بر آمدات میں تشویشناک حد تک کمی،خسارہ30ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح کے قریب رہا

بر آمدات میں تشویشناک حد تک کمی،خسارہ30ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح کے قریب رہا

لاہور(کامرس رپورٹر)گزشتہ مالی سال 2016-17 کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 42فیصد کی نمایاں کمی سے 30ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح کے قریب رہا جبکہ اس دوران ملکی بر آمدات 3فیصد کی کمی سے 18.5ارب ڈالرز اور در آمدات 21فیصد اضافے سے 48.5ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر رہیں ۔آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے اس صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی بر آمدات میں اس قدر گراوٹ انتہائی افسوسناک ہے اور ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ملکی در آمدات کا حجم بر آمدات کے ڈھائی گنا تک کی سطح پر پہنچا ہو،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث تیل کے در آمدی بل میں کمی کے باوجود ملک کو اس قدر بھاری تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ اور مشرقی ایشیا کے برعکس پاکستان میں غلط پالیسیوں اور اسٹریکچرل مسائل کے باعث بر آمدات میں گراوٹ دیکھی گئی ،پاکستان نے بر آمدات کے فروغ کے بجائے در آمدت سے متعلق روایتی پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سوائے ٹیکسٹائل مصنوعات کے ہم دیگر غیر روایتی مصنوعات میں اپنی بر آمدات میں اضافہ نہیں کرسکے ہیں اور ہماری مجموعی بر آمدات میں60فیصد شیئر ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے ۔

ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اقتصادی اشاریے ہر گز تسلی بخش نہیں ہیں اور ہم حکومت و پالیسی سازوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بر آمدات میں فروغ کیلئے نجی شعبے کو اعتماد میں لیا جائے تا کہ بر آمدات میں کمی کے رجحان کو دور کیا جاسکے،انہوں نے کہا کہ ہمیں میسر مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیئے جس میں تیل کی کم ہوتی ہوئی عالمی قیمتیں اور سی پیک پراجیکٹ شامل ہیں ۔

مزید : کامرس