اپنی نا اہلیوں کا الزام پاکستان پر لگانا بھارت کا پرانا شیوہ ہے ،عسکری ماہرین

اپنی نا اہلیوں کا الزام پاکستان پر لگانا بھارت کا پرانا شیوہ ہے ،عسکری ...

ؒ ٓلاہور(محمد نواز سنگرا) حیرانی کی بات ہے کہ اتنی کمزور کے باوجود بھارت ابھی تک ٹوٹا کیوں نہیں،اپنی نااہلی کا الزام پاکستان پر لگانا بھارتی شیوہ ہے ،پاکستان خود دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے بھارت میں کارروائیاں کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔طالبان کے نئے امیرکا چہرہ جلد واضح ہو جائے گا،مذاکرات طالبان،افغانستان،پاکستان اور امریکہ سب کے مفاد میں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار ملک کے عسکری ماہرین نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ جنرل (ر)راحت لطیف نے کہا کہ ملاعمر کی پاکستان میں ہلاکت کی خبریں بے معنی اور بھارتی پراپیگنڈہ ہے۔طالبان پہلے بھی کہی چکے ہیں جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے حکومت کے ساتھ ہاتھ نہیں بڑھا سکتے۔تمام طالبان کا ملا منصور اختر پر اعتماد کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔لڑائی کا انجام تمام گروپوں نے دیکھ لیا ہے اب بہتری کی توقع ہے۔بھارت گورداس پورمیں حملے کا الزام پاکستان پر لگانے کی بجائے اپنا گھر ٹھیک کرے ،بھارت میں پاکستان کی طرف سے کارروائی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ پاکستان جنگ نہیں امن کا خواہاں ہے،جنرل (ر)جمشید ایاز نے کہا کہ جب اپنے ملک میں حالات خراب ہوں تو دوسرے پر الزام لگانا آسان ہوتا ہے پاکستان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ہے بھارت میں دہشتگردی کرائے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت اتنا کمزور ہونے کے باوجود ابھی تک قائم ہے اور ٹوٹا کیوں نہیں ۔بھارت کو اپنی خامیاں دور کرنی چاہیں ۔دیکھنا ہو گا کہ طالبان کا نیا امیر امور کو کیسے چلاتا ہے لیکن بہتر نتائج کی توقع رکھنی چاہیے۔سابق سربراہ آئی ایس آئی پنجاب برگیڈئیر(ر)اسلم گھمن نے کہا کہ الزام لگانا بھارت کا شیوہ ہے پاکستان خود دہشتگردی کا شکا ہے وہ کسی دوسرے ملک میں دہشتگردی کیوں کرے گا۔طالبان کے نئے امیر ملا منصور کو طالبان کے تمام دھڑوں کو متحد کرنا سب سے بڑ ا چیلنج ہو گا۔امید ہے کہ ملا منصور اختر مثبت پالیساں لائے گا کیونکہ یہ پہلے بھی بات چیت کے حق میں تھا اور امریکہ،چین اور پاکستان میں کامیاب مذاکرات چاہتے ہیں ۔لگتا ہے کہ ملا منصور اختر ملا عمر کے ویژن کو لے کر چلے گا۔پاکستان میں پاک آرمی کی کاوشوں سے جس طرح دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ایک پر امن ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا،برگیڈئیر (ر)محمد یوسف نے کہا کہ طالبان کیساتھ مذاکرات خود طالبان،افغانستان،پاکستان اور امریکہ سب کے حق میں ہیں ۔ملا عمر اور جلال الدین افغانی کی بات تمام طالبان مانتے تھے نئے آنیوالے امیر کو اپنا اثرو رسوخ بنانے کیلئے وقت لگے گا۔بھارت نے ہمشہ پاکستان کیخلاف بات کی ہے،پہلے بھی ایسے الزامات لگائے جن کے جوابات ان کو اپنے گھر سے ملے تھے ،پاکستان پر گوردسپور میں حملے کا الزام بے بنیا دہے،دنیا بہت ترقی کر گئی بھارت کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید : صفحہ اول