روپے کی قدرمیں اضافہ،ڈالر کی کم۔۔۔ خوش کن!

روپے کی قدرمیں اضافہ،ڈالر کی کم۔۔۔ خوش کن!

گزشتہ دو تین روز سے کاروباری طبقے اور عوام نے یہ جان کر سُکھ کا سانس لیا کہ انٹر بینک اور کھلی مارکیٹ میں ڈالر سستا اور روپے کی قدر میں اضافہ شروع ہو گیا اور اب انٹر بینک میں 124.40 روپے اور کھلی مارکیٹ میں123 روپے پر آ گیا جو130روپے تک چلا گیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ روپے کی بے قدری اور ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہو گا۔اس عمل کو مُلک کی معاشی ابتری اور اقتصادی بدحالی سے موسوم کیا جا رہا تھا اور یہ حقیقت بھی تھی کہ اِس عمل سے جہاں قرضوں کی مد میں اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا وہاں درآمدی اشیاء کے نرخ بھی بڑھ گئے،خصوصی طور پر پٹرولیم مصنوعات اور خام مال پر بوجھ بڑھا تو اِس سے پورے مُلک میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان پیدا ہو گیا،حتیٰ کہ اخباری صنعت بھی متاثر ہوئی۔نیوز پرنٹ، سیاہی،کیمیکلز اور آئی ٹی آلات بھی مہنگے ہو گئے۔یوں ایک بحران پیدا ہو گیا جس کے بڑھنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ روپے کی قدر میں اضافے اور ڈالر کے سستا ہونے سے قرضوں کے بوجھ میں بھی450 ارب کی کمی ہوئی،جبکہ سونے کے نرخ بھی 4700روپے تک گر گئے، اس سے یہ بھی توقع پیدا ہوئی کہ مزید درآمدی خام مال اور دوسری اشیاء کے نرخ کم ہو جائیں گے اور ملکی صنعت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جہاں تک برآمد کا تعلق ہے تو روپے کی قدر میں کمی کو اِس کے لئے اچھا قرار دیا گیا،لیکن ہمارے تجارتی بڑوں نے غیر مثبت ہی گردانا۔ان کے مطابق مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کم ہونے سے برآمدی اشیاء بھی متاثر ہوئیں اور ان کے مقامی نرخ بڑھے اس کے لئے ایک بہتر انتظام کی ضرورت تھی اور پچھلے دروازے سے روپے کی قیمت کم کرنے کی بجائے ایک پالیسی کے تحت باقاعدہ اعلان کر کے ایسا کیا جاتا تو بلیک مارکیٹنگ اور سٹے سے بچا جا سکتا تھا۔جہاں تک موجودہ صورتِ حال کا تعلق ہے تو اسے عام انتخابات کے پُرامن انعقاد سے بھی جوڑا جا رہا ہے اور توقع کی جانے لگی ہے کہ حکومت سازی کے بعد ادارے کام کرنے لگیں گے تو نئی حکومت سے بہتر اقتصادی اصلاحات اور پالیسی کی بھی توقع ہو گی جس کا اہتمام فوری طور پر کیا جانا چاہئیے، اطلاعات یہ ہیں کہ ایسا اہم دوست ممالک کے تعاون سے ممکن ہوا،اس میں سعودی عرب کے ایک ارب ڈالر اور چین کی مدد بھی شامل ہے۔حالیہ صورتِ حال خوش کن سہی، تاہم اسے مستقل صورت دینے کے لئے ایک بے عیب اقتصادی پالیسی کی ضرورت ہے اور سارے پہلوؤں کا جائزہ لے کر اقتصادی اصلاحات کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔ تاکہ مُلک اور عوام کو فائدہ پہنچے یہ بھی ایک امتحان ہے۔

مزید : رائے /اداریہ