نو منتخب وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر ایک نظر

نو منتخب وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر ایک نظر
نو منتخب وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر ایک نظر

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعدنو منتخب قائد ایوان شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی کا مسلسل چھٹی بار حصہ ہیں جبکہ وہ قومی اسمبلی کے رکن کے حیثیت سے وفاقی وزیر پٹرولیم ،چیئر مین قومی ائیر لائن،،چیئر مین سٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع رہ چکے ہیں جبکہ وہ سابق وزیر اعظم کے ساتھ جیل کاٹ چکے ہیں۔ا نہیں ن لیگ میں اعلیٰ قیادت کا با اعتماد اور قریبی ساتھی گردانہ جاتا ہے ۔

نئے منتخب وزیر اعظم نے ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی ،اس کے بعد مری کے لارنس کالج سے انٹر کی تعلیم حاصل کی ، اعلی تعلیم کے لئے انہوں نے الیکٹریکل انجیئنر میں گریجوایشن امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے کیا اس کے بعد انہوں نے اسی پروگرام میں ماسٹر کی ڈگری جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ سے حاصل کی۔

میں 45دن کے لئے آیا ہوں مگر 45 مہینوں کا کام کروں گا، نو منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا دبنگ اعلان

ان کی سیاسی کیرئیر کا آغاز ان کے باپ خاقان عباسی کی وفات کے بعد ہوا،شاہد خاقان عباسی 1988میںراولپنڈی سے آزاد امیدوارکی حیثیت قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ، اور اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ہو گئے،اس کے بعد یہ1990میں اسلامی جمہوری اتحاد کی ٹکٹ سے ایم این منتخب ہو کر پارلیمانی سیکرٹری دفاع منتخب ہو ئے،1993کے جنرل الیکشن میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لیا،قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں دفاع کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین کی حثییت سے اپنی خدمات انجام دی،اس کے بعد چوتھی بارمسلسل انہوں نے 1997میں پاکستان مسلم لیگ کی ٹکٹ سے الیکشن جیتا،جس کے بعد ان کو پاکستان انٹرنیشل ائیرلائن کا چیئر مین بنا دیا گیا،وہ اس وقت اس عہدے پر براجمان رہے جب 1999میں آرمی کی مداخلت کے نتیجے میں ان کو طیارہ ہائی جیک کیس میں گرفتار کر لیا گیا ۔منتخب وزیر اعظم دو سال طیارہ ہائی جیکنگ میں جیل میں بھی رہے۔تاہم 2008میں وہ پھر قومی اسمبلی کی نشست پاکستان مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ سے منتخب ہو گئے۔

2013میں جنرل الیکشن میں ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے،جہاں ان کو وزیر برائے پیٹرولیم اور قدرتی ذرائع بنا دیا گیا۔

28جولائی 2017کو نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کو پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے ان کو وزیر اعظم کی ذمہ داری سونپی گئی ہیں۔

مزید : قومی