ایوان عدل کی سڑک پارکینگ سٹینڈ میں تبدیل

ایوان عدل کی سڑک پارکینگ سٹینڈ میں تبدیل

 لاہور(کامران مغل) لاہور بار ایسوسی ایشن نے پارکنگ کے لئے مناسب جگہ نہ ملنے پرایوان عدل کے باہر سٹرک پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے لئے پارکنگ بنالی ،گھنٹوں ٹریفک جام رہنے سے شہریوں کوسخت دشواری کا سامنا کرنا پڑرہاہے جبکہ سیشن کورٹ کے باہر بھی قائم موٹرسائیکل سٹینڈ کی وجہ سے ساندہ کو جانے والی سڑک پر ٹریفک جام رہنے لگی ہے جس کی وجہ سے پیپلز ہاؤس میں جانے والی گاڑیاں بھی یہاں پر پہنچ کر اپنی منزل مقصود تک کامنٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنے پر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور بار ایسوسی ایشن نے ایوان عدل کے باہر موجود سڑک سمیت دیگر کچہریوں کے قریب مختلف جگہوں پر پارکنگ کو ٹھیکے پر دے رکھا ہے جس کی مد میں تقریبا1کروڑ سے زائدکی رقم بار کو موصول ہورہی ہے،متاثرہ افراد نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ موجودہ موٹرسائیکل سٹینڈ کو ختم کرکے کسی دوسری جگہ منتقل کرکے انہیں درپیش مشکلات کا آزالہ کیا جائے ۔تفصیلات کے مطابق 100 سے زائد سول عدالتوں پر مشتمل ایوان عدل میں سائلین اور وکلاء کی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں کھڑی کرنے کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے جس کے باعث ایوان عدل کے تینوں داخلی راستوں کی سڑکوں پر وکلاء نے پارکنگ بنالی جہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے داتا دربار کی جانب جانے اور آنے والی ٹریفک کو انتہائی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔صبح 9:00 بجے سے ہی ایوان عدل کے باہر دونوں اطراف کی سڑک پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں جبکہ دو ٹریفک وارڈن وہاں پر ٹریفک کو جاری رکھنے کے لئے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ ٹریفک کو جاری رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔عدالت میں جانے کے لئے وکلاء جہاں دل چاہے اپنی گاڑی کھڑی کرکے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا گزرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق لاہور بار ایسوسی ایشن نے سڑک کو بطور پارکنگ استعمال کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایوان عدل اور سیشن کورٹ کے باہر سٹینڈ کا باقاعدہ ٹھیکہ دے رکھا ہے جس سے لاکھوں روپے بار کو موصول ہوتے ہیں ۔شہریوں حسن ،نعیم ،عبداللہ، اور ناصر بھٹی نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کو چاہئے کہ وہ عدالتوں میں آنے والے سائلین اور وکلاء کے لئے کوئی مستقل پارکنگ بنائیں تاکہ لوئر مال،کریشن نگر روڈ سے گزرنے والی گاڑیوں کو پریشانی نہ ہو علاوہ ازیں کرشن نگر کو جانے والی سڑک پر پیپلز ہاؤس کا اور سول سیکرٹریٹ کا گیٹ بھی واقع ہے جہاں پر سٹینڈ پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیوں کے کھڑے ہونے کی وجہ سے نہ صرف روڈ بلاک ہونے کے وجہ سے کرشن نگر اور ساندہ کو جانے والی ٹریفک کو پریشانی کا سامناکرنا پڑتا ہے بلکہ پیپلز ہاؤس اور سیکرٹریٹ میں جانے اور نکلنے والی گاڑیاں بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ جاتی ہے حکومت پنجاب کو چاہئے کہ وہ عدالتوں کے لئے پارکنگ کا بندوبست کرے ۔صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری اشتیاق خان نے نمائندہ"پاکستان "سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایوان عدل سے ملحقہ متروکہ وقف املاک پنجاب کا دفتر ہے جس کا صحن اتنا بڑا ہے کہ وہاں پرسینکڑوں گاڑیاں کھڑی کی جا سکتی ہیں لیکن یہاں پر بھی حکومت کی جانب سے جگہ فراہم نہیں کی جارہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی پنجاب کو متعدد بار پارکنگ کے مسئلہ پرسمری بھجوائی گئی جوپہلے فروری میں اور دوبارہ یاددہانی کے لئے مارچ میں سمری ارسال کی گئی ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوسکا ہے جبکہ وہ اس مسئلہ کے حوالے سے گورنرپنجاب ،فیڈرل لاء منسر،ڈی سی و ،کمشنر سمیت دیگر اعلی حکام کو بھی آگاہ کرچکے ہیں لیکن مسئلہ جوں کو توں ہی ہے ،انہوں نے کہا کہ سیشن کورٹ میں 400گاڑیوں کی پارکنگ زیرتعمیر ہے جو 3سے 4ماہ میں مکمل ہوجائے گی جس کے بعد کافی حد تک ٹریفک کے مسئلہ پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی ۔اس حوالے سے سابق سیکرٹری لاہور بار کامران بشیر مغل کا کہنا ہے کہ حکومت وقت جان بوجھ کر وکلاء کے ہرکام کو التواء کاشکار کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک امر ہے انہو ں نے مزید کہا کہ اگر حکومت وکلاء کو پارکنگ کی جگہ فراہم کردیں تو اس سے ٹریفک کا مسئلہ بخوبی حل ہو سکتا ہے اور عوام الناس کی مشکلات میں بھی کمی آسکے گی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1