ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت کے احسن اقدامات

ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت کے احسن اقدامات
 ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت کے احسن اقدامات

  

حال ہی میں دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت کے زیراہتمام ’’ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے‘‘ منایا گیا۔ جس کے ذریعے سنسنی خیز اعداد و شمار اس مرض کے حوالے سے سامنے آئے ہیں جس نے ہر ذی ہوش کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ ’’عالمی ادارہ صحت‘‘ کے مطابق پوری دنیا میں 50 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں اور سالانہ اس مرض سے 10 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں 4 کروڑ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یومیہ 410 افراد اس سے دوچار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جب کہ سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس کی شرح دنیا کے دوسرے ممالک سے زیادہ ہے اور پاکستان کی کل آبادی کا 10 فیصد حصہ اس مرض میں مبتلا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کے لیے یہ اعداد و شمار غور طلب ہیں۔

صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے حوالے سے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اور پنجاب ہیپاٹائٹس ٹریٹمنٹ اینڈ کنٹرول پروگرام کے اشتراک سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف صوبہ سے بیماریوں کے خاتمہ کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ہیپاٹائٹس کے مرض پر قابو پانے اور اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی تشخیص و علاج کی سہولتیں مفت فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات جاری ہیں۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں خصوصی طور پر گیسٹرو انٹرولوجی کا شعبہ قائم کیا جا رہا ہے۔ 36 اضلاع میں ہیپاٹائٹس ٹریٹمنٹ اینڈ فلٹرکلینکس قائم کیے جا رہے ہیں۔ PKLI کا پہلا فیز دسمبر 2017 ء تک مکمل ہو جائے گا۔ اس موقع پر وزیر پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ اْن کے محکمے کا اصل فوکس بیماریوں کی روک تھام ہے جس کے تحت ایک مربوط پروگرا م شروع کر دیا گیا اور بیماریوں کی تشخیص اور آگاہی کے لیے سکریننگ کیمپس منعقد کیے جا رہے ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ صوبے سے غیر قانونی ،غیر معیاری بلڈ بینکوں اور غیر شفاف خون کے کاروبار کے خاتمے کے لئے سیف بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ کے نام سے قانون سازی کی جارہی ہے۔ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے سلسلہ میں قانون بنیادی کردا ر ادا کرے گا کیونکہ اس کے تحت صوبے سے مناسب سہولیات کے بغیر کام کرنے والے بلڈ بینک بند کر دئیے جائیں گے۔

ہیپاٹائٹس کا مرض جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس پر قابو پانے کے لئے حکومت، نجی شعبہ اور سو ل سوسائٹی کو مل کر Prevention پر توجہ دینا ہو گی تاکہ بیماری کے آگے بند باندھا جا سکے۔ موجودہ حکومت نے صحت کا بجٹ 200 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے لیکن اگر بیماریوں کی روک تھام کے لئے آگاہی پر توجہ نہ دی گئی تو یہ بجٹ بھی Peanutثابت ہو گا۔ بیماریوں کے علاج پر توجہ دینے کے ساتھ اصل کام بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ جس طرح ڈینگی کے خلاف پوری سوسائٹی مل کر کام کررہی ہے اسی طرح جنگی بنیادوں پر ہیپاٹائٹس کے خلاف بھی جنگ لڑنا ہو گی۔حکومت ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لئے PKLIسے مل کر بھرپور اقدامات کرے گی۔

تقریب میں موجود ڈاکٹر حضرات نے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پنجاب اورسول سوسائٹی سے مل کر اس مرض پر قابو پانے کے لئے بھرپور مہم چلائیں گے جس میں اولین ترجیح بیماری کے بارے میں آگاہی اور روک تھام پر ہوگی۔ ہم ایک آتش فشاں کے کنارے کھڑے ہیں۔ اس وقت ہرخاندان میں کم از کم ایک مریض ہیپاٹائٹس کا موجود ہے۔ بار بار انجکشن لگوانے، زیادہ مقدار میں ادویات کا استعمال ، غیر شفاف اور آلودہ آلات سے آپریشن، دانت نکلوانے،کان اور ناک چھدوانے اور غیر مصفہ انتقال خون سے یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس میں سرنج کے ذریعے نشہ کرنے والے افرادسرفہرست ہیں۔

دو سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں اور ہمارا یہ ٹارگٹ ہے کہ 2017 کے آخر تک 100 فیصد بچوں کو کوریج دیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے خود فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب میں بچوں کو 9 مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن دی جائے جن میں ہیپاٹائٹس بھی شامل ہے۔ لہٰذاای بی آئی پروگرام میں ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے ٹیکہ جات شامل ہیں اور ایک مربوط پروگرام کے تحت بچوں کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔ہیپاٹائٹس کی تشخیص کے لیے پنجاب میں 12 جگہوں پر PCR سینٹر قائم کیے گئے ہیں اور مریضوں کے لیے فری کِٹس مہیا کی گئی ہیں جہاں پہلے ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہوتی ہے ، اسکے بعد PCR کی مدد مریض کا RNA ٹیسٹ ہوتا ہے جس کے بعد علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔

مزید : کالم