پاک فوج بھارتی پالیسی سازوں کو روکنے کیلئے کافی مضبوط ہے،کسی بھی فوجی حساب کو یکسر بدل سکتی ہے:رپورٹ

پاک فوج بھارتی پالیسی سازوں کو روکنے کیلئے کافی مضبوط ہے،کسی بھی فوجی حساب ...
پاک فوج بھارتی پالیسی سازوں کو روکنے کیلئے کافی مضبوط ہے،کسی بھی فوجی حساب کو یکسر بدل سکتی ہے:رپورٹ

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) عمومی طورپر پاکستان اور بھارت کی افواج کا تقابلی جائزہ لینے کا سوال شہریوں کے ذہن میں ہوتاہے لیکن اب اس سوال کا جواب برطانوی جریدہ سامنے لے آیا جس نے لکھاہے کہ پاک فوج بھارتی پالیسی سازوں کو روکنے کیلئے روایتی لحاظ سے کافی مضبوط ہے،بھارت کی طرح پاکستان بھی جوہری طاقت ہے جو کسی بھی فوجی حساب کتاب کو یکسر تبدیل کرسکتا ہے۔

برطانوی جریدے ”دی اکنانومسٹ“ نے لندن کے کنگز کالج کے والٹر لیڈوگ کے تحقیقی مقالے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ گورداسپورکا تازہ ترین حملے کاوقت واضح کرتا ہے کہ جب کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہونے لگتے ہیں ،کوئی سپانسرشدہ دہشت گردی کا عمل دونوں ممالک کے زخموں کو دوبارہ ہرا کردیتا ہے۔بھارت میں یہ قیاس آرائیاں تھی کہ اوفا میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات صرف بین الاقوامی برادری کو دکھانے کیلئے تھی ،بھارت کی طرف سے یہ کوشش امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کی گئی تھی کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسائل اور کشیدگی اس کی پیدا کردہ نہیں جبکہ پاکستان چین کو یہ دکھانا چاہتا تھا کیونکہ چین چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان اور بھارت تعاون کریں اور اس کے لئے بھی کہ چین نے پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔وسیع پیمانے پر تجارت اور سرمایہ کاری روابط میں کمی کی وجہ سے اقتصادی دباﺅ بھی دو ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت کو تعلقات بہتر کرنے پرمجبورکرتا ہے، معمولی قسم کا فوجی رد عمل بھی بے قابو خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

جریدے کے مطابق نواز شریف خود قومی سلامتی کے معاملات پر پالیسی کا تعین نہیں کرتے۔ مودی کی راہ میں دوہری رکاوٹیں ہیں، اول معیشت کی ترقی کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا اور ملکی مفادات کے لئے کھڑے ہونا اور اشتعال انگیزی سے جواب دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست میں انجماد اور کھلاﺅکے درمیان پگھلاﺅ کی مدت انتہائی مختصر ہوتی ہے ،بھارت اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین مفاہمت کے لمحے تو انتہائی مختصر ٹھہرے۔گیارہ جولائی کو روس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اوران کے ہم منصب نواز شریف نے علاقائی کانفرنس کے موقع پر مشترکہ بیان پر دستخط کیے جسے ایک اہم پیش رفت قراردیاگیا۔ اس بیان میں دونوں اطراف کی جیلوں سے ماہی گیروں کو آزاد کرنے، قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات اور مودی کا آئندہ برس سارک کانفرنس کے موقع پر پاکستان کا دورہ شامل تھا جو کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا 2004کے بعد پہلا دورہ ہوتا۔دونوں رہنما اپنے ممالک کو لوٹے ہی تھے کہ موڈ تلخ ہوگیا۔

روزنامہ جنگ نے ’دی اکانومسٹ ‘ کے حوالے سے لکھاکہ گورداسپور حملہ،پاکستان کی طرف سے ڈرون کا گرانا، لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور پشاورسکول حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت جیسے واقعات میں اوفا میں پیش رفت ایک رعایت لگ رہی ہے۔اس کے باوجود دونوں وزرائے اعظم نے کوشش کی۔

مزید :

قومی -Headlines -