ملا عمر کی پاکستان میں موجودگی پر لیون پینٹا کا صدر زرداری سے رابطہ ہوا تھا ،واشنگٹن پوسٹ

ملا عمر کی پاکستان میں موجودگی پر لیون پینٹا کا صدر زرداری سے رابطہ ہوا تھا ...

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے حکومت پاکستان کے موقف کے برعکس اصرار کیا ہے کہ افغان طالبان رہنما ملا عمر کا علاج کراچی میں کیا گیا، اس سلسلے میں 2011ء میں ادارے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹاکے ایک نوٹ کے حوالے سے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کا نام بھی لیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 2011ء میں سی آئی اے کے پاس ملا عمر کی کراچی میں موجودگی سے متعلق کچھ ابتدائی غیر مصدقہ معلومات تھیں اور لیون پنیٹانے اپنے نوٹ میں کہا تھا کہ ان معلومات کے بارے میں پاکستان کے انٹیلی جنس سربراہ سے رابطہ کیا جائے گا۔ اب امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ ملا عمر نے کراچی میں موجودگی کی اس ابتدائی اطلاع سے دو سال بعد 2013ء میں وفات پائی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملا عمر شدید بیمار تھے اور ان کا کراچی کے ایک ہسپتال میں علاج کیا گیا تاہم امریکی حکام کو ابتدائی اطلاع سے دو سال بعد پتا چلا کہ ملاعمر انتقال کرگئے ہیں۔ امریکہ نے اپنے ورلڈ ٹریڈسنٹر پر 11 ستمبر 2011ء کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد ملا عمر کو مطلوب ملزموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر کی وفات کے حوالے سے جو معلومات اب سامنے آئی ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق پاکستان اور امریکہ کی پارٹنر شپ میں ان دونوں کا اپنا اپنا خفیہ ایجنڈا تھا جس میں وہ ایک دوسرے کے حریف رہے۔ موجودہ اور سابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملا عمر کے کہاں پر موجود ہونے کے بارے میں خفیہ معلومات تو حاصل کی جاتی رہیں مگر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی سرگرمی سے تلاش کے دوران میں ملا عمر کو ڈھونڈنے پر کبھی زور نہیں دیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان میں کام کرنے والے سی آئی کے ایک سابق اہلکار ملٹ ہیرڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس انٹیلی جنس اور نگرانی کی صلاحیتیں ہونے کے باوجود ملا عمر کی وفات کی طویل عرصے تک تصدیق نہ ہونا ایک الجھاؤ والی بات ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک سوال یہ بھی ہے کہ دنیا کے اس حصے میں خفیہ معلومات حاصل کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ ان کی رائے میں حقیقت کی کئی پرتیں اور کئی ایجنڈے ہیں، جن میں سے کسی کو بھی امریکہ صحیح طور پر نہیں سمجھ سکا۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اگرچہ افغان حکام کے اس دعوے سے تو ابھی تک پوری طرح اتفاق نہیں کرسکیں کہ ملا عمر کا انتقال کراچی کے ہسپتال میں ہوا تاہم انہوں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے 1980ء کی دہائی سے طالبان کے ساتھ رابطے تھے اور اس نے امریکی ہتھیار اور رقوم افغانستان میں روسیوں کے خلاف لڑنے والے مسلمان عسکریت پسندوں کو پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان ندیم ہوتیانہ نے کہا ہے یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ملا عمر کب اور کہاں فوت ہوئے تاہم طالبان نے جمعرات کو ملا عمر کی وفات کے بارے میں جو تصدیق کی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملا عمر کبھی افغانستان سے باہر نہیں گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس نے ملا عمر کی وفات کے بارے میں جائزہ ایک ڈیڑھ سال پہلے شروع کیا تھا مگر تازہ معلومات سے طے ہوگیا ہے کہ وہ حال ہی میں فوت ہوئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اسے کچھ سفارتی دستاویزات حاصل ہوئی ہیں جن میں لیون پنیٹا اور اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے درمیان رابطہ ہوا تھا مگر سی آئی اے نے اس پر تبصرہ کرنے حتیٰ کہ ملا عمر کی وفات پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب آصف علی زرداری امریکی سفارتکار رچرڈ ہولبروک کی میموریل سروس میں شرکت کے لئے امریکہ آئے تھے۔ سابق امریکی اور پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ لیون پنیٹا کی طرف سے ملا عمر کی پاکستان میں موجودگی کا تذکرہ کرنے کا مقصد پاکستان کو قائل کرنا تھا کہ وہ ملا عمر کو گرفتار کرے۔ دیگر امریکی حکام نے بھی پاکستانی حکام سے دوسری ملاقاتوں میں یقین ظاہرکیا تھا کہ پاکستان ملا عمر اور دیگر طالبان رہنماؤں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، ایک اور سفارتی دستاویز کے مطابق 2011ء میں اسلام آباد میں نائب صدر بائیڈن نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو انتباہ کیا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک پاکستان مشکل سوالوں کے جواب نہیں دیتا۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ پاکستان ملاعمر کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ ایک تیسری دستاویز کے مطابق 2010ء میں خطے سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینے کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں پاکستانی حکام کو ایک بریفنگ دی گئی جس میں لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس لیوٹ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہونے سے انکار کیا ہے تاہم ملا عمر سمیت کوئٹہ شوریٰ کے ارکان کوئٹہ اور کراچی کے درمیان کہیں رہ رہے ہیں۔ موجودہ اور سابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ سی آئی اے نے ملا عمر کی کراچی کے ہسپتال میں موجودگی کا پتا چلنے کے بعد انہیں وہاں پکڑ لینے کا کوئی منصوبہ بنایا تھا یا نہیں۔ اس وقت امریکی خفیہ ادارے کے پاس دیگر اہم ترجیحات تھیں جن میں ایبٹ آباد کے قریب ایک عمارت میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاعات بھی شامل ہیں، جہاں چار ماہ بعد حملہ کرکے امریکی فوجیوں نے اسامہ کو ہلاک کر دیا تھا۔ پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب ہو رہے تھے اور لیون پنیٹا اور آصف علی زرداری کی ملاقات سے صرف دو ہفتے بعد لاہور میں امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کو دو پاکستانیوں کے قتل کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے پہلے بھی سی آئی اے نے طالبان رہنماؤں کو پکڑنے کی اتنی سرگرمی سے کبھی کوشش نہیں کی جتنی کہ اس نے القاعدہ کے رہنماؤں تک پہنچنے کے سلسلے میں کی، پاکستان میں سی آئی اے کے سابق سٹیشن ہیڈ اور اس کے کاؤنٹر ٹیرررازم سنٹر کے سربراہ رابرٹ گرینیٹرنے کہا کہ سی آئی اے کی زیادہ توجہ القاعدہ پر تھی، اسی لیے ہمارے پاس طالبان رہنماؤں کی کہیں پر موجودگی کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں جبکہ آئی ایس آئی کی طرف سے تعاون کی بھی ایک واضح حد تھی۔ آئی ایس آئی القاعدہ رہنماؤں تک پہنچنے میں تو ہمارے ساتھ بہت موثر طور پر کام کر رہی تھی جب کہ کسی وقت امریکی ادارہ طالبان رہنماؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتا تھا اور آئی ایس آئی کو اس کا پتا نہیں چلتا تھا۔ پاکستان نے امریکہ کی یہ استدعا بار بار مسترد کر دی کہ اسے کوئٹہ پر ڈرون حملے کر دینے چاہئیں جہاں طالبان رہنما 2001ء میں افغانستان سے فرار ہونے کے بعد رہ رہے تھے۔ ایک اہم طالبان رہنما عبدالغنی برادر کو 2010ء میں پکڑا گیا، مگریہ محض اتفاقیہ طور پر ہوا۔ پاکستانی حکام کو علم نہیں تھا کہ عبدالغنی برادر کراچی کے ایک گھر میں رہ رہے تھے، انہیں 2013ء میں رہا کر دیا گیا۔ ایک سابق پاکستانی اہلکار نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ملاعمر کی وفات ظاہر نہ کرنے کی وجہ یہ خدشہ ہوسکتا ہے کہ ملا عمر کے بعد طالبان دھڑے الگ الگ ہو جائیں گے اور افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات پر اثر و رسوخ سے متعلق پاکستان کی صلاحیت کو نقصان پہنچے گا۔ اہلکار کے مطابق آئی ایس آئی نے حکومت کو اس سال مارچ میں آگاہ کیا تھا کہ ملا عمر شدید بیمار ہیں اور ان کی حالت خطرے میں ہے۔

مزید : صفحہ اول