خدا نظر آتا ہے

خدا نظر آتا ہے
 خدا نظر آتا ہے

  

جنت نظیر وادی کے ہوش رُبا حسن نے مجھے اپنے سحر میں بُری طرح جکڑ لیا تھا، میرے چاروں طرف جادو نگار مناظر کاسیلاب اُمڈ آیا تھا، ہر گزرتے منظر کے ساتھ نشے، سرور اور سرشاری کی نئی لذت سے ہمکنار ہو رہا تھا، پھر ایسا منظر سامنے آیا،جہاں عظیم خالق کی جلوہ گری نقطہ عروج پر پہنچ گئی، ہما رے سامنے سر سبز و شاداب پہاڑوں کے درمیان رنگ برنگے پودوں، پھولوں اور پانی سے لبالب جھیل آگئی، میں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا اور چھلانگ لگا کر گاڑی سے نیچے اُترگیا اور دوڑ کر جھیل کنارے پہنچ گیا۔ یخ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میرے چہرے سے ٹکرانے لگے اور میں حالت جذب میں مہبوت ہو کر وادی کے حسن کا قطرہ قطرہ انجوائے کر نے لگا۔ سامنے جھیل کا یخ پانی، دور تک دائیں بائیں لہراتی سر سبز و شاداب پہا ڑیاں، کہیں کہیں پرا نی برف کی ڈھیریاں، آسمان پر سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی، پھر میں جھیل کنارے پتھر پر بیٹھ کر وادی کے منظر کا حصہ بن گیا، ماحول میں یخ ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ شگفتگی کی ٹھنڈی دو دھیا پھوار برس رہی تھی اور میں اندر تک شرابور ہورہا تھا، کاش میرا تعلق کسی خانہ بدوش قبیلے سے ہوتا تو ساری عمر اِسی وادی میں گزار دیتا۔ میں چند سال قبل بھی یہاں آیا تھا، آج پھر اِس وادی کے حسن لا زوال سے خو بصورتی کی بھیک لینے آیا تھا، میں نے بر طانیہ آتے ہی اپنے میزبان نور احمد سے کہا تھا کہ مجھے پھر اُسی جنت نظیر وادی میں لے کر جانا تو اُس نے شرارتی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا اِس با ر اُس وادی سے آگے بھی ہم نے جانا ہے، جہاں آپ اِس وادی کو بھی بھول جائیں گے جو بعد میں واقعی سچ نکلا، میں کافی دیر تک اپنی روح اور نظروں کو وادی کے لا زوال حسن سے سیراب کر تا رہا، جب ہلکی پھلکی بارش تیز بارش میں بدلنے لگی تو ہم گرم آرام دہ گاڑی کی طرف دوڑے، اب ہم مانچسٹر سے سکاٹ لینڈ کی طرف روانہ ہوئے جو لوگ مانچسٹر سے سکاٹ لینڈ کا سفر کر چکیہیں وہ یقیناً میری بات کی تائید کریں گے کہ بائی روڈ یہ دنیا کی خوبصورت ترین شاہراہ ہے، جہاں ہرگزرتا منظر آپ کو پہلا منظر بھلا دیتا آپ کی نظر نے اِس سے پہلے ایسے جادو نگار مناظر نہیں دیکھے ہوں گے، تارکول کی ہموار کشادہ سڑک پر جب آپ برق رفتاری سے سفر کرتے ہیں تو آپ کے دائیں بائیں سر سبزو شاداب بل کھاتی پہاڑیوں، اُن وادی نما پہاڑیوں پر دور دراز تک بھیڑ بکریاں، گائے گھوڑے اور دوسرے جانور چرتے ہوئے، آسمان پر سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی، کہیں دھوپ، کہیں چھاؤں، چاروں طرف قوس قزح کی طرح بکھر ے مناظر آپ کو جنت کی یاد دلا دیتے ہیں کہ اگر یہ مناظر اتنے خوبصورت ہیں تو جنت کیسی ہوگی؟

دوران سفر قیام و طعام پر گرما گرم کافی کے مگ، فریش پیزا اور لذیز فش برگر آپ کے سفر کو بھی یاد گار بنا دیتے ہیں، پھر جب برق رفتاری سے دوڑتی گرم آرام دہ گاڑی میں گرم کافی کے گھونٹ حلق میں انڈیلتے ہوئے، آپ خدا کے عظیم ترین مناظرکا لطف اٹھاتے ہیں تو بڑے سے بڑے منکرخدا کو بھی خدا کی خدائی کااقرار کرنا پڑتا ہے، پھر جب خدا کی یاد شدت سے آنا شروع ہوئی تو میں نے نور احمد سے کہا سورۂ رحمن کی تلاوت لگا دو، جس میں خالق کائنات بار بار فرماتے ہیں اور تم میری کون کون سی نعمت کو ٹھکراؤ گے۔ میرے چاروں طرف نیلے پیلے سرخ پھولوں کی برسات تھی، فطرت حسن و جمال کی انتہا پر پہنچ کر چیخ چیخ کر خدا کے وجود کا اظہار کر رہی تھی، فطرت کتنی خوبصورت ہے، اُس کا حقیقی حسن حجابات سے نکل کر انسانوں کو دعوت نظارہ دے رہا تھا، چار سو حسن بکھرا پڑا تھا، ناچتے مسکراتے لہکتے پھول، گنگناتی ہوائیں، آسمان پر آنکھ مچولی کھیلتی مست گھٹائیں، گاتی ندیاں، سنہری دھوپ، چاروں طرف فطرت کے نغمے ہی نغمے، جلوے ہی جلو ے، یوں لگ رہا تھا وادی نے قوس قزح سے رنگینی اور کہکشاں سے نور لے کر اپنے حسن کو آگ لگا دی تھیہر نظر ہی نہ ٹھہرسکے، اگر ہم سائنسدانوں سے پوچھیں جو یہ کہتے ہیں کہ زمین سورج کا دہکتا ہوا حصہ ہے تو اُن کے پاس اِس سوال کا جواب نہیں کہ جلے ہوئے سیاہ پہاڑوں سے دلکش پھول کیسے پھوٹتے ہیں، جب زمین سورج کا حصہ تھی تو یہ پھول کیسے بھڑکتے ہوئے سورج میں موجود تھے، پانچ کروڑ سینٹی گریڈ کھولتے ہوئے جہنم میں پھولوں کے خلئے کیسے زندہ رہ گئے، اِس راز کا جواب کسی منکر خدا کے پاس نہیں ہے، بس خدا نے زندہ رکھا۔ ہم برق رفتاری سے ایڈنبرا کی طرف بڑھ رہے تھے، شہر کے با ہر ہی میرے چاہنے والے ہمیں مل گئے جنہوں نے ہمیں آگے سکاٹ لینڈ کے خوبصورت ترین علا قے میں لے کر جا نا تھا ،شفیق میزبان ہما رے لیے لبنا نی ریسٹو رنٹ سے لذیذ ترین کباب اور خستہ، نرم و ملا ئم روٹیاں،جو سز کے ساتھ لا ئے ہو ئے تھے، ہم کسی ہو ٹل میں رکھ کر کھا نا کھاتے تو منزل تک نہ پہنچ سکتے۔ ہم نے گا ڑی میں ہی لبنان کے کبابوں اور خستہ روٹیوں کو سے انصاف کرنا شروع کر دیا، گاڑی میں کبا بوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے ہماری بھو ک کو اور بھی بڑھا دیا تھا، اب ہمارا کارواں سکا ٹ لینڈ کے سب سے زرخیز خو بصورت علاقے لوک لومڈ کی طرف دوڑ رہا تھا، ہمارے آگے دوڑنے والے میزبان کی کو شش تھی کہ ہم اندھیرے سے پہلے اُس ہو شربا وادی تک پہنچ سکیں، تھوڑی دیر بعد ہی شہر کی عمارتیں کم ہو نا شروع ہو گئیں اور فطری گھنے جنگل اور نظا روں کی آمد شروع ہو گئی۔ جب ہم دریا کے پل سے گزرے تو نیچے اور اطراف میں خوبصورتی ہی خو بصورتی تھی جو آنکھوں کو خیرہ کر تی جا رہی تھی، اب ہم گھنے خو بصورت پراسرار جنگل سے گزر رہے تھے، آخر ہم کیمرون ہا ؤس پہنچ گئے، جو لو گ کیمرون ہا ؤس ہو ٹل جا چکے ہیں یا وہاں ٹھہر چکے ہیں، وہ اُس کی افادیت سے اچھی طرح واقف ہیں، دنیا جہاں کے امیر ترین لو گ اور ملکوں کے حکمران یہاں ٹھہرتیہیں۔سر سبز و شاداب جنگل کے بیچوں بیچ شاندار ہوٹل۔ رائل عما رت کے سامنے بڑے بڑے سر سبز و شاداب لان جو پھولوں سے بھرے ہو ئے ہزاروں سال پرانے درختوں نے ماحول میں پر اسراریت کی چاشنی بھری ہو ئی اور سامنے خو بصورت جھیل دوسری طرف سبز پہا ڑیاں جن کے درمیان سے آتی ہو ئی جھیل،پانی پر سفید اور خاکستری آبی پرندوں کی قطا ریں ‘کنارے پر سفید رنگ کے جہاز جو پانی کی سطح پر تیر کر پھر ہوا میں اڑ جاتے ہیں، ہم بھی جا کر ایک سفید رنگ کے چھو ٹے جہاز میں بیٹھ گئے، ہم تقریبا دس لو گ تھے، جہاز نے سٹارٹ لیا، پانی پر کشتی کی طرح تیرنا شروع کر دیا اور پھر رفتا ر تیز سے تیز ہو تی گئی اور ہم جھٹکے سے پا نی کی سطح چھو ڑ کر ہواؤں کے مسافر بن گئے۔ اب جہازخاصی بلندی پر آکر اڑ رہا تھا، ہمارے چاروں طرف آبی پرندے قطاروں میں اڑ رہے تھے، ہم بھی اُن پرندوں کی طرح خو بصورت ترین جھیل اور پہاڑی پر اڑ رہے تھے۔ پا ئلٹ ہمیں وادی کے دلکش ترین حصوں کی سیر کرا رہا تھا اور ہم زندگی کے خو بصورت تجربے سے گزر رہے تھے۔ ماہر پائلٹ نے ہمیں اچھی طرح پرواز کا لطف دیا۔ سیر کرا کر آخر وہ پھر جھیل کے پا نی پر آکر اتر گیا ۔اب ہما رے میزبان ہمیں جھیل کے سب سے خوبصورت حصے کی طرف لے جا رہے تھے، کچھ ہی دیر بعد ہم ایک جگہ پہنچے، وسیع و عریض سر سبز میدانوں کے بعد ہم جھیل کے کنا رے پر پہنچے، یہاں پر فطرت اپنی تما م تر دل کشیوں کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ میں کنا رے بیٹھ گیا، دوستوں سے کہا، مجھے کوئی نہ بلائے، وہ آگے چلے گئے۔ بچے پا نی پر پتھر پھینکنے لگے۔ اچانک میری ناک سے مچھلی بھو ننے کی خو شبو ٹکرائی، دیکھا دو بوڑھے گو رے با ر بی کیومچھلی بھو ن رہے ہیں۔ مچھلی کی خوشبو مجھے اُن تک کھینچ کر لے گئی، گو رے مسکرائے میں نے وادی جھیل پہاڑی کی طرف اشارہ کیا، یہ خو بصورتی کیسی ہے تووہ مسکرایا اور بو لا اِس حسن کو دیکھ کر خدا کی یاد آتی ہے، خالق کا احساس ہو تا ہے، گورے نے بھُنی ہو ئی مچھلی میری طرف بڑھا ئی میں سحر انگیز وادی میں بیٹھ کر اپنی آنکھوں اور پیٹ کو خدا کی نعمتوں سے سیراب کر نے لگا ۔

مزید :

کالم -