صوبہ سرحد میں خان عبدالغفار خان کی سیاست انگریزوں کی ہدایت کے تابع تھی

صوبہ سرحد میں خان عبدالغفار خان کی سیاست انگریزوں کی ہدایت کے تابع تھی

کراچی (نصیراحمد سلیمی، خصوصی خبرنگار) تحریک پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے بعد بھی سرخ پوش رہنما (جو صوبہ سرحد میں کانگریس کے اہم رہنما تھے) جناب خان عبدالغفار خان اور ان کے صاحبزادے جناب خان عبدالولی خان اپنے آخری سانس تک ایک ہی بات دھراتے دکھائی دیتے ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ کو انگریزوں کی حمایت حاصل تھی، جبکہ تاریخی ریکارڈ اور دستاویزی ثبوت اس کے برعکس خان عبدالغفار خان کے حوالہ سے یہ سامنے آرہے ہیں کہ صوبہ سرحد میں ان کی سیاست انگریزوں کی ہدایت کے تابع ہی تھی۔ ایسا ہی ایک انکشاف معروف صحافی اور تحریک پاکستان اور قائداعظم پر متعدد کتابوں کے مصنف جناب خواجہ رضی حیدر نے برطانیہ میں شائع ہونے والی ’’سر ولیم سافرج‘‘ کی کتاب ٹرانسفر آف پاور پیپرز‘‘ کی دسویں جلد میں موجود 1947ء میں صوبہ سرحد کے انگریز گورنر سر اولف کیرو کے خط سے کیا ہے جو صوبہ سرحد کے انگریز گورنر نے اس وقت کے بمبئی کے انگریز گورنر ’’سر جے کولولی‘‘ کو 22 مئی 1947ء کو لکھا تھا اس خط کے مطابق گورنر سرحد گورنر بمبئی کو لکھتے ہیں کہ ’’سیاسی میدان میں دلچسپ مقامی تبدیلی یہ ہے کہ خان عبدالغفار خان اور میری وزارت نے اس موضوع کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا، جس کا مشورہ میں نے ان کو چند ماہ پہلے دیا تھا، مشورہ یہ تھا کہ اگر ممکن ہو تو اتحاد کی بنیاد پر ایک پٹھان قومی صوبہ قائم ہو جائے۔ جب میں نے یہ تجویز ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے اس تجویز پر بڑے جوش و جذبہ کا اظہار کیا۔ یہ بڑی حد تک ایک اچھا موضوع ہے اور یہ ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ کے نعرے کے مقابلے میں زیادہ تعمیری اور موثر ہے۔ اگرچہ اس کی شروعات کافی تاخیر سے ہوئی ہے، لیکن میرے اندازے کے مطابق یہ کمزور نہیں بلکہ پراز قوت ہے، پٹھانستان اپنے وجود کو معاشی طور پر قائم نہیں رکھ سکتا یا اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکتا ہے۔ بلکہ اس کی اصل کمزوری تو یہ ہے کہ پٹھان ہنوز اس لحاظ سے باہم غیر متحد رہے ہیں کہ وہ ایک مضبوط ریاست قائم کرسکیں اور جہاں کہیں بھی ان کی حکمرانی قائم ہوسکی ہے تو غیر اقوام پر ہوسکی ہے۔ لیکن وہ اپنے آپ ہمیشہ ایک طوائف الملوکی کا شکار رہے ہیں، تاآنکہ ہم نے آکر ان کے معاملات درست کیے۔ درحقیقت افغانستان بھی ہنوز ایک پٹھان ریاست نہیں ہے‘‘۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے مذکورہ خط 22 مئی 1947ء کو لکھا گیا تھا، اور جناب خان عبدالغفار خان 21 جون 1947ء کو ’’بنوں‘‘ میں صوبائی کانگریس کمیٹی کے ایک اجلاس میں ریفرنڈم میں شرکت سے انکار کرکے ’’پختونستان‘‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کرتے ہیں، جبکہ کانگریس کی حمایت سے 3 جون پلان کی منظوری دراصل پاکستان کو تسلیم کرنے کے مترادف تھی۔

