وزارت اعظمی کا حلف اٹھاتے ہی شاہد خاقان عباسی کیلئے ایک اور سب سے شاندار خوشخبری آ گئی

وزارت اعظمی کا حلف اٹھاتے ہی شاہد خاقان عباسی کیلئے ایک اور سب سے شاندار ...
وزارت اعظمی کا حلف اٹھاتے ہی شاہد خاقان عباسی کیلئے ایک اور سب سے شاندار خوشخبری آ گئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نو منتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حلف اٹھاتے ہی ان کیلئے سب سے شاندار خوشخبری آ گئی ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ 45 دن کیلئے نہیں بلکہ حکومت کی مدت ختم ہونے تک وزیراعظم کی کرسی پر براجمان رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ کے شاہد خاقان عباسی آج قومی اسمبلی کے 28ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں تاہم مستقل وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کے نام پر مسلم لیگ تذبذب کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے اور اسی وجہ سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی حکومت کی مدت پوری ہونے تک وزیراعظم رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ کیا تحریک انصاف کی جلسے میں ورکرز خواتین دیکھنے آتے ہیں؟ صحافی کے سوال پر پی ٹی آئی خواتین کے مابین تلخ کلامی

معروف صحافی سید طلعت حسین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا ” شاہد خاقان عباسی 221 ووٹوں کے ساتھ وزیراعظم بن گئے۔ امکان ہے کہ وہ حکومت کی مدت پوری ہونے تک وزیراعظم رہیں گے اور شہباز شریف مرکز میں نہیں آئیں گے۔“

سید طلعت حسین پہلے صحافی نہیں ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے بلکہ ان سے قبل معروف صحافی و تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی بھی نجی ٹی وی کے پروگرام میں اس پر بات کر چکے ہیں اور انہوں نے بھی یہی امکان ظاہر کیا تھا کہ شائد شہباز شریف وزیراعظم نہ بنیں اور شاہد خاقان عباسی کو ہی مستقل وزیراعظم رہنے دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”نواز شریف کم از کم۔۔۔“ عائشہ گلالئی نے پارٹی چھوڑتے ہی نواز شریف کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے گی، جان کر مسلم لیگ (ن) والے خوشی سے نہال ہو جائیں گے

دوسری جانب شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کے حوالے سے پنجاب کے وزراءکی جانب سے کھلے عام سامنے آنے والے خدشات سے بھی اس خیال کو تقویت ملتی ہے جن کا موقف ہے کیونکہ جماعت کے ایک بڑے حلقے کا موقف یہ ہے کہ ان کی طاقت اور شناخت پنجاب ہے اور میاں شہباز شریف کی انتھک محنت اور ترقیاتی منصوبوں نے ہمیشہ انتخابات میں مسلم لیگ کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی لندن میں پارٹی مناتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر ’لیک‘ ہو گئیں، دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ گیا کیونکہ۔۔۔

سیاسی حلقوں کے مطابق مسلم لیگ اس کنفیوژن کا شکار ہے کہ میاں شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 سے الیکشن لڑنے کیلئے پنجاب اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ پھر اس کا اگلا مرحلہ قومی اسمبلی کی نشست جیتنا اور پھر وزیراعظم کے لئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔

گو یہ تینوں مرحلوں میں میاں شہباز شریف کی کامیابی یقینی ہے۔ تاہم یہ ایک اعصاب شکن مرحلہ ہوگا اور موجودہ غیر یقینی صورتحال میں مسلم لیگ پنجاب کا مورچہ کسی کے حوالے کرنے پر کشمکش کا شکار ہے۔

مزید : اسلام آباد