ریلوے کراسنگ پر حادثات کی روک تھام کیسے ہو؟

ریلوے کراسنگ پر حادثات کی روک تھام کیسے ہو؟

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے ریلوے کراسنگ پر پھاٹک لگا کر آئے روز ہونے والے حادثات کی روک تھام کے لئے اپنے حصے کی رقوم ادا نہیں کی ہیں۔وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے دونوں صوبوں کے چیف سیکرٹری صاحبان سے بار بار رابطہ کیا اور خطوط بھی لکھے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پھاٹک کے بغیر ریلوے کراسنگ کی تعداد 133ہے جن میں 37ریلوے کراسنگ کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے جبکہ بلوچستان میں پھاٹک کے بغیر ریلوے کراسنگ کی تعداد 86ہے جن میں سے 32ریلوے کراسنگ ایسے ہیں جنہیں انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری پھاٹک لگانے کی سفارش کی گئی تھی۔ ریلوے کراسنگ کی دو اقسام ہیں۔ بعض ریلوے کراسنگ پر ریلوے کا ملازم موجود ہوتا ہے لیکن کراسنگ پر کوئی پھاٹک موجود نہیں ہوتا، ریلوے ملازم کراسنگ پر سرخ جھنڈی کے ذریعے ٹریفک کنٹرول کر کے ٹرین گزارتا ہے۔ دوسری اقسام کے ریلوے کراسنگ پر کوئی پھاٹک نہیں ہوتا۔ کوئی ریلوے ملازم بھی وہاں تعینات نہیں کیا جاتا ہے۔ پورے ملک میں ریلوے کراسنگ کی تعداد 3987 ہے، جن میں سے 2470 کراسنگ پر کوئی ریلوے ملازم تعینات نہیں جبکہ 1517 ریلوے کراسنگ ایسے ہیں، جہاں باقاعدہ ملازمین تعینات ہیں۔ ریلوے کراسنگ پر ہونے والے حادثات میں بعض اوقات جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد درجنوں ہوتی ہے تاہم دس بارہ افراد کا جاں بحق ہونا معمول کی بات ہوتی ہے۔ (زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی ہے)۔ ریلوے کراسنگ پر پھاٹک کی تعمیر کے لئے رقوم کی ادائیگی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن اس جانب عمومی طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ریلوے کراسنگ پر پھاٹک تعمیر کرنے کے لئے 586 ملین کی ادائیگی بار بار یاد دہانیوں کے باوجود نہیں کی گئی یہ رویہ درست نہیں پنجاب اور سندھ کی حکومتیں اپنے حصے کی کچھ رقوم ادا کر چکی ہیں۔ اس رقم سے پھاٹک لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ بقیہ رقم بھی جلد ادا کی جائے۔ نادہندہ دو صوبوں کو بھی چاہئے کہ عوام کی حفاظت کے لئے رقوم جلد ادا کریں اور مزید کسی بے حسی اور غیر ذمے داری کا ثبوت نہ دیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر حکومتوں کی جانب سے معمول کے مطابق رقوم خرچ کی جاتی ہیں، ریلوے کراسنگ پر حادثات کی روک تھام بے حد ضروری ہے کہ انسانی جانوں کا نقصان ہی نہیں ہوتا، محکمہ ریلوے کو بھی انجنوں اور ٹریک کی مرمت پر بھاری رقوم خرچ کرنا پڑتی ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان بیشتر ریلوے ٹریک پہاڑی علاقوں سے گزرتا ہے وہاں اگر کراسنگ پر پھاٹک نہ ہو اور کوئی ریلوے ملازم بھی تعینات نہ ہو تو ایسے کراسنگ پر حادثات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے پھاٹک نصب کرنے پر حکومتوں کو زیادہ مالی بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتا، نہ ہی خیبرپختونخوا یا بلوچستان کی حکومتیں اتنی غریب ہیں کہ وہ اپنے حصے کی رقوم ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ اصولی طور پر تو متعلقہ وزرائے اعلیٰ کو نوٹس لینا چاہئے کہ رقوم کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا گیا اور فوری طور پر مطلوبہ رقوم ادا کرنے کی ہدایت کی جائے۔ شہریوں کی جانب سے کسی بھی وقت مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہونے والے اعلیٰ حکام کے خلاف ہرجانے کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

مزید : اداریہ