بھارت کو بتا دیا پاکستان ہر قسم کی جارحیت اور دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے سکتا ہے،سرتاج عزیز

بھارت کو بتا دیا پاکستان ہر قسم کی جارحیت اور دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے سکتا ...

  

 اسلام آباد(آن لائن ،اے این این) وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاک بھارت مذاکرات کا حصہ ہیں،قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات میں بھی اس مسئلے پر بات ہو گی،بھارتی را کی ملک میں مداخلت کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے،پاک بھارت مذاکرات کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اٹھائیں گے۔ جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھارت کی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت پر بھارت سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان میں را کی مداخلت کا معاملہ بھارت اور دیگر ممالک کے سامنے بھی اٹھایا ہے ا ور وزیراعظم نواز شریف بھارتی مداخلت کا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے، اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت کا معاملہ قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس کے دوران بھی اٹھاجائے گا۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ مارچ میں پاک بھارت سیکرٹری خارجہ سطح کی ملاقات میں بھی فاٹا،بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی کی مداخلت کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ہم نے یہ معاملہ متعدد ممالک کی قیادت کے سامنے رکھا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بھارتی پنجاب کے علاقے گورداسپور میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ہم اس ضمن میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ بھارت کو بتا دیا ہے پاکستان ہر قسم کی جارحیت اور دھمکی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سرتاج عزیز

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی کوبتایا گیاہے کہ سہ فریقی معاہدے کے تحت پاکستان میں موجود افغان مہاجرین 31 دسمبر 2015ء تک رضا کارانہ وطن واپس چلے جائیں گے ٗ پالیسی آئندہ ماہ تک مرتب کر کے کابینہ میں منظوری کے لئے پیش کر دی جائے گی ٗکویت میں مقیم پاکستانیوں کے ویزے کی مشکلات حل کرنے کیلئے پاکستانی وزیر اعظم نے کویتی ہم منصب کے سامنے اٹھایا ہے ٗ حکومت مصنوعات کی لاگت کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، کوشش ہے خام کپاس کی برآمد کی بجائے زیادہ سے زیادہ ویلیو ایڈیشن کے بعد مصنوعات برآمد کی جائیں جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے بچوں اور خواتین سے جبری مشقت کے خاتمے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات ایوان میں پیش کر نے کی ہدایت کی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلا س میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے بتایا کہ مالی سال 2013-14ء کے لئے متحدہ عرب امارات کیلئے پاکستانی برآمدات 17 لاکھ امریکی ڈالر ہیں جو کہ 6.8 فیصد بنتا ہے، پولٹری مصنوعات کی برآمد پر پابندی ہے۔ انجینئر بلیغ الرحمن نے بتایا کہ خام کاٹن کی برآمد جتنی کم ہو گی اتنا فائدہ ہو گا، جتنی اندرون ملک استعمال ہو بہتر ہے تاکہ ویلیو ایڈیشن کے بعد یہ مصنوعات برآمد ہوں، یہ حقیقت ہے کہ لاگت زیادہ ہے اس کے لئے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے، سبسڈیز بڑھائی جا رہی ہیں، وزیراعظم نے منظوری دی ہے، بجلی کی کمی سے بھی مسائل کا سامنا ہے اس کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری شاہین شفیق نے تبایا کہ رجسٹرڈ افغان شہری سہ فریقی معاہدے کے تحت 31 دسمبر 2015ء تک وطن واپس جائیں گے اس وقت 16 لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ اتنے ہی غیر رجسٹرڈ ہیں، رضا کارانہ واپسی کے ضمن میں ایک مشترکہ جامع پالیسی مرتب کی جائے گی، یہ پالیسی آئندہ ماہ بنائی جائے گی اور منظوری کے لئے کابینہ کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو نقل و حمل اور موبی کیش کے 10 ہزار اور 25 ہزار روپے مل رہے ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ان کو نہیں دیں گے۔ وقفہ سوالات کے دوران عائشہ سید کے سوال کا جواب نہ آنے پر سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جس طرح وزیر داخلہ نے وقفہ سوالات میں جواب نہ آنے پر ذمہ داروں کو معطل کیا ہے اسی طرح وزیر امور کشمیر بھی مناسب کارروائی کریں جبکہ وزیر امور کشمیر نے کہا کہ ان کے پاس اس کا جواب موجود ہے تاہم سیکرٹریٹ کو آگاہ نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے اس کا نوٹس لیا ہے، پیر تک آگاہ کر دیا جائے گا۔مزمل قریشی کے سوال میں سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ جی سی سی ممالک میں اس وقت تقریباً 38 لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا ارو چین کے مقابلے میں پاکستانی افرادی قوت کا تناسب مناسب ہے تاہم مذکورہ خطہ میں افرادی قوت کی برآمد کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری شفقت حیات نے کہاکہ کویت میں مقیم پاکستانیوں کے ویزے کی مشکلات حل کرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان نے کویت کے وزیراعظم کے سامنے مسئلہ اٹھایا، سپیکر قومی اسمبلی نے کویتی حکومت سے بات کی مگر کویت میں مقیم پاکستانیوں کے اہل خانہ کو ویزے جاری نہیں کئے جا رہے۔ سپیکر نے کہاکہ انہوں نے کویت کے دورے کے موقع پر انہوں نے اس مسئلے پر کویت کے سپیکر، امیر اور وزیراعظم سے بات کی انہوں نے کہا تھا کہ وزارت داخلہ یقین دہانی کرائے کہ کویت میں کوئی غلط آدمی داخل نہ ہو سکے، وزارت داخلہ نے کویتی وزیر داخلہ کو دعوت بھیج دی ہے توقع ہے اس کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا پارلیمانی سیکرٹری شفقت حیات بلوچ نے کہا کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج سیل کی تشکیل کی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران او ای سی کی جانب سے بیرون ملک روزگار کے لئے کل 7 ہزار 240 افراد بھیجے گئے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ کویت نے اس وقت وہاں رہائش پذیر پاکستانیوں کے ویزوں کی تجدید نہیں روکی گئی ہے تاہم دہشت گردی کی وجہ سے پاکستانیوں کو اپنے رشتہ داروں کو بلانے کی اجازت لینا ہے، پاکستان کے علاوہ ایران، عراق، افغانستان، یمن اور شام کے شہریوں پر بھی یہی پابندی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ کویتی وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ اس کو جلد حل کیا جا سکے۔ شیخ صلاح الدین کے سوال کے جواب میں شفقت حیات بلوچ نے بتایا کہ ملک میں خواتین اور بچوں کی جبری مشقت کا موضوع صوبوں کو تفویض کر دیا گیا ہے۔ سپیکر نے ہدایت کی کہ یہ اہم معاملہ ہے ہے اس پر چاروں صوبوں سے جواب لے کر ایوان کو آگاہ کیا جائے کہ صوبے جبری مشقت کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -