لاہور کو کرائمز فری بنانے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں

لاہور کو کرائمز فری بنانے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں

تاریخ کو اگر عجیب و غریب اتفاقات کا مجموعہ کہا جائے تو بے جانہ ہو گا آج بھی اکثر گھرانے ایسے ہیں کہ جن کے آباؤ اجداد تعلیم وتدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کی آنے والی نسلیں نہ صرف روشن ہیں بلکہ انہوں نے محنت کے بل بوتے پر معاشرے میں ایک مقام حاصل کر لیا ہے۔اس طرح لاہور میں ایس پی مجاہد کی سیٹ پر کام کرنیوالے پولیس افسر فیصل شہزاد خاں ہیں جن کا تعلق ضلع بہاولنگر شہر سے ہے انہوں نے ’’روزنامہ پاکستان‘‘کے ساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران بتایا کہ وہ سات بہن بھائی ہیں بھائیوں میں وہ سب سے بڑے ہیں اور انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے آئی آر انٹرنیشنل ریلیشن میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدپنجاب کے ڈومیسائل پرسی ایس ایس کے امتحان میں حصہ لیا وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے بہاولنگر شہر میں جب 1982ء میںآنکھ کھولی۔ تو دادا ایک ہائی سکول میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے تھے کہتے ہیں کہ پہلے صوفیارؤسا اور شرفا کے گھروں میں کتب کے ذخیرہ ہوتے تھے سو اس ماحول میں پرورش پانے والے فیصل شہزاد کا شوق مہمیزکرنے میں بھی گھر کے کتب خانے کا نمایاں کردارہے۔گھر میں مخطوطات و مطبوعات کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ان کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اسکول کے زمانے ہی سے کتب خانے کی چابی ان کے حوالے کردی گئی تھی ۔

وہ بتا تے ہیں کہ ملک میں جاری دہشت گردی و دیگر مختلف سنگین جرائم جیسے واقعات سے جہاں عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے خوف و ہراس میں مبتلاہیں وہاں خاص طور پر صوبائی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مجاہد سکواڈ/پیرو/ڈولفن نے بھی صوبائی دارالحکومت میں امن و امان کے قیام کے لیے قلیدی کردار ادا کیاہے اور سیکیورٹی کے پیش نظر صوبائی دار الحکومت میں داخلی و خارجی راستوں پر قائم مستقل ناکہ جات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں جہاں پر شب و روز مجاہد سکواڈ کے افسران و اہلکاران اپنی شبانہ روز محنت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دہشت گردی کی روک تھام و جرائم کی بیخ کنی و منشیات کی نقل و حرکت و ترسیل کو روکنے کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہیں تاکہ عوام الناس بلا خوف و خطر اپنے معمولات زندگی جاری رکھ سکیں یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ مجاہد فورس کی از سر نو تشکیل کرتے ہوئے اس کو جدید فارم میں ڈھالا گیا ہے اور موجودہ طور پر ڈولفن سکواڈ وپیروجیسی فورسز کا قیام عمل میں آیاہے یہاں پر سابقہ مجاہد سکواڈ کے قیام کا ذکر بھی ضروری ہے مجاہد سکواڈ جو کہ پٹرولنگ پر مامور کی گئی تھی اس کا قیام باقاعدہ طور پر 1988ء میں عمل میں آیا اور اس فورس کی کمانڈ اس وقت کے ایس پی ہیڈ کوارٹرز کے زیر نگرانی تھی جسے شاہین فورس کے نام سے پکارا جاتا تھا شاہین فورس کے اہلکار و افسران مخصوص وردی کے ساتھ ساتھ سرخ رنگ کی بیرٹ کیپ استعمال کرتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاہین فورس نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ اس فورس کا قیام نہ صرف ضروری تھا بلکہ اس کو جدید خطوط پر استوار کر کے مستقل بنیادوں پر ایک یونٹ کی شکل دے کر ایک منتظم کے زیر کمانڈ کر دیا جائے اسی ضرورت کے پیش نظر شاہین فورس کے ڈھانچے کو 1991ء میں ایس پی میجر مبشر اللہ کے زیر کمانڈ کر دیا گیاجس کانیا نام مجاہد سکواڈ رکھا گیا مجاہد سکواڈ نے اپنے وجود کے قیام کو اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ لاہورپولیس لیڈر شپ کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے یہی وہ فورس ہے جو کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا کسی ناگہانی صورتحال میں پہلے مسیحا کا کردار ادا کرتی ہے شہری کسی بھی مصیبت میں مبتلا ہوں تو وہ پولیس ایمرجنسی 15پر بلا خوف و خطر24گھنٹے کال کر سکتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ مجاہد سکواڈ کی تعداد، گاڑیوں و موٹر سائیکلوں میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیاجاتا رہا تاکہ جلد از جلد اور بروقت جائے وقوعہ یا جائے حادثہ پر پہنچا جا سکے موجودہ ایس پی مجاہدو ڈولفن فیصل شہزاد نے اپنی تعیناتی کے بعد صوبائی دار الحکومت کے داخلی و خارجی راستوں کو مزید بہتر کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں مجاہد فورس نے کئی مواقعوں پر جن میں پولیس ایمرجنسی15، ناکہ شیرا کوٹ، چوک اردو بازار وغیرہ شامل ہیں میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے شہر کو بڑی تباہی سے بچانے کے ساتھ ساتھ کئی پولیس مقابلوں کے دوران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے مجاہد سکواڈ موجودہ ایس پی کی زیر کمانڈ شبانہ روز کوششوں کی وجہ سے لاہور پولیس میں ایک خاص مقام رکھتی ہے 27جولائی 2009کو پولیس ایمرجنسی 15پر ہونے والے خودکش حملہ کے بعد اس امر کی سخت ضرورت محسوس کی گئی کہ فی الفور پولیس ایمرجنسی 15کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی بھی کوئی دشواری پیش نہ آسکے اور وہ پولیس ایمرجنسی 15جیسی سہولت سے کسی بھی وقت استفادہ کر سکیں عوام الناس کے جان و مال و املاک کی حفاظت و کسی بھی ضرورت کے پیش نظر 2گھنٹوں کے اندر اندر قربان لائن میں عارضی طور پر پولیس ایمرجنسی 15کال سنٹر قائم کر دیا گیاتھا اور وقت کے ساتھ ساتھ ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو15کو جدید خطوط پر استوار کر کے آپریشنل کر دیا گیا جوکہ موجودہ طور پر PPIC3و پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی صورت میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے موجودہ ایس پی فیصل شہزادنے مجاہد سکواڈ کی کمانڈ سنبھالتے ہی محدود وسائل کے باوجود فورس میں ایک نیا جذبہ پیدا کیا ہے تاکہ جرائم کی روک تھام کو ممکن بنایا جاسکے اب تقریباً ہر تھانہ کی حدود میں کم و بیش پولیس کی 110جدید گاڑیاںXLI پیرو (PRU) پرمجاہد سکواڈ کے اہلکار گشت کرتے نظر آتے ہیں اور کسی بھی قسم کے ہونے والے کرائم کو کنٹرول کرنے میں مقامی پولیس کے معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں مجاہد سکواڈ کو نئے سرے سے منظم کرنے کے لیے جوانوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لانے کی سخت ضرورت ہے ایس پی مجاہدو ڈولفن نے کہا کہ ہرجگہ پر کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں تاہم ایسے کرپٹ و غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں و افسران پر میری کڑی نگاہ ہے مجاہد سکواڈ کے کردار کو بہتر کرنے لے لیے ہر اہلکار کو دربار کی صورت میں خصوصی طور پر اخلاقیات پر مبنی لیکچرز دیے جاتے ہیں بلکہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کی ہدایت پر اور لاہور پولیس کی لیڈر شپ کے احکامات کی روشنی میں ان کے مسائل بھی حل کیے جا رہے ہیں تاکہ پولیس کا مورال بھی بلند رہے اور وہ شہریوں سے خوش اسلوبی سے پیش آسکیں۔ لاہور پولیس کی کمانڈ کیپیٹل سٹی پولیس چیف کرتے ہیں جن کی معاونت کے لیے ڈی آئی جی آپریشنز موجو دہیں مجاہد سکواڈ کو 6ڈویژنزمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ہر ڈویژن کا انچارج ڈی ایس پی عہدہ کا ایک افسر ہوتاہے جس کے زیر کمانڈ مختلف سرکلز اور ہر سرکل کا انچارج ایک انسپکٹر یا سب انسپکٹر ہوتاہے ان تمام کی کمانڈ ایس پی مجاہدو ڈولفن کے ذریعے کی جاتی ہے اس وقت مجاہد سکواڈ، پیرو و ڈولفن کی کل نفری کم و بیش3000کے قریب ہے جو مختلف ڈویژنوں میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں آئی جی پنجاب کے حکم پر اہلکاروں کو ہفتہ وار ریسٹ کے ساتھ ساتھ ضرورت کے پیش نظرچھٹی بھی دی جاتی ہے علاوہ ازیں مجاہد سکواڈ VVIPموومنٹ کے دوران بطور اسکورٹ ڈیوٹی بھی اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں تاہم اس کے لیے الگ سے یونٹ اسکورٹ سکواڈ کے نام سے قائم ہے جس سے پٹرولنگ کے نظام میں خلل نہیں پڑتا ایس پی مجاہدو ڈولفن فیصل شہزاد نے مجاہد سکواڈ میں جزا و سزا کا ایک موثر نظام وضع کیا ہے جس کے دوران ہر سرکل میں ہر افسر و اہلکار کی انفرادی طور پر کارکردگی چیک کی جاتی ہے انہوں نے حالیہ چند دنوں کے دوران 110پولیس اہلکاران و افسران کو ان کی ناقص کارکردگی پر دیگر مختلف ڈویژنوں میں تبدیل کر دیا ہے اسی طرح کرپشن ، ڈیوٹی میں لاپرواہی و غیر حاضری کی مختلف شکایات پر سخت ترین محکمانہ سزائیں بھی دی ہیں جن میں تنخواہوں میں کٹوتی ، نوکری سے برخاستگی کے ساتھ محکمانہ پروموشن روکنے جیسی سزائیں بھی شامل ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اچھی کارکردگی کے حامل پولیس اہلکاروں کو نہ صرف نقد انعامات دیے گئے بلکہ ان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد بھی دی گئیں مجاہد سکواڈ /ڈولفن سکواڈو پیروکی حالیہ کارکردگی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ جرائم کی روک تھام و دیگر سٹریٹ کرائم کے واقعات کو روکنے کے لیے مجاہد سکواڈ /ڈولفن سکواڈو پیرو نے خصوصی طور پر کارکردگی دکھائی ہے جس کے دورا ن مجاہد سکواڈ /ڈولفن سکواڈو پیرو نے خطرناک ڈکیت گروہوں کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ شہریوں سے چھینی گئی موٹر سائیکلیں ، کاریں، طلائی زیورات اور منشیات جیسی لعنت کو ختم کرنے کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔

ڈولفن سکواڈ جو کہ اپریل 2016ء میں لاہور کی 119بیٹس میں آپریشنل ہوئی تھی اس کی کارکردگی کا مقابلتاً جائزہ لیا گیا تو نتائج قابلِ ستائش سامنے آئے جو کہ حوصلہ افزا ہیں چونکہ ڈولفن سکواڈ فی الحال صوبائی دارالحکومت کے %45 حصہ کو کور کیے ہوئے ہے جبکہ باقی ماندہ حصہ پر دسمبر2017ء تک ڈولفن سکواڈ کو آپریشنل کر دیا جائے گا اس حوالہ سے ڈولفن سکواڈ کا بیج اپنی بنیادی ٹریننگ حاصل کر رہا ہے قوی امکانات ہیں کہ ڈولفن سکواڈ مجموعی طور پر پورے لاہور میں آپریشنل ہونے کے بعد خاطر خواہ نتائج دے گی اور سٹریٹ کریمینلز و ڈاکوؤں وغیرہ کے خلاف بھرپور اقدامات کرے گی ڈولفن سکواڈ کے لاہور میں صرف45%حصہ پر پٹرولنگ کے نتائج حوصلہ افزا ہیں جس پر ڈولفن سکواڈ نے پولیس ایمرجنسی 15کی19567 Trueکالز پر رسپانس دیتے ہوئے پچھلے 01سال04 ماہ کے دوران105سٹریٹ کریمینلز کو گرفتار کیا یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ڈولفن سکواڈ کی کارکردگی جانچنے کا معیار انتہائی مصدقہ ہے ڈولفن نے مجموعی طور پر 235ملزمان کو گرفتار کیا جن کے قبضہ سے بھاری مقدار میں آتشیں اسلحہ،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کے علاوہ چوری شدہ موٹر سائیکلیں و گاڑیاں ،طلائی زیورات ، نقدی و موبائل فونزودیگر گھریلو اشیاء بر آمد ہوئیں گرفتار ملزمان نے 1400سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے ۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس آپریشنز لاہورڈاکٹر حیدر اشر ف کی ہدایت پر صوبائی دار الحکومت میں جرائم پیشہ عناصر، ناجائز اسلحہ، سٹریٹ کریمینلز و دیگر سنگین جرائم کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے جس کے دوران ڈولفن نے چوری ، ڈکیتی، راہزنی،رابری و سٹریٹ کرائم اور منشیات کے خلاف بھرپور کاروائی کرتے ہوئے آتشیں اسلحہ میں112 پسٹل، 10رائفلیں، درجنوں کی تعداد میں کارتوس و گولیاں برآمد کیں،اسی طر ح منشیا ت کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کروڑوں روپے ما لیت کی12گرام ہیر وئن ،03کلو،855گرام چرس ،410بوتلیں شراب قبضہ میں لے کر ملز مان کے خلاف کا روائی کر وائی ۔علاوہ ازیں 105ایسے سٹریٹ کریمینلزجو روڈ رابری و جھپٹے اور گن پوائنٹ پر وارداتیں کرتے تھے ان کو رنگے ہاتھوں دورانِ واردات گرفتارکرکے چھینے ہوئے موبائلز، طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں، نقدی مالکان کے حوالے کیے۔دوران پٹرولنگ ڈولفن سکواڈنے دیگر جر ائم جن میں ون ویلنگ ، کائیٹ فلائینگ،قمار بازی، گدا گر ی اور جعلی نمبر پلیٹ شامل ہیں کے70مقدمات بھی در ج کر وائے۔ علاوہ ازیں ڈولفن نے سنیپ چیکنگ و سرچ آپریشن کے دوران مقامی پولیس کے ہمراہ شہر بھر سے مجموعی طور پر581600مشکوک افراد کو چیک کیاعلاوہ ازیں جدید انڈرائیڈ و بائیو میٹرک سسٹم کو بروئے کار لاتے ہوئے592300 مشکوک وہیکلزو733600مشکوک موٹر سائیکلز کو چیک کیاجس کے دوران چوری شدہ71گاڑیاں اور91موٹر سائیکلزبرآمد ہوئیں جن کومقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈولفن سکواڈ نے پولیس ایمرجنسی 15کی 19567کار آمد (true)کالز پر ریسپانڈ کرتے ہوئے14259شہریوں کو ان کی ضروریات و کالز کے حوالہ سے ریسکیو کیا۔جن میں گمشدہ بچوں ، آگ لگنا ، لڑائی جھگڑا ، واردات و دیگر رابری وغیرہ کی کالز شامل ہیں۔ ڈولفن نے44 گمشدہ بچوں کو بھی ان کے لواحقین کے حوالے کیاایس پی مجاہد و ڈولفن فیصل شہزاد نے کمیونٹی پولیسنگ کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات عملی طور پر مشاہدہ میں آئی ہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینے سے ناصرف پولیس کے مورال میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس سے پولیس پبلک پارٹنرشپ کو بھی فروغ ملتا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح و عہدِ حاضر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ عوام الناس پولیس پر مکمل اعتماد کا اظہار کریں اور پولیس کو صحیح معنوں میں اپنا محافظ سمجھیں یہ اسی طور ممکن ہے کہ پولیس اس میں پہل کرتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیر پولیس اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی سٹریٹ کرائم و دیگر جرائم کے خاتمہ کے لیے کمیونٹی پولیسنگ وقت کا تقاضا ہے ڈولفن سکواڈ نے کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات پیش کی ہیں جس کے دوران مجموعی طور پر14259شہریوں کو مختلف ہیڈز میں ریسکیو کیا جن میں44گمشدہ بچوں کو لواحقین کے حوالے کر نا،32اشخاص کوگمشدہ چیزیں واپس کرنا،1742افراد کی ان کی وہیکل بریک ڈاون میں مدد کرنا،876افراد کی روڈ ایکسیڈنٹ میں مددکرتے ہوئے قریبی ہسپتال میں منتقل کرنااور7247مختلف جگہوں پر ٹر یفک کھلوانا وغیرہ شا مل ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھی ڈولفن سکواڈ نے گن پوائنٹ پر موبائل و نقدی وغیرہ چھینناجیسی وارداتوں کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایااسی طرح پولیس ایمرجنسی 15کی کال پر فوری رسپانس کرتے ہوئے گھر میں گھسے ہوئے ڈاکوؤں کو گرفتار کیاجبکہ دورانِ پٹرولنگ ڈاکوؤں چوروں و سٹریٹ کریمینلز کے خلاف موثر کردار ادا کرتے ہوئے کریک ڈاؤن کیایہی وجہ ہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس آپریشنز نے گزشتہ دنوں ڈولفن سکواڈ کے اعزاز میں قربان لائنز میں ایک تقریب کا انعقا د کیا جس میں ڈولفن سکواڈ کے اہلکاروں کو اپنی جان پر کھیل کر ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے پر کیش انعامات و تعریفی اسناد سے نوازا گیاایس پی مجاہدو ڈولفن فیصل شہزاد نے کہاہے کہ ڈولفن سکواڈ بلاشبہ ایک بہترین فورس ہے جو جرائم کی بیخ کنی کے لیے صفِ آرا ہے امید ہے کہ ڈولفن سکواڈ کے دیگر اہلکار اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد جب پورے صوبائی دارالحکومت میں آپریشنل ہوجائیں گے تو جرائم کا گراف بتدریج نیچے آئے گا۔

اسی طرح پیرو(PRU)جس کا مطلب پولیس رسپانس یونٹ ہے کو ایک جدید ماڈل کی XLIگاڑیوں پرپٹرولنگ کے حوالے سے تیار کیا گیا ہے ان کی کارکردگی بھی حوصلہ افزا ہے پولیس رسپانس یونٹ میں اس وقت 110گاڑیاں صوبائی دار الحکومت کی تمام ڈویژنوں میں پٹرولنگ کے فرائض انجام دے رہی ہیں اس جدید پٹرولنگ کے نظام کا مقصد بھی شہریوں میں احساسِ تحفظ کو اجاگر کرنا ہے اور اس بات کوباور کروانا ہے کہ پولیس ہمہ وقت ناصرف الرٹ ہے بلکہ آپ کی جان و مال و املاک کی حفاظت کے لیے تیار ہے ڈولفن سکواڈ کی طرح ہی پولیس رسپانس یونٹ بھی نہ صرف پٹرولنگ کرتی ہے بلکہ پولیس ایمرجنسی 15کی کالز پر بھی رسپانڈ کرتی ہےPRUنے سال 2016ء تا مارچ 2017ء کے دوران پولیس ایمرجنسی ریسکیو15کی47951 سے زائد کالوں پر رسپانڈ کیا اور شہریوں کو ریسکیو کیا اسی طرح مشتبہ گان کے خلاف سرچ آپریشن و سنیپ چیکنگ کے دوران 260458وہیکلز ، 365865موٹر سائیکلز اور267968مشکوک اشخاص کو چیک کیاعلاوہ ازیں سٹریٹ کریمینلز کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 108سٹریٹ کریمینلز کو گرفتار کیا اس کے علاوہ پیرو سکواڈ نے 411دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا جن کے قبضہ سے 100پسٹل،15رائفلیں درجنوں کی تعداد میں میگزینز و گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی32کلو سے زائد چرس و3کلو 410گرام ہیروئن ،1431لیٹر دیسی شراب و 212بوتلیں امپورٹڈ شراب برآمد کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے علاوہ ازیں ون ویلنگ کے خلاف 22مقدمات درج کروائے اسی طرح پیرو سکواڈ نے 248-TOs، 193-CAsاور81-POsکو بھی گرفتار کیا اسی طرح کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دیتے ہوئے 72546مختلف ہیڈز میں اپنی خدمات سر انجام دیں جن میں 09گمشدہ بچوں کو ان کے لواحقین تک پہنچانا،13729سے زائد لوگوں کو ان کی وہیکلز بریک ڈاؤن میں مدد کرنا اور تقریباً11653افراد کو روڈ ایکسیڈنٹ و دیگر واقعات میں زخمی ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا ہے اسی طرح دورانِ واردات پکڑے گئے ڈاکوؤں کے قبضہ سے قیمتی موبائل ،موٹر سائیکلیں اور نقدی بھی برآمد کر کے مالکان کے حوالے کیں پولیس رسپانس یونٹ نے ایمرجنسی 15کی کال پر مقابلہ کے بعد ڈاکوؤں کو بھی گرفتار کیا جن سے لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقد رقم بھی برآمد کی ۔

صوبائی دارالحکومت کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر قائم کیے گئے ناکہ جات بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں جن کی اہمیت کو صرفِ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ناکہ جات کی افادیت و اہمیت اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس میں شہریوں کی اپنی بھلائی و حفاظت پنہاں ہے موجودہ صورتحال کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ناکو ں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے مشتبہ گان کا ناکہ جات سے گزرنا ، مشکوک گاڑیوں کی نقل و حمل و منشیات جیسی لعنت کی ترسیل کو روکنا ناکہ بندی کے ذریعے ہی ممکن ہے ناکوں پر کھڑے اہلکار شہریوں کے جان ومال و املاک کی حفاظت کے ضامن ہیں مجاہد سکواڈ کے ناکہ جات نے سال2016ء تا اپریل2017ء تک مجموعی طور پر لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر امن و امان کو قائم رکھنے و جرائم پیشہ اشخاص و مشتبہ گان اور دوسرے سماج دشمن عناصر کے خلاف بھی کاروائیاں کرتے ہوئے ان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا ہے درج بالا عرصہ کے دوران ناکہ جات نے مجموعی طور پر 285212مشکوک وہیکلزاور260190مشکوک موٹر سائیکلز کو چیک کیا جن میں سے 1546گاڑیوں و 10242موٹر سائیکلز کو مختلف تھانہ جات میں بند کروایاجبکہ 09چوری شدہ موٹر سائیکلز بھی برآمد کیں۔ غیر نمونہ و جعلی نمبر پلیٹ کے 293مقدمات درج کروائے۔ مجاہد سکواڈ کے ناکہ جات نے ناجائز اسلحہ کے خلاف بھی موثر و بلاتفریق کاروائیاں کرتے ہوئے 59پسٹل، 55رائفلزو پمپ ایکشن اور درجنوں کی تعداد میں میگزینز ،گولیاں و کارتوس برآمد کیے۔ منشیات جیسی لعنت کے خلاف بھی وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران ملزمان سے 01کلوہیروئن، 17کلو چرس اور 672بوتل شراب برآمد ہوئی ۔

ایس پی مجاہدو ڈولفن فیصل شہزاد نے دوران انٹرویو بتایا کہ ڈولفن و پیرو کے اہلکارپنجاب پولیس کی طرف سے منعقدکی جانے والی کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے ہیں حال ہی میں ہمارے ایک جوان کانسٹیبل طارق نے پنجاب پولیس انٹر ریجن باکسنگ کے منعقد ہونے والی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے جو کہ بلاشبہ لائقِ تحسین ہے ایسی صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے والے پولیس اہلکار ڈولفن پولیس کا سرمایہ ہیں جن کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ان کو ناصرف تعریفی سرٹیفیکیٹس ، نقد رقوم بلکہ اعزازی شیلڈز سے بھی نوازاجاتا ہے تاکہ فورس کا مورال بلند رہے جو سپورٹس مین پولیس اہلکار ہیں وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں ہوتے اور نہ ہی محکمہ کی جانب سے ان کی صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ممانعت ہے بلکہ اس حوالے سے ڈولفن و پیرو سکواڈ کے لیے قربان لائنز میں ایک جدید جمنیزیم کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جہاں پر ڈولفن و پیرو کے اہلکار اپنی ڈیوٹی کے اوقات کار کے بعد اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے اس جدید جم میں معمول کے مطابق ورزش کرسکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ فورس کے لیے کھیلوں کے مقابلوں و صحت مندانہ سرگرمیوں کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے علاوہ ازیں بہت جلد ڈولفن سکواڈ کی زیرِ تعمیر عمارات بھی مکمل ہو جائیں گی جس سے تمام ڈولفن و پیرو سکواڈ کے اہلکار اپنی اپنی ڈویژنز سے پٹرولنگ کے لیے آؤٹ ہوں گے تیار ہونے والی تمام عمارات سٹیٹ آف دی آرٹ ہوں گی جہاں پر تمام تر ممکنہ سہولیات میسر کی جائیں گی۔ ایس پی مجاہد و ڈولفن فیصل شہزاد نے اس امر کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ صوبائی داراالحکومت میں امن و امان کے قیام و شہریوں کے جان ومال و املاک کی حفاظت کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ پٹرولنگ کے نظام کو مزید فعال کیا جائے گا تاکہ شہربھر میں زیادہ سے زیادہ موثر پٹرولنگ کی جائے تاکہ روڈ رابری، سٹریٹ کرائم و دیگر سنگین جرائم کی بیخ کنی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں اور شہرکو کرائم فری بنانے کے لیے لاہور پولیس خصوصی منصوبہ بندی کر رہی ہے علاوہ ازیں لاہور پولیس دیگر سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہے پولیس کے جری جوانوں و افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس ارضِ پاک کی آبیاری کا عملی نمونہ پیش کیا ہے جو کہ محکمہ پولیس کی حقیقی کاوشوں کاعملی ثبوت ہے بلاشبہ ہمیں اپنے افسران و جوانوں پر فخر ہے انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس کی استعدادِ کار میں اضافہ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اس حوالہ سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں برتا جائے گا۔

فیصل شہزاد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی پریشانی میں 15پولیس پر کال کریں یا اگر کسی بھی شہری کو کرپشن یا کوئی دیگر شکایت ہو تو وہ میرے نمبر پر ڈائریکٹ کال کرے اگر کسی وجہ سے میرے نمبر پر کال اٹینڈ نہ ہو سکے تووہ شہری مجھے ٹیکسٹ میسج بھی کر سکتاہے میں خود اس کو کال کر کے اس کی شکایت کا ازالہ کروں گا۔

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ مجاہد سکواڈ، ڈولفن و پیرو جیسی فورسز کو اس کے بنائے گئے مقصد کے تحت استعمال کیا جائے نہ کہ ان سے VVIPموومنٹ کے دوران ڈیوٹیاں لی جائیں یا کوئی دیگر اسکورٹ ڈیوٹیاں کروائی جائیں فورس کا قیام خالصتاً شہریوں کی سہولت کے پیش نظر کیا گیا تھا مجاہد سکواڈ اس وقت انتہائی نامساعد حالات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے یہاں پراس امر کی سخت ضرورت ہے کہ نہ صرف اس فورس کی کمی نفری کو پورا کیا جائے بلکہ اربابِ اختیار سے اپیل ہے کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت و صوبائی دار الحکومت کو کرائم فری زون بنانے کے لیے فوری طور پر نئی گاڑیاں و موٹر سائیکلیں ہنگامی بنیادوں پر فراہم کی جائیں تاکہ شہری اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔

مزید : ایڈیشن 2