قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کئے جانے کا ذکر ہے،غلط سرٹیفکیٹ پر نااہلی کی سزا کا ذکر نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کئے جانے کا ذکر ہے،غلط سرٹیفکیٹ پر نااہلی کی سزا ...
قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کئے جانے کا ذکر ہے،غلط سرٹیفکیٹ پر نااہلی کی سزا کا ذکر نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جاری ہے۔چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ کیاایسی فہرست ہے جس میں کارپوریشنز سے بیرون ملک فنڈز لئے گئے؟ جس پر انور مقصود خان کا کہنا تھا ہمارے پاس اپنے فنڈز کی تفصیل ہوتی ہے وہ ہمیں بھیجے جاتے ہیں، ایجنٹ کو اسی دائرہ اختیار میں کام کرناہوتا ہے جسکا وہ مجاز ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیاجو لسٹ فارا کی ویب سائٹ پرہے اس پرشیخ صاحب مختلف کیوں کہہ رہے ہیں؟، کیا آپ فنڈکی تفصیلات فارا کو دیتے ہیں؟۔پی ٹی آئی وکیل انور منصور کا کہنا تھاعمران خان کا سرٹیفکیٹ موصول ہونے والے فنڈز کے متعلق تھا، ایجنٹ نے قانون اور ہدایات پر عمل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیااور غیر ملکی کمپنی سے فنڈز لینے کا معاملہ نوٹس میں آیا ہے، اس پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا یہ کہنا کہ ایجنٹ کی غلطی ہے درست نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کئے جانے کا ذکر ہے، پولیٹیکل پارٹیزایکٹ،عوامی نمایندگی ایکٹ میں غلط سرٹیفکیٹ پرنااہلی کی سزاکاذکر نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا عمران خان کو نااہل کن گراو¿نڈز پر کیا جائے؟ ، عوامی نمائندگی ایکٹ میں بھی جعلی سرٹیفکیٹ پرقانونی نتائج بھگتنے کا ذکر نہیں ،وکیل درخواست گزار اکرم شیخ نے کہا فارا کی ویب سائٹ پر تمام معلومات درج ہیں،جس پر انور منصور نے کہا عمران خان نے سرٹیفکیٹ ایجنٹ کی یقین دہانی کے بعد دیا، جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ فارا تحریک انصاف پاکستان کی ریگولیٹر نہیں،انور مقصود کا کہنا تھا امریکا کے اندر فنڈز لینے پر پابندی نہیں، ایجنٹ نے قانون اور ہدایات پر عمل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا۔

مزید : اسلام آباد