نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ، شریف خاندان اور اسحق ڈار کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری

نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ، شریف خاندان اور اسحق ڈار کیخلاف ریفرنس دائر ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نیب کے مطابق ریفرنس جے آئی ٹی کے شواہد پر دائر کیے جائیں گے اور ایف آئی اے کے پاس پہلے سے موجود شواہد بھی ریفرنسز کا حصہ ہونگے۔ ریفرنسز شریف خاندان، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار پر دائر کئے جائیں گے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چیرمین نیب امتیاز تاجور اور پراسیکیوٹر جنرل وقار کریم بھی شریک ہوئے جب کہ نیب کے پراسیکیوشن ونگ نے افسران کو پاناما کیس فیصلے کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس اجلاس میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ اجلاس کے بعد نیب کی جانب سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ نیب کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریفرنسز سپریم کورٹ کے فیصلے کے 6 ہفتوں کے اندر دائر کیا جائے گا جو عدالتی فیصلے کے پیراگراف 9 میں درج کمپنیوں سے متعلق ہوگا۔ریفرنس ایون فیلڈ پراپرٹیز فلیٹ نمبر 16، 16 اے، 17، 17 اے، پارک لندن سے متعلق ہے اور عزیزیہ اسٹیل مل اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے قیام پر ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہیکہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کا ریفرنس دائر ہوگا۔ نیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف 4 مختلف ایشوز پر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نیب راولپنڈی کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کیے جائیں گے۔نیب اعلامیے کے مطابق ریفرنسز جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اکٹھے کیے گئے موادکی روشنی میں دائر ہوں گے جن میں نیب اور ایف آئی اے کے پاس موجود اثاثوں کے ریکارڈ کو استعمال کیاجاسکتا ہے جب کہ ریفرنسز میں باہمی قانونی معاونت سے حاصل مواد بھی استعمال ہوگا۔شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز اسلام آباد اور راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں دائر کیے جائیں گے جس کے لیے تمام افسران کو سارے عمل کو مستعد اور پیشہ ورانہ انداز میں دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیب

مزید : صفحہ اول