حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کردی گئی

حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کردی گئی
حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کردی گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پنجاب نے جماعة الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید کی نظر بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کردی ہے۔

حافظ سعید کی نظر بندی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق حافظ سعید کی نظر بندی کی مدت 27 جولائی کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں 28 جولائی سے مزید 60 روز کیلئے نظر بند کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت 30 جنوری کو 90 روز کیلئے حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد اس میں توسیع در توسیع کی جاتی رہی ہے اور اب انہیں 28 جولائی سے مزید 60 روز کیلئے نظر بند رکھا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق حافظ سعید کو وزارت داخلہ، کاﺅنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر مزید 60 روز کیلئے نظر بند کیا گیا ہے۔

’قیامت کی یہ اہم ترین نشانی پوری ہوگئی، اب صرف چند ہفتوں بعد۔۔۔‘ سب سے خوفناک پیشنگوئی منظر عام پر آگئی، ہر کوئی کانپ کر رہ گیا

واضح رہے کہ کاﺅنٹر ٹیرارزم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو رہا کیا گیا تو ملک میں بے چینی پھیلے گی ۔ اس تنظیم (جماعة الدعوة) نے حافظ سعید کی قیادت میں مظاہروں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، اگر انہیں رہا کیا گیا تو انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ جماعة الدعوة کے اہم لیڈر عبدالرحمان مکی اس معاملے کی تیاریاں کر چکے ہیں اور خفیہ طور پر مہم بھی شروع کر رکھی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور ہتھیاروں کا انتظام بھی کیا جا چکا ہے تاکہ دکھایا جا سکے کہ وقت آنے پر ہتھیار چلائے جا سکتے ہیں۔ اس لیے حافظ سعید کی رہائی امن عامہ کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی لاہور نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حافظ سعید کی رہائی کی صورت میں امن و امان کو شدید خطرہ ہے اس لیے امن برقرار رکھنے کیلئے انہیں رہا نہ کیا جائے۔

مزید : قومی /اہم خبریں