سیلاب کی تباہ کاریاں ،پل اور بند ٹوٹ گئے،انڈس ہائی وے بہہ گئی ،کراچی اور پشاور کے درمیان ٹریفک معطل

سیلاب کی تباہ کاریاں ،پل اور بند ٹوٹ گئے،انڈس ہائی وے بہہ گئی ،کراچی اور ...

ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو، رحیم یارخان، ڈیرہ اسماعیل خان، (نمائندگان، خبر ایجنسیاں) کئی علاقوں میں کل بھی طوفانی بارش ہوئی جس کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی رہی اور مزید کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آگئے۔ متعدد پل اور بند ٹوٹنے سے سڑکوں کو نقصان پہنچا اور ٹریفک معطل رہی۔ مزید کچھ علاقوں کے لئے فلڈ وارننگ جاری کی گئی ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے اگلے چار روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے پیش نظر کچھ اور علاقے خالی کرائے جا رہے ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جاسکے۔ تفصیل کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ بیراج سے گزرتا سیلابی ریلا ہر طرف تباہی مچا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب اور اندورن سندھ کے مزید درجنوں دیہات پانی کی زد میں آگئے ۔رود کوہی نالوں میں طغیانی کے باعث انڈس ہائی وے کا پل ٹوٹ گیا۔ کراچی سے پشاور جانیوالی ٹریفک بھی معطل ہو گئی۔دریائے سندھ کی بپھری موجیں پنجاب اور اندرون سندھ بدستور تباہی مچا رہی ہیں۔ بڑے سیلابی ریلے نے لیہ میں راستے میں آئی ہر چیز تہس نہس کر دی۔ سیکڑوں دیہات پانی کی زد میں ہیں، اکثر کا زمینی رابطہ بھی کٹا ہوا ہے۔ ڈوبی فصلیں اور گرتے مکانات قدرتی آفت کی شدت کا پتہ دے رہے ہیں۔ ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک کا ریلا اب تونسہ بیراج سے گزر رہا ہے۔ پانی نے مزید درجنوں علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگوں کی نقل مکانی بھی جاری ہے، سیلاب کے ساتھ ساتھ موسلا دھار بارشوں سے رود کوہی نالے بھی بپھرے ہوئے ہیں۔ بزدار شمالی کے قریب پل ٹوٹنے سے انڈس ہائی وے کا کچھ حصہ بھی بہہ گیا۔ کراچی اور پشاور جانیوالی ٹریفک بھی معطل ہو گئی۔مظفر گڑھ، جتوئی، جام پور، صادق آباد اور رحیم یار خان کے گرد ونواح میں بھی تباہی ہی تباہی دکھائی دے رہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں تین بند ٹوٹنے سے سینکڑوں گھر ڈوب گئے، راجن پور میں برساتی نالوں کی طغیانی بھی غضب ڈھا رہی ہے جبکہ دریائے چناب نے شجاع آباد کے نواح میں تباہی مچا رکھی ہے، سو سے زائد دیہات کا رابطہ بھی کٹا ہوا ہے۔ اندرون سندھ بھی تباہی جاری ہے گھوٹکی، لاڑکانہ، کندھ کوٹ اور نواب شاہ میں سیکڑوں آبادیاں سیلاب کی زد میں ہیں، درجنوں علاقوں میں وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ ڈیرہ اسمعیل خان سے بیورورپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کوہ سلیمان‘ تحصیل در ابن‘ کلاچی اور پرو آکے علاقوں طوفانی بارش، جس سے نالوں میں طغیانی آگئی اور پانی متعدد گاؤں میں داخل ہوگیا تاہم جانی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ گھروں اور فصلوں کو نقصان پہنچاہے۔ تین روزقبل گدھ سپر پیسج اورسی آربی سی نہرکو پہنچنے والے نقصان کو درست کرنے کاکام بھی تیزی سے جاری ہے۔یہ کام شدید شروع ہونیوالی بارش کی وجہ سے عارضی طور پر روکا بھی گیا لیکن دوبارہ شروع کیاگیاہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے بارہ گھنٹوں میں ڈرین نمبر29گدھ سپر پیسج اور ڈرین نمبر25-26میں پانی آسکتاہے۔جسکی وجہ سے آس پاس کے گاؤں میں فلڈ الرٹ کردیاگیاہے۔ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نثاراحمد‘ڈی پی اوصادق حسین بلوچ‘اے سی سلیمان لودھی اوراے ایس پی وسیم ریاض بلوچ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کادورہ کیااورامدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنرڈیرہ سلیمان لودھی نے میڈیا کو بتایا کہ اگلے دوچارروزمیں بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے، جسکی وجہ سے درابن‘کلاچی اورپروآکی مختلف آبادیوں کے لوگوں کو ہو شیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پروآمیں قائم کئے گئے دوریلیف کیمپوں کے علاوہ انتظامیہ نے گورنمنٹ ڈگری کالج کلاچی میں بھی ایک ریلیف کیمپ قائم کردیاہے اور حالات کنٹرول میں ہیں۔ کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر کے مطابق ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پربدستور اونچے درجے کا سیلاب ہے ، جہاں5 لاکھ21ہزار کا بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے ،کالا باغ اور چشمہ میں ڈاؤن فال ہونے پرتونسہ بیراج میں پانی کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، دریائے سند ھ میں بڑے سیلابی ریلے کے باعث گزشتہ کئی روز سے دائرہ د ین پناہ، احسانپور، پہاڑ پور کے بیٹ کے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ پاک فوج کے نوجوان بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر عباس والا بند کی مسلسل کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔س وقت کا لا باغ کے مقام پر4لاکھ 9ہزاراور چشمہ کے مقام پر4لاکھ56ہزارکیوسک پانی کا بہاؤ ہے ،ارسا ذرائع کے مطابق مزید پانی میں کمی کا امکان ہے۔دائرہ دین پناہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور کوہ سلیمان پر مسلسل بارش سے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور پانی کا ایک بڑا ریلا تونسہ بیراج سے گزر رہا ہے گزشتہ روز صبح6 بجے پانی کی آمد 5 لاکھ 25 ہزار کیوسک تھی جو شام کو5 لاکھ 43 ہزار کیوسک ہو گئی،تربیلا ڈیم سے پانی کی آمد3 لاکھ 62 ہزار200 کیوسک،دریائے کابل1 لاکھ3 ہزار 700 ،کالا باغ 3لاکھ 95 ہزار576 ، چشمہ کے مقام پر پانی کی آمد4 لاکھ66 ہزار130 کیوسک ہے۔اس سلسلہ میں ایکسیئن تونسہ بیراج مہر ریاض احمد نے رابطہ پر بتایاکہ اس وقت تک تونسہ بیراج کے بند محفوط ہیں تونسہ بیراج پر پانی گھٹنے لگا تھا مگر رود کوہیوں کے پانی سے پھر اضافہ ہوا مگر پھر بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ مٹھن کوٹ سے نامہ نگار کے مطابق مٹھن کوٹ شہر سیلاب کے شدید خطرے میں ہے لوگ ہزاروں کی تعداد میں نشیبی علاقوں سے نکل کر محفوط مقامات تک اپنی مددآپ کے تحت منتقل ہورہے ہیں متاثرین سیلاب کے لئے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول مٹھن کوٹ کے اسٹیڈیم میں ایک خیمہ بستی قائم کی گئی ہے اس خیمہ بستی کے انچارج ڈسٹرکٹ آفیسرپاپولیشن ویلفیئرراجنپور خواجہ محسن رسول نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مذکورہ خیمہ بستی میں 800 افراد کے رہنے کی گنجائش ہے دیگر آنے والے متاثرین سیلاب کو گورنمنٹ کے مختلف سکولوں میں ٹھہرایا جا رہاہے متاثرین سیلاب کی سیکورٹی کے لئے خیمہ بستی میں ایک پولیس پوسٹ قائم ہے جہاں پر چوبیسں گھنٹے پولیس اہلکار تعینات رہتے ہیں۔ شاہ صدردین سے نمائندہ پاکستان کے مطابق قصبہ کالا میں گجانی سپر بند دریائے سندھ سے کٹاؤکا سلسلہ تا حال جاری ہے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے، سپر بند پر محکمہ انہار کی طرف سے کام کی رفتار انتہائی سست ہے اس وقت شگاف 400سو فٹ تک ہو گیا ،اور پانی آ بادیو ں کی طرف بڑھ رہا ہے دریائے سندھ سے کٹاؤ کو روکنے کے لئے پتھرجال میں بند کر کے دریا میں ڈالے جا رہے ہیں تا حال کٹاؤ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ دریائے سندھ میں اس وقت پانی کی سطح بھی قدرے کم ہو گئی ہے لیکن پیچھے سے آ نے والے ریلوں سے اس سپر کو مزید خطرات لا حق ہیں ۔ اس وقت حکومت پنجاب کی جانب سے بقیہ ماندھ سپر کو بچانے کیلئے وسیع پیمانے پر کام کا سلسلہ تو شروع کیا گیا ہے لیکن اب تک کام تسلی بخش نظر نہیں آرہا۔ متاثرین کو کھانے پینے کی اشیا اب تک فراہم نہیں کی گئی اور متاثرین نے بھی اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لے لی ہے۔

مزید : صفحہ اول