ملا محمد عمر نے نیٹو فورسز کو شکست دے کر مسلم اُمہ کا سر فخر سے بلند کر دیا ،حافظ سعید

ملا محمد عمر نے نیٹو فورسز کو شکست دے کر مسلم اُمہ کا سر فخر سے بلند کر دیا ...

 لاہور( نمائندہ خصوصی )امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ افضل گورو کی طرح یعقوب میمن کو بھی بھارتی عوام کا اجتماعی ضمیر مطمئن کرنے کیلئے پھانسی دی گئی۔ملا محمد عمر نے امریکہ اور نیٹو فورسز کو شکست دے کر مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ مسلم حکمران اسلام دشمن قوتوں سے دوستیاں نبھانے کی بجائے قرآن سے رہنمائی لیکر پالیسیاں ترتیب دیں۔ آج یکم اگست سے ملک گیر احیائے نظریہ پاکستان مہم شروع کریں گے۔ چاروں صوبوں و آزاد کشمیر میں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ بھارت سے یکطرفہ دوستی کی خاطرکشمیریوں کا اعتماد مجروح کرنا افسوسناک ہے۔جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے کہاکہ بھارت میں ممبئی حملوں کے مبینہ ملزم یعقوب میمن کو صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر پھانسی دی گئی۔ ان کی پھانسی کے خلاف پورے بھارت میں آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور ہندوستانی عدلیہ کے جج بھی یہ فیصلہ سنانے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن جس طرح افضل گورو کو پھانسی کی سزا سناتے وقت ججوں نے لکھا تھا کہ قانون کی روسے پھانسی کی سزا نہیں بنتی لیکن بھارتی عوام کا اجتماعی ضمیر مطمئن کرنے کیلئے ہم یہ سزا سنانے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا کے حوالہ سے بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ یعقوب میمن نے اپنے وصیت نامہ میں لکھا ہے کہ قائداعظم کی جانب سے قیام پاکستان کی تحریک اٹھا نا درست فیصلہ اور برصغیر کے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان تھا۔ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ ہندوستان میں کچھ لیڈروں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی۔ آج اگر میں پاکستان میں ہوتا تو مجھے کبھی پھانسی کی سزا نہ سنائی جاتی۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ اتحادی ممالک نے ملامحمد عمر سے کہا تھا کہ آپ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کر دیں اور کچھ مزید مطالبات تسلیم کر لیں تو ان کی حکومت بھی برقرار رہے گی اور افغانستان میں ترقیاتی کام بھی کروائے جائیں گے لیکن افغان طالبان کے امیر نے کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا اور نہ ہی اپنے اقتدار کی پرواہ کی بلکہ صاف طور پر کہاکہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اسلام مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا‘ اس لئے آپ کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ ایک طرف ملامحمد عمر اور دوسری جانب پاکستانی حکمرانوں کے کئے گئے فیصلے ہیں۔ تاریخ یہ دونوں کردار محفوظ رکھے گی۔

مزید : صفحہ آخر