’میں کھانا کھاتے ہوئے مردوں کے ساتھ یہ کام کرتی ہوں جس کے بدلے وہ مجھے لاکھوں روپے دیتے ہیں‘ بھاری بھرکم خاتون نے اپنی کمائی کا ایسا ذریعہ بتادیا کہ کوئی خوابوں میں بھی تصور نہ کرسکتا تھا

’میں کھانا کھاتے ہوئے مردوں کے ساتھ یہ کام کرتی ہوں جس کے بدلے وہ مجھے لاکھوں ...
’میں کھانا کھاتے ہوئے مردوں کے ساتھ یہ کام کرتی ہوں جس کے بدلے وہ مجھے لاکھوں روپے دیتے ہیں‘ بھاری بھرکم خاتون نے اپنی کمائی کا ایسا ذریعہ بتادیا کہ کوئی خوابوں میں بھی تصور نہ کرسکتا تھا

  

لندن(نیوز ڈیسک) زندہ رہنے کے لئے ہر کسی کو کچھ نہ کچھ ذریعہ معاش اختیار کرنا پڑتا ہے لیکن بعض لوگ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ایسے ایسے شرمناک پیشے اختیار کر لیتے ہیں کہ سن کر عقل حیران رہ جائے۔ برطانوی خاتون 36 سالہ میرانڈا کین بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں، جو اپنے ڈیڑھ سو کلو گرام وزن کے باوجود کچھ ایسی جنسی خدمات کے زریعے کمائی کرتی ہیں کہ جس کا ذکر شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہو گا۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق میرانڈا نیم برہنہ ہو کر اپنے گاہک مردوں کے اوپر بیٹھتی ہیں اور اسی حالت میں پیزا کھاتی ہیں، اور اس کام کے بدلے انہیں بھاری معاوضہ ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ”میں ’میلوڈی‘ کا فرضی نام استعمال کرتی ہوں اور میری ایک رات کی فیس 2000پاﺅنڈ (تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔ میرے گاہکوں کی عمریں 18 سے 80 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ میں نہ صرف ان کے اوپر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہوں بلکہ ان میں سے اکثر کو جسم کے پچھلے حصے پر چانٹے رسید کرکے بھی خوش کرتی ہوں۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ انہیں اس میں کیا مزہ آتا ہے لیکن بہرحال اس کے بدلے وہ مجھے بھاری فیس دیتے ہیں۔

نوجوان لڑکی نے اپنے ہی پاﺅں کا انگوٹھا کاٹ ڈالا اور پھر اسے دے کر بدلے میں کیا چیز حاصل کرلی؟ جواب ایسا کہ کوئی عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا

دراصل میں کامیڈین بننا چاہتی تھی لیکن جب اس میں کامیابی نہ ہوئی تو 23 سال کی عمر میں مَیں نے ایک مشہور نائٹ کلب کیلئے کام شروع کردیا۔ وہاں مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ کچھ مرد موٹی خواتین میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نے انٹرنیٹ پر جنسی خدمات فراہم کرنے والی موٹی خواتین کے متعلق تلاش شروع کی اور بالآخر مجھے ایک اچھی ویب سائٹ مل گئی۔ میں نے اپنی تصاویر اس ویب سائٹ پر پوسٹ کردیں۔ اگرچہ مجھے کچھ زیادہ کامیابی کی توقع نہیں تھی لیکن مجھے حیرانی ہوئی کہ بہت سے مردوں نے میرے ساتھ رابطہ کیا۔ پہلی بار مجھے پارک لین کے ایک ہوٹل میں مقیم مرد نے اپنے پاس بلایا۔ میں نے اس کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارا اور اس کے بدلے مجھے 300 پاﺅنڈ (تقریباً 45ہزار پاکستانی روپے) ملے۔

اس کے بعد میری ملاقات اکثر ایسے مردوں سے ہوتی تھی جو چاہتے تھے کہ میں انہیں ذلیل کروں اور ان پر ہلکا پھلکا تشدد بھی کروں۔ وہ مجھے اس کے بدلے اضافی رقم دینے پر بھی تیار ہوتے تھے۔ بس میں نے یہی باتیں دیکھ کر اس کام کو پیشے کے طور پر اپنا لیا اور اب تک ڈھیروں دولت کما چکی ہوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس