منتخب وزیر اعظم کو نکالنے کیلئے ججوں نے کمزور ترین فیصلہ دیا ، دنیا تھوک ر ہی ہے : جاوید ہاشمی

منتخب وزیر اعظم کو نکالنے کیلئے ججوں نے کمزور ترین فیصلہ دیا ، دنیا تھوک ر ہی ...
 منتخب وزیر اعظم کو نکالنے کیلئے ججوں نے کمزور ترین فیصلہ دیا ، دنیا تھوک ر ہی ہے : جاوید ہاشمی

  

ملتان (اے این این)سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ منتخب وزیراعظم کو نکالنے کیلئے ججوں نے کمزورترین فیصلہ دیا ۔ پوری دنیا میں تھوک رہی ہے ، عمران خان نے گزشتہ شب تین دفعہ کہا کہ جسٹس آصف کھوسہ نے ان سے درخواست کی کہ مقدمہ میرے پاس لیکر آئیں، یہ کیسا جج ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ مقدمہ میرے پاس لیکر آؤ؟ ، جسٹس کھوسہ کو جوڈیشل کونسل میں لے جاناچاہیے ، پارلیمنٹ بڑی مشکل سے بنتی ہے ، میں ہمیشہ سسٹم کی بات کرتا ہوں اور اسی کی جنگ لڑرہاہوں،حلفاً کہتاہوں عمران خان نے کہا جسٹس تصدق جیلانی کے بعدآنیوالا جج اسمبلی تحلیل کردے گا، نوازشریف مستعفی ہوجائیں گے، عارف علوی، شیریں مزاری اور شفقت محمود نے مجھے کہا عمران خان پارلیمنٹ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ہاشمی صاحب انہیں سمجھائیں،جب عمران خان سے لڑائی ہوئی تھی تو اس وقت فارورڈ بلاک بنانے کی پیشکش ہوئی تھی ۔ہنگامہ خیز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہاکہ وہ جو کچھ بھی کہیں گے ، سب حلفا ہوگا، میں نے کبھی کسی عہدے یا اقتدار کی سرے سے دعاہی نہیں کی لیکن عمران خان نے دھرنے سے قبل مجھے یہ کہاتھاکہ جسٹس تصدیق جیلانی کے بعد جو جج صاحب آرہے ہیں، وہ پارلیمنٹ تحلیل کردیں گے اور نوازشریف مستعفی ہوجائیں گے جس پر میں نے کہاکہ یہ بات آئین سے بالاتر ہے ، آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔ان کاکہناتھاکہ عمران خان ججوں اور عدلیہ کانام بار بار لیتے رہے ، رات کو بھی بولا کہ جسٹس آصف کھوسہ نے ریکوئسٹ کی کہ میرے پاس لے کر آ، یہ کیسا جج ہے جو عدالت میں بیٹھ کریہ بات کہتاہے، جوڈیشل کونسل کے اندر جسٹس کھوسہ صاحب کو لے جاناچاہیے ، کیوں ایسے آدمی کو کہہ رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کمزور فیصلے پر پوری دنیا تھوک رہی ہے ، ایک منتخب وزیراعظم کو نکالنے کیلئے ان ججوں نے کتنا کمزور فیصلہ دیا ۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ انہوں نے کعبہ میں اس جگہ تین دفعہ نماز پڑھی جہاں حضور نے نفلیں پڑھیں، اکیلے کھڑے ہوکر بھی کبھی عہدے کی لالچ نہیں رکھی اور نہ ہی کبھی دعا کی کہ وزیربنوں یا کوئی اور عہدہ ملے ، اللہ اور اس کا رسول جانتاہے ، یہی دعا مانگی کہ یااللہ قوم کو کامیابی دے، غریب کی آواز کو بڑے سے بڑے ایوان تک پہنچانے کی ہمت دے۔جاوید ہاشمی نے کہاکہ عمران خان نے کہاتھاکہ تصدیق جیلانی کے جانے کے بعد جو جج آرہے ہیں، اطہر من اللہ ،وہ آکر پارلیمنٹ ڈیزالو کردیگا ، نوازشریف مستعفی ہوجائیں گے تو میں نے کہاکہ یہ بات آئین سے بالاتر ہے ۔ خان صاحب آپ آئین کو سمجھنے کی کوشش کریں، مارشل لاء لگ گیا تو عدالت اپنی حکومت بنائے گی توعمران خان نے کہاکہ وہ تین مہینے بیٹھیں گے ، مہینے یا ڈیڑھ کے اندر اگست ، ستمبر کے آخر میں انتخاب ہوجائیں گے اور انتخابات میں حکومت ہماری بن جائے گی کیونکہ مقابلے میں آنے کی کوئی جرات نہیں کرسکے گا،ہماری حکومت آجائے گی ۔ جاوید ہاشمی کاکہناتھاکہ عارف علوی، شیریں مزاری اور شفقت محمود کی موجودگی میں یہ باتیں ہوئی اور ان کے سرپر بھی قرآن مجید رکھ کر آپ پوچھ سکتے ہیں، انہوں کے مجھے کہاکہ خان سے ملیں، وہ پارلیمنٹ پر حملے کے لیے تیار بیٹھا ہے ، عمران خان کو سمجھانے گیاتو اس نے آگے سے یہ بات کہی کہ جج اسمبلی تحلیل کردیں گے ۔ جاوید ہاشمی کے مطابق عمران خان کے جواب پر انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر ججوں کی حکومت آبھی گئی تو انہیں اپنے تحفظ کی ضرورت ہوگی ، ہم ایئرمارشل اصغر خان کیساتھ تھے، ضیاکے حق میں بیان دیئے ، فوج آگئی ، ہم خوش تھے لیکن انہوں نے اصغر خان کو اٹھا کر پھینک دیا، آج وہ تحریک انصاف کیساتھ ہیں لیکن وجود ہی نہیں ہے ، آپ بنی گالہ ہوں گے ، فوج مجبورا آئے گی ، ہم ان کے آنے کا اہتمام نہ کریں ، تو عمران خان نے کہاکہ فکر نہ کریں ، ٹھیک ہوجائے گا۔ جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ کورکمیٹی کے اجلاس میں شیریں مزاری ڈرافٹ بنارہی تھیں ، عمران خان نے کہاکہ دو تین باتیں زیادہ ڈال دو کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں ،یہ میں حلفا کہہ رہاہوں ، اگر میں غلط ہوں تو عمران خان حلف اٹھا کر کہہ دیں۔جاوید ہاشمی نے کہاکہ تحریک انصاف کے پارٹی اجلاس میں تبادلہ خیال ہوگیا، قرارداد تیار ہوگئی لیکن میں ناراض ہوکر ملتان آگیا ، میں نے کہاکہ ٹیکنوکریٹس کی بات کو بھی مارشل لاکی ابتداسمجھتا ہوں ، عمران خان سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا جو انہوں نے واپس لے لیا تو میں لاہور پہنچ کر قافلے میں شامل ہوگیا۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ جب عمران خان سے لڑائی ہوئی تھی تو اس وقت فارورڈ بلاک بنانے کی پیشکش ہوئی تھی ۔ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران سے علیحدگی کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤ ں نے پیشکش کی تھی کہ ایم این اے شپ سے استعفی نہ دیں بلکہ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بنا لیں ۔سینئر رہنما نے بتا یا کہ آج بھی قومی اسمبلی اور خیبر پختونخواہ اسمبلی میں تحریک انصاف کے وہ اراکین موجود ہیں جنہوں نے فارورڈ بلاک بنانے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ فارورڈ گروپ میں آپ کا احترام اسی طرح ہو گا۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق ،حفیظ اللہ نیازی اور خواجہ آصف اس بات کے گواہ ہیں ۔جاوید ہاشمی نے بتا یاکہ میں نے ان اراکین اسمبلی سے کہا کہ فارورڈ بلاک نہیں بناں گا کیونکہ میں عمران خان کی پارٹی کو ختم کر نے نہیں آیا بلکہ سیاسی جماعتوں کو تقویت دینے آیا ہوں ۔جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ لانگ مارچ کے سلسلے میں جب قافلہ گوجرانوالہ کے قریب پہنچاتو پانچ چھ لوگوں نے نعرے لگادیئے جس پر شرکاکی حالت یہ ہوگئی کہ شیخ رشید نے کہاکہ کنٹینر میں ہی میزکے نیچے گھس جا، خود اندر ہی پڑا تھا، میں نے کہاکہ تمہیں کوئی کھارہاہے ، میزکیسے بچائے گی ، عمران خان اور ایک اور دوست بھی وہیں تھے ، میں باہر نکلا اور کہاکہ کیا بات کررہے ہو، گوجرانوالہ کے لڑکوں کو للکارا کہ کیا بات کرتے ہو، میں ان میں سے کچھ کوجانتا تھا، وہ ساتھ ساتھ چلتے رہے ، اسلحہ بھی ان کے پاس تھا لیکن جرات کیسے کرتے ۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ اسلام آباد پہنچ کر عمران خان نے کہاکہ انہوں نے آگے جانا ہے ، میں نے کہاکہ پارلیمنٹ بڑی مشکل سے بنتی ہے ، میں ہمیشہ سسٹم کی بات کرتا ہوں اور اسی کی جنگ لڑرہاہوں ، اسدعمر، علوی، محمود صاحب ، جہانگیر آئے اور سب کو میں نے منوایا کہ عمران خان مان جائیں ، وہاں پہنچ کر کسی نے کہایا خان صاحب کا اپنا موڈ آگیا ، وہ بولے کہ مخدوم صاحب ہمیں آگے جانا ہے تو میں نے کہاکہ عقل کی بات کرو، کہنے لگے کہ نہیں ، پھر آپ کی مرضی ہے تو میں انہیں وہیں چھوڑ کر آگیا۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جنگیں لڑیں ،سپریم کورٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی کرسی کو سیلوٹ کرتا ہوں کیونکہ میں اداروں کی عظمت چاہتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ میں فوجی کے ایک بوٹ پر نواز شریف کے بچوں کو قربان کردوں گا کیونکہ فوجی کی عزت میرے لیے بہت زیادہ ہے لیکن ہر کوئی اپنی جگہ پر کام کرے ۔انہوں نے کہا کہ میران لیگ سے کوئی تعلق نہیں ہے ،میری رانا تنویر اور عابد شیر علی سے مسجد میں ملاقات ہوئی تو انہیں کہا کہ نواز شریف کو سمجھائیں کہ فوج سے تعلقات ٹھیک کرے ۔اسی طرح اکرم شیخ نے نجی ہوٹل میں افطار پارٹی دی جہاں سرتاج عزیز سے ملاقات ہوئی تو اسے بھی یہ ہی بات کی کہ نواز شریف کو فوج کے ساتھ تعلقات ٹھیک رکھے چاہیے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہ ہوسکا ۔میں نے سپر یم کورٹ،پارلیمنٹ اور فوج کی بقا کی جنگیں لڑی ہیں لیکن ہر ایک کو اپنا اپنا کام کر نا چاہیے۔

مزید : صفحہ اول