عمران خان سے وجیہہ الدین احمد ،حامد خان کی ملاقات ،گلے شکوے دور ،جلد دوبارہ پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ

عمران خان سے وجیہہ الدین احمد ،حامد خان کی ملاقات ،گلے شکوے دور ،جلد دوبارہ ...

اسلام آباد(اے این این) تحریک انصاف کے الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد اور حامد خان کی بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات، گلے شکوے دور،پارٹی ٹربیونل کو فعال کردار دینے پر اتفاق ، پارٹی کے الیکٹورل ممبران کی فہرستیں 2 ماہ میں تیار کروا کے جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ۔جمعہ کو بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس(ر) وجیہ الدین احمد نے کہا کہ عمران خان سے اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی جس میں پارٹی الیکشن ٹریبونل اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سمیت پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی انتخابات پر بھی بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیرمین عمران خان پر واضح کر دیا کہ پارٹی الیکشن ٹریبونل نے جو فیصلہ دیا تھا اس پر آج بھی قائم ہیں کیونکہ اس میں تبدیلی سے نہ صرف ٹریبونل بلکہ پارٹی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا، الیکشن ٹریبونل کے فیصلے سے متعلق عمران خان سے مزید بات کرنے کی ضرورت ہے اور 2 اگست کو ہونے والے اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین سے متعلق اپنی رپورٹ پر قائم ہوں، ان کی پارٹی رکنیت ختم ہونی چاہئے۔انھوں نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل کو فعال کردار ادا کرنے کے معاملے پر عمران خان سے اتفاق ہو گیا ہے، پارٹی کے الیکشن کمیشن میں بہتری کی ضرورت ہے، اوور سیز پاکستانیوں کے حوالے سے آنے والے الیکشن میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ عمران خان سے اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پارٹی کے الیکٹورل ممبران کی فہرستیں 2 ماہ میں تیار کروا کے جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جائیں گے، انٹرا پارٹی الیکشن براہ راست بنیادوں پر کروانے پر بھی اتفاق ہوا۔جسٹس ریٹائر وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو سیاسی اور اندرونی طور پر نقصان پہنچایا جائے اور پارٹی کے نظریاتی لوگوں کو سائڈ لائن کر دیا جائے لیکن عمران خان پر واضح کر دیا ہے کہ ہم پارٹی کے قبضہ گروپ یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں بلکہ نظریاتی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پارٹی کو نقصان پہنچا تو عمران خان اور نظریاتی لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کی انتظامیہ کی طرف سے 2013 میں کہا گیا کہ ٹریبونل کو معطل کر دیا گیا ہے اور آپ کام نہ کریں لیکن ہم نے اس کے باوجود اپنا کام جاری رکھا اور ہم نے پارٹی الیکشن کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنا دیا لیکن جب ہم نے یہ محسوس کیا کہ اپنا کام کر چکے اب فیصلوں پر عمل درآمد کروانا ہمارے ہاتھ میں نہیں تو اس کے بعد ہم نے کام روک دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ عمران خان سے گلے شکوے نہیں بلکہ سوچ کا فرق تھا، ہمارا فیصلہ آئینی اور قانونی جب کہ عمران خان اس فیصلے کو سیاسی اور انتظامی اعتبار سے لے رہے تھے۔ جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں کچھ سقم ہیں، ان تجاویز کو مزید بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکتا تھا۔اس موقع پر حامد خان نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے ہم سے کسی قسم کا مشورہ نہیں کیا گیا اور جن لوگوں سے اس حوالے سے رائے لی گئی وہ اس کے اہل نہیں تھے جس کی وجہ سے پارٹی کو آج اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر ہم نے، پارٹی نے اور عمران خان نے یہ سبق سیکھا ہے کہ آئندہ کسی بھی معاملے سے اس سے متعلق ماہرین سے رائے لی جائے۔واضح رہے کہ جسٹس ریٹائڑد وجیہہ الدین صدیقی کی سربراہی میں بننے والے الیکشن ٹریبونل انٹرا پارٹی الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور لوگوں کو خریدا گیا، ٹریبونل نے جہانگیر ترین، پرویز خٹک، نادر خان، اور علیم خان کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ دیا تھا جس پر عمل درآمد کرنے کے بجائے ٹریبونل کو ہی معطل کردیا گیا۔

مزید : صفحہ اول