خواتین کا جنسی استحصال نہیں روک سکتے،ایسے طاقتور اداروں نے ہاتھ کھڑے کردیئے کہ آپ کی پریشانی کی انتہانہیں رہے گی

خواتین کا جنسی استحصال نہیں روک سکتے،ایسے طاقتور اداروں نے ہاتھ کھڑے کردیئے ...
خواتین کا جنسی استحصال نہیں روک سکتے،ایسے طاقتور اداروں نے ہاتھ کھڑے کردیئے کہ آپ کی پریشانی کی انتہانہیں رہے گی

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)برطانیہ کی پارلیمانی کمیٹی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل امدادی تنظیموں میں جنسی استحصال کے سلسلے کو روکنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ یہ ادارے اپنے مرد ملازمین کے ہاتھوں خواتین ورکروں کے استحصال میں ناکام ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے ترقیاتی شعبے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سربراہ سٹیفن ٹوِگ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امدادی اداروں میں جنسی استحصال ایک وباء کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ ادارے ایسی صورت حال کا خاتمہ کرنے کے بجائے اپنے ملازمین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح کسی بھی استحصالی رویے کی انکوائری شفاف طریقے سے مکمل نہیں ہو پاتی۔

اس کمیٹی نے انٹرنیشنل اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تنظیم کے ملازمین کی مزید چھان بین کرے اور ایسے افراد کے نام سامنے لائیں جو خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے ہوں تا کہ ان شکاریوں کو کوئی اور ادارہ نوکری دینے سے گریز کرے کیونکہ جنسی استحصال کرنے والے اپنی عادت سے باز نہیں رہ سکتے اور وہ مسلسل ایسے افعال کا ارتکاب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایسے اداروں میں مجموعی تاثر یہ ہے کہ جنسی استحصال کرنے والے ملازمین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور اس باعث اندرونِ خانہ پیچیدگیوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے۔ برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے مطابق ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں یہ مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو چکا ہے اور اس کا حجم بعید از قیاس ہے۔

برطانیہ کی غیرسرکاری تنظیموں کے نگران ادارے کا کہنا ہے کہ مختلف ادارے جنسی استحصال کے عمل کا مکمل صفایا چاہتے ہیں۔یہ بھی واضح کیا گیا کہ بین الاقوامی امدادی اداروں میں ملازم خواتین کے جنسی استحصال کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ برطانوی دارالعوام کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ رواں برس کے اوائل میں برٹش کثیرالقومی امدادی ادارے اوکسفیم میں جنسی استحصال کے الزامات کے تناظر میں ہے، جب سات ملازمین نے اپنی اپنی نوکریوں سے استعفے دے دیے تھے۔

اوکسفیم کے حوالے سے ایسے انکشافات بھی سامنے آئے تھے کہ اس ادارے کے بعض ملازمین نے کیربیین ملک ہیٹی میں سن 2010 کے زلزلے کے بعد قائم ہونے والے مقامی دفتر میں خواتین عہدوں پر جسم فروش خواتین کو ملازمتیں تک دے رکھی تھیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس