فلڈ کمیشن کی جوڈیشل انکوائری پر عملدر آمد نہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

فلڈ کمیشن کی جوڈیشل انکوائری پر عملدر آمد نہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل فلڈ کمیشن کی جوڈیشل انکوائری پر عملدرآمد نہ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔درخواست میں کمیشن کی رپورٹ نظرانداز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔ ہیومن سیفٹی کمیشن کے چیئرمین پیر علی گیلانی ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان 2010ء سے بدترین سیلاب کا شکار ہے، 2010ء میں حکومت کی درخواست مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے سیلاب اور اس کے نقصانات سے بچاؤ کیلئے سفارشات دیں اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب سرکاری افسروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے فلڈ کمیشن کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے رواں برس بھی پاکستان بالخصوص پنجاب بدترین سیلاب کا شکار ہے، سیلاب کے باعث درجنوں انسانی جانیں اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت فلڈ کمیشن کی رپورٹ پر من و عن عملدرآمد کرتی تو سیلاب بچا جا سکتا تھا بلکہ انسانی جانوں ، علاقوں اور فصلوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا تھا، درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ فلڈ کمیشن کی رپورٹ پر من و عن عملدرآمد کا حکم دیا جائے اور رپورٹ کونظرانداز کر کے مجرمانہ غفلت کے مرتکب سرکاری افسروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری آبپاشی،سیکرٹری زراعت، سیکرٹری لائیو سٹاک، ڈائریکٹر جنرل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکرٹری صحت کو فریق بنایا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر