شاہد خاقان عباسی کو آج وزیر اعظم منتخب کیا جائیگا

شاہد خاقان عباسی کو آج وزیر اعظم منتخب کیا جائیگا

قومی اسمبلی آج نئے قائد ایوان( وزیر اعظم) کا انتخاب کرے گی، اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ن) نے شاہد خاقان عباسی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں پٹرولیم کے وزیر تھے اور چھ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، وہ پہلی بار 88ء میں اپنے آبائی حلقے مری سے رکن منتخب ہوئے تھے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں انہیں اپوزیشن کی کئی دوسری چھوٹی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے، کاغذات نامزدگی تو نوید قمر نے بھی داخل کئے ہیں لیکن وہ بظاہر کورنگ امیدوار ہیں اور اپنے کاغذات واپس لے لیں گے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو تحریک انصاف نے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، اس وقت جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں بعض نامور سیاستدان یہ کوشش کررہے ہیں کہ حزبِ اختلاف کا متفقہ امیدوار لایا جائے اگر ایسا ہوگیا تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ شیخ رشید اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں گے۔ بصورتِ دیگر حزب اختلاف کا متفقہ امیدوار سامنے نہیں آسکے گا، کیونکہ پیپلز پارٹی نے شیخ رشید کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔

قائد ایوان کا انتخاب قومی اسمبلی کے حاضر ارکان کرتے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ منتخب امیدوار کو پورے ایوان کی مجموعی تعداد کی اکثریت کا ووٹ حاصل ہو، اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان342 ارکان پر مشتمل ہے جس رکن کو بھی 172ارکان منتخب کریں گے وہ قائد ایوان ہوگا، ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے اپنے ارکان کی تعداد 188 ہے تاہم اتحادی پارٹیوں نے بھی شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے اس لئے امید کی جارہی ہے کہ وہ 210 سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہو جائیں گے، دوسری جانب اگر حزب اختلاف کا متفقہ امیدوار ہوا تو اندازہ ہو جائیگا کہ کون کون سی جماعت اس اتحاد میں شامل ہے اور اگر دو امیدواروں نے انتخاب لڑا تو پتہ چل جائیگا کہ اتحاد کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی پارلیمانی سیاست بھی اپنی اپنی ہے۔ شیخ رشید احمد کی امیدواری کا اعلان ذرا عجلت میں کردیا گیا تھا حالانکہ وہ قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کے واحد نمائندے ہیں۔ ایک ذاتی ووٹ رکھنے والے امیدوار کے پیچھے بڑی جماعتیں کیوں کھڑی ہوں گی؟ یہ سوال اگرچہ اہم ہے لیکن تحریک انصاف اور شیخ رشید احمد کے درمیان اس وقت جو اتحاد چل رہا ہے غالباً اس کا تقاضا ہے کہ تحریک انصاف یہ تاثر دے کہ وہ شیخ رشید احمد کی حمایت میں کھڑی ہے۔

