افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حامی ہیں ،سراج الحق

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حامی ہیں ،سراج الحق

 لاہور( نمائندہ خصوصی )امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملاعمر کی وفات طالبان کیلئے بڑا دھچکہ ہے مگر ان کی تنظیم ایسی ہے کہ وہ متحد رہیں گے اور اپنی صفوں میں انتشار کو داخل ہونے کا موقع نہیں دیں گے ۔طالبان کا اتفاق و اتحاد سے رہنا نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کیلئے ضروری ہے ،اگرطالبان منتشر ہو گئے تو انتشار بڑھے گا ۔افغان طالبان نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ثبوت دیا ،بھارت نے بارہا کوشش کی کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال اور دونوں ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں مگر اس کی تمام سازشیں ناکامی سے دوچار ہوئیں ۔پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ملک اور یک جان دو قالب ہیں ۔کابل اور اسلام آبادکا مستقبل ایک ہے ۔ہم افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حامی ہیں ،مذاکرات کے تعطل کو جلد از جلد ختم اور مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہونا چاہئے ۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکمران عوام کے مسائل کی طرف توجہ دیں ۔الیکشن ریفارمز کے بغیر انتخابات بے معنی ہوکر رہ جائیں گے ،ہندوستان میں مسلمانوں کو سیاسی بنیادوں پر پھانسیوں پر لٹکایا جارہا ہے ،مقبول بٹ سے لیکر یعقوب میمن تک قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے ملک میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے لوگوں کو سیلاب سے بچانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ۔حکمرانوں کے اپنے کارخانے اور بنگلے بن گئے ہیں مگر کوئی ڈیم بنااور نہ تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی اپنی دولت باہر کے بنکوں میں پڑی ہے اور قومی سرمایہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے ذریعے ملک سے باہر منتقل کیا جارہا ہے ، حکمرانوں کا اپنا کاروبار لندن ،ملائشیاء اور سعودی عرب میں پھیلا ہوا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ملک 22خاندانوں کے نرغے میں ہیں ان خاندانوں کے پانچ سو لوگوں نے ریاست ،سیاست ،جمہوریت اور معیشت پر قبضہ جمارکھا ہے اور عام آدمی کو زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتوں سے محروم کررکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہو یا آمریت ان خاندانوں کے وارے نیارے ہوتے ہیں،حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ہماری آئندہ نسلیں قرضوں کے جال میں پھنس گئی ہیں ،حکمرانوں نے ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں آئی ایم ایف کی غلامی کی زنجیریں پہنا دی ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر