقام کی اس بے حرمتی کو کبھی نہیں بھولے۔ اندرا گاندھی جس کے حکم سے فوج دربار صاحب میں داخل ہوئی تھی جلد ہی اپنے ایک سکھ محافظ کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بن گئیں، اُن کے بیٹے راجیو گاندھی کو ایک تامل خاتون نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے مار ڈالا، یہ سارے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کا ان میں کوئی تعلق نہیں تھا، سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملے میں بھارتی حکومت بُری طرح ایکسپوز ہو گی۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس سے زیادہ کوئی مُلک دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنا، سب سے زیادہ جانیں بھی پاکستان کے قابلِ احترام فوجی افسروں اور بے گناہ سویلین افراد کی گئیں، بلوچستان میں تو ’’را‘‘ کی مداخلت کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں، جو بھارت کے حوالے بھی کئے گئے تھے۔ آج بھی ایف سی کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل شیر افگن نے کہا کہ بھارت بلوچستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بی ایل اے، بی آر اے اور بی ایل ایف کو اسلحہ، کمیونی کیشن اور پیسے انہی سرحدی علاقوں سے دیئے جا رہے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت تو موجود ہیں، لیکن بھارت پاکستان کے خلاف الزام تراشی کے ثبوت نہیں رکھتا اور اگر اس کے پاس ہیں تو دفتر خارجہ کی پیشکش سے فائدہ اُٹھا کر یہ ثبوت پاکستان کے حوالے کر دے اور دونوں ممالک کے ماہرین ان کا جائز لے کر کسی نتیجے پر پہنچیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے دشمن ہیں، الزام تراشی سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو گا، بھارت کے اندر بھی ایسے حلقے موجود ہیں، جو بھارتی الزام تراشی کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ گورداس پور کے واقعے کے پس منظر میں دربار صاحب کے واقعے کا غصہ ہی کار فرما ہو سکتا ہے۔ بہرحال بہتر عمل یہی ہے کہ تحقیقات کر کے ہی کوئی قدم اُٹھایا جائے، اگر الزام تراشیاں جاری رکھی گئیں تو اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا اور پہلے سے موجود کشیدگی میں نہ صرف کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو گا۔

مزید :

اداریہ -