دراصل یہ انتخاب ایسا ہے جس کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہے یہ کوئی ایسا الیکشن نہیں ہے جس میں حصہ محض جیتنے کے لئے لیا جائے یہ جمہوری عمل کی ایک ناگزیر مشق ہے یعنی امیدوار اور ان کی جماعتیں نتیجے کے بارے میں یقین ہونے کے باوجود انتخاب کا تکلف کرتی ہیں۔ لیکن حزب اختلاف کے دو امیدواروں کی موجودگی بذاتِ خود یہ ثابت کرتی ہے کہ حزبِ اختلاف کے اتحاد کی عملی صورت کیا ہے، گزشتہ شب تحریک انصاف نے اسلام آباد میں نواز شریف کی نااہلی پر یوم تشکر کا جو جلسہ کیا اس میں دوسری باتوں کے علاوہ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اب نااہلی کی باری زرداری کی ہے۔ جلسہ عام میں یہ بات کہنے کے بعد اب اگر وہ خورشید شاہ سے یہ امید رکھیں کہ وہ اتحاد کا تاثر دینے کے لئے شیخ رشید احمد کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے تو یہ سیاسی سوچ کی پختگی کا مظاہرہ نہیں ہوگا، ابھی چند دن پہلے ہی عمران خان خورشید شاہ سے بہت خوش تھے اور ہمارا خیال تھا کہ وہ دن لدگئے جب وہ شاہ صاحب کو وزیر اعظم کامنشی کہہ کر بلاتے تھے لیکن تقریر سن کر اندازہ ہوا کہ سیاستدانوں کا ماضی آسانی کے ساتھ ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا، وہ زرداری کو چور اور ڈاکو بھی کہتے رہتے ہیں بلکہ جس اسمبلی میں آج انتخاب ہورہا ہے اس پوری اسمبلی کی شان میں جو جو قصیدہ انہوں نے 2014ء کے دھرنے میں پڑھا اگر اسے ایک جگہ جمع کیا جائے تولغت میں مغلظات کا ایک عظیم ذخیرہ وجود میں آسکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں آج قائد ایوان کا انتخاب پاکستان کے آئین اور پارلیمانی روایات کے مطابق ہور ہا ہے، جو نظام اس وقت ہمارے ملک میں رائج ہے اس کے مطابق اکثریتی جماعت کو ہی حکومت بنانے کا حق ہے اور اسی اصول کے تحت قائدایوان کا انتخاب بھی ہوتا ہے۔ اکثریت کی حکومت کا یہ اصول جن لوگوں کو پسند نہیں وہ اپنی آرا بھی وقتاً فوقتاً سامنے لاتے رہتے ہیں، صدارتی نظام کے حق میں بھی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں ابھی چند دن پہلے ہی عمران خان نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ذاتی طور پر صدارتی نظام کے حق میں ہیں، سیاستدانوں یا بعض اداروں کی رائے اپنی جگہ لیکن آئین کے تحت پاکستان میں اس وقت پارلیمانی نظام ہی رائج ہے اور جب تک اس میں آئینی طریق کار کے تحت کوئی تبدیلی نہیں آتی یہی طرزِ حکومت چلے گا اس لئے سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا جمہوری فرض ہے کہ وہ اس نظام کو مستحکم کریں اور ایسا کردار ادا کریں جس سے مضبوط جمہوری ادارے وجود میں آئیں جن سے ملک مضبوط ہو اور قوموں کی برادری میں سربلند ہو۔

عدالت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ایک حکومت ختم ہوئی ہے تو آج ایک نئی حکومت کا سربراہ منتخب ہورہا ہے، اسی اصول کے تحت ملک کا نظام چل رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ اس لئے سیاستدانوں اور ارکانِ اسمبلی کا فرض ہے کہ وہ اس نظام کی مضبوطی کے لئے کردار ادا کریں اور ایسی روش اختیار نہ کریں جو نظام کو کمزور کرے، سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں سیاسی مصلحتوں کے تحت جو زبان استعمال کی جاتی ہے اس کا پیرا یہ بھی بہتر ہونا چاہئے جو بھی حکمران ہوگا اگر اس کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس کے لئے بہت سے فورم موجود ہیں متوقع وزیر اعظم کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرنا جو توہین آمیز ہو کسی طرح بھی مستحسن نہیں، جس کسی کو شکایت ہے اور اس کے پاس اس کے حق میں شواہد موجود ہیں وہ قانونی اور آئینی فورموں پر اپنا حق استعمال کرسکتا ہے سیاسی جلسوں میں اخلاق سے گری ہوئی زبان کا استعمال درست نہیں ہے۔منتخب نمائندوں کا احترام ہر صورت میں لازم ہے۔ اختلافات اپنی جگہ لیکن پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ باہمی احترام جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔سیاست میں لوگ جس جماعت یا شخصیت پر تنقید کرتے ہوئے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرجاتے ہیں، بعض اوقات انہیں اسی جماعت اور شخصیت کے ساتھ سیاست کرنا پڑتی ہے۔ شیخ رشید کی مثال سامنے ہے جنہیں عمران خان شیدا ٹلی کہہ کر بلاتے رہے اور کہتے رہے کہ وہ جس طرح کے کامیاب سیاستدان ہیں، میں ایسا نہیں بننا چاہتا، میں تو اسے چپڑاسی بھی نہ رکھوں لیکن اللہ رب العزت کی شان ہے کہ آج اسی عمران خان نے شیخ رشید کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنا دیا۔

مزید : اداریہ