عمران خان کو مودی کا فون اور نیک خواہشات

عمران خان کو مودی کا فون اور نیک خواہشات

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ عوام کو غربت کے شکنجے سے نکالنے کے لئے مشترکہ تدابیر کی ضرورت ہے،بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار مودی کے مبارک باد کے ٹیلی فون پر ان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ جنگوں اور خونریزی سے تنازعات کے حل کی بجائے المیے جنم لیتے ہیں۔ مودی نے عمران خان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، پاکستان کو ایک اچھے ہمسائے کے روپ میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان میں امن واستحکام کی خواہش رکھتا ہے،بھارت کو امید ہے کہ نئی پاکستانی حکومت ایک مضبوط، مستحکم، محفوظ اور ترقی یافتہ، جنوبی ایشیا کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گی،نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ انہیں امید ہے پاکستان کی نئی حکومت جنوبی ایشیا میں امن و امان کے حوالے سے کام کرے گی۔ بھارت، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنے کا خواہش مند اور اپنے پڑوسی کے ساتھ امن کا خواہاں ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے پاکستان کے متوقع وزیراعظم کو مبارک باد کا فون کرکے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اگرچہ وہ رسمی اور رسمِ دُنیا کے مطابق ہی ہیں تاہم اُن کا اِس لحاظ سے خیرمقدم کیا جانا چاہئے کہ جنوبی ایشیا میں امن کی خواہش تو پاکستان سمیت خطے کے ہر مُلک کی ہے،کیونکہ اگر جنگ وجدل کا لامتناہی سلسلہ جاری رہے گا اور خطے کے ممالک اپنے وسائل اسلحہ اور گولہ بارود کی بھٹیوں میں جھونکتے رہیں گے تو پھر امن کا قیام کیسے ممکن ہو گا؟پاکستان اور بھارت ہمسائے ہیں اور فروری1999ء میں جب اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے تھے تو انہوں نے تاریخی شاہی قلعہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں،ہمسائے نہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ جب لاہور آ رہے تھے تو اُن کے ساتھیوں نے اُنہیں کہا تھا کہ وہ مینارِ پاکستان پر نہ جائیں،کیونکہ اِس طرح وہ اپنے عمل سے پاکستان کے قیام پر مہر تصدیق ثبت کر دیں گے تو واجپائی نے بقول خود، اپنے ان ساتھیوں کو جواب دیا تھا کہ پاکستان اُن کی مہر کا محتاج نہیں ہے،وہ اپنی قوت اور زور سے قائم اور موجود ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ واجپائی کے ساتھیوں اور اب مودی کے رفقا میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہو گی، جو پاکستان کے بارے میں خبثِ باطن کا اظہار کرتے رہے ہیں، ایسے عناصر پہلے بھی موجود تھے اور اب بھی کہیں چلے نہیں گئے،یہی وجہ ہے کہ واجپائی کی حکومت میں جب جنرل پرویز مشرف آگرہ مذاکرات کے لئے گئے تو انہی ’’ہاکس‘‘ کی بدولت مذاکرات کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلان تک جاری نہ ہو سکا اور اعلان کے مسودے میں بار بار ردوبدل کیا جاتا رہا یہاں تک کہ جنرل پرویز مشرف طویل انتظار کے بعد اعلان کے بغیر ہی غصے کے عالم میں آدھی رات کو پاکستان واپس آ گئے۔

آگرہ مذاکرات کے نتیجے میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہونے جا رہا تھا اور نہ اِس سے کوئی بہت زیادہ توقعات تھیں اور اگر کسی نے اِن مذاکرات کے ساتھ ایسی امیدیں وابستہ کر لی تھیں تو اسے اس کی سادہ لوحی سے ہی موسوم کیا بھی جانا چاہئے، واجپائی کے دورۂ لاہور سے کشمیر کا مسئلہ بھی حل نہیں ہونے جا رہا تھا،لیکن اِن ابتدائی اقدامات کو ناکام بنانے والے اگر بھارت میں موجود تھے تو پاکستان میں بھی تھے،واجپائی جب لاہور کے قلعے میں خطاب کر رہے تھے،لاہور کی سڑکوں پر اُن کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا ایسے میں مودی کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی بات کرنا بڑے دِل گردے کا کام ہے، اور مودی نے عمران خان سے فون پر بات کر کے اگر بہتر تعلقات کی خواہش کی ہے تو خوش آئند ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے کہ کیا ہم بہتری کے سفر کے لئے پہلا قدم اُٹھانے کے لئے تیار بھی ہیں؟

نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے اوائل میں مودی نے کابل سے نئی دہلی جاتے ہوئے لاہور میں ان سے ملاقات کی تھی۔ اگرچہ اِس اچانک آمد پر بہت سی چہ میگوئیوں کا آغاز ہو گیا، کیونکہ اتفاق سے یہ دن نواز شریف کی سالگرہ کا دِن تھا اور یہ تاثر بھی ملا کہ وہ وزیراعظم کی سالگرہ میں شرکت کے لئے آئے ہیں، لیکن اِس کے بعد کتنی سالگرہیں گذر گئیں مودی دوبارہ کبھی نہ آئے،بلکہ تعلقات کی بہتری کی خواہش بھی دب کر رہ گئی اور اِس پورے عہد میں کنٹرول لائن پر کشیدگی برقرار رہی،سرجیکل سٹرائیک کے فسانے بھی تراشے گئے اور پاکستان کو کھلی دھمکیاں بھی دی گئیں، کولڈ سٹارٹ جنگ کی شیخیاں بھی بگھاری گئیں،لیکن تعلقات کی بہتری کی امیدیں بھر نہ آئیں،یہاں تک کہ بھارتی رویئے کے باعث اسلام آباد میں سارک سربراہ کانفرنس کا اجلاس بھی نہ ہو سکا، بھارتی وزیر خارجہ اسلام آباد میں اعلان کر کے گئی تھیں کہ جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کیا جائے گا،لیکن آج تک ایسا بھی نہیں ہو سکا، اس کے باوجود اگر نریندر مودی پاکستان کے نئے وزیراعظم کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں،چشمِ ما روشن،دِل ماشاد، البتہ خواہشات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کئے جائیں گے تو ہی بات بنے گی اگر محض نیک خواہشات سے ہی تبدیلی آنی ہوتی تو اب تک تبدیلی کی ہوائیں کئی بار چل چکی ہوتیں۔

مودی نے جب وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا تو سارک ممالک کے سربراہوں کو بھی شرکت کی دعوت دی، نواز شریف بھی اِس تقریب میں گئے تھے اب پاکستان میں ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں بھی سارک ممالک کے سربراہوں کو دعوت دی جائے گی،نہیں کہا جا سکتا کہ اِس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ ہو گیا ہے یا ابھی تک محض تجویز ہے یا خالی قیاس آرائی،لیکن اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ خیال رکھنا ہو گا کہ یہ بھارت ہی ہے، جس نے سارک تنظیم کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس کے رویئے کی وجہ سے ہی گزشتہ برس سارک سربراہ اجلاس اسلام آباد میں نہیں ہو سکا تھا بلکہ اب تک نہیں ہو سکا، بھارت کے ساتھ کئی دوسرے ممالک نے بھی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اِس لئے اگر ایسی کوئی دعوت دی جا رہی ہے تو یہ پس منظر ذہن میں رکھا جائے۔ ریکارڈ تو یہی کہتا ہے کہ سارک تنظیم دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکی، محض ایک تقریب میں شرکت سے کیا سارک اپنے ایام طفلی سے نکل سکے گی؟ لیکن اگر ایسی دعوت دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور سارک سربراہ پاکستان آ جاتے ہیں تو ممکن ہے اس سے ماضی کی جمی ہوئی برف پگھلنے میں کوئی مدد مل سکے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...