سرخ پوش رہنما کانگریس کو آخری وقت تک یہی باور کراتے رہے کہ سرحد میں مسلم لیگ پر قائداعظم ؒ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تھے، اس کی شہادت اس امر سے ملتی ہے، جب 28 اپریل 1947ء کو آخری وائسرائے ہند ’’لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘‘ نے صوبہ سرحد کا دورہ کیا تو سرحد میں کانگریس کے رہنما ڈاکٹر خان کی حکومت قائم تھی اور مسلم لیگ نے اس کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کر رکھی تھی، اس مرحلہ پر وائسرائے ہند ’’لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘‘ کو صوبہ سرحد کا دورہ کرنے سے قبل قائداعظم ؒ سے درخواست کرنا پڑی کہ ان کے صوبہ سرحد پہنچنے پر کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہو، وائسرائے کو وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان نے یہی باور کرانے کی کوشش کی کہ صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کا کوئی وجود نہیں ہے، اس کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے وائسرائے نے یکم مئی 1947ء کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’وزیراعلیٰ نے‘‘ مجھے بتایا کہ ان کے خیال میں جناح کا صوبہ سرحد لیگ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے‘‘۔ ’’جب میں نے ان سے دریافت کیا تو پھر لیگ کو کون چلا رہا ہے‘‘۔ ’’تو انہوں نے جواب دیا کہ ہزایکسیلنسی گورنر اور ان کے تمام افسران تاکہ وہ میری حکومت کو اقتدار سے محروم کرسکیں۔‘‘

اس رپورٹ میں ماؤنٹ بیٹن نے لکھا ہے کہ ’’ان کے اس مضحکہ خیز جواب پر میں اپناقہقہہ ضبط نہ کرسکا۔‘

کاش سرخ پوش رہنما مسلمانان ہند کے اجتماعی شعور کے متفقہ فیصلے کو ذہنی حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے، تاکہ وہ 9 جون 1947ء کو دہلی میں قائداعظم ؒ سے اپنی ہونے والی ملاقات کو مسلمانان ہند کے موقف کی تائید کرکے امر ہو جاتے۔ ’’ 3 جون پلان‘‘ کی منظوری کے بعد تقسیم ہند کا فارمولہ طے پاچکا تھا جس کے بعد صوبہ سرحد کے پاکستان دوست چند رہنماؤں نے جن میں پیش پیش صوبہ سرحد میں قائداعظم کی سیاسی فکر کے ترجمان صوبہ میں بابائے صحافت جناب (مرحوم) اللہ بخش یوسفی تھے اور ان کے ساتھ جناب میاں جعفر شاہ (مرحوم) اور جناب رحیم بخش غزنوی بھی تھے۔ چاہتے تھے کہ قیام پاکستان سے قبل قائداعظم ؒ اور جناب عبدالغفار خان کے درمیان یکجہتی کی کوئی صورت نکل آئے۔ ان حضرات نے 9 جون 1947ء کو دہلی میں خان عبدالغفار کی قائداعظم سے ملاقات کرائی تو قائداعظم نے خان عبدالغفار خان پر مطالبہ پاکستان کے فوائد واضح کرتے ہوئے ان کو فراخ دلانہ پیشکش کرتے ہوئے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں ماضی کو فراموش کرتے ہوئے باہم تعاون کرنا چاہیے۔ اگر آپ ہم سے تعاون کرینگے، تو آپ پاکستان کے اہم رہنما کی حیثیت سے زندہ جاوید ہو جائیں گے۔

جناب خان عبدالغفار خان قائداعظم ؒ کی پیشکش کا مثبت جواب دیتے تو پاکستان کی سیاست بھی آج وہ نہ ہوتی جو بدقسمتی سے ہماری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ہے اور تاریخ کا ریکارڈ سرخ پوش رہنما کا شمار کانگریس اور انگریزوں کے مفادات کے تابع سیاست کرنے والوں میں نہ کرتا۔

مزید : صفحہ اول