جمہوریت کا نیا عہد

جمہوریت کا نیا عہد
جمہوریت کا نیا عہد

  


نپولین نے کہا تھا کہ کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں مگر ناکامی ہمیشہ یتیم ہوتی ہے۔ نپولین زندہ ہوتے، پاکستان میں ہی ہوتے اور موجودہ انتخابات کے بعد بلند ہونے والے احتجاجی شور قیامت کو سنتے تو وہ اپنے اس مقولے میں تھوڑی بہت ترمیم ضرور کرتے۔ انتخابات میں جو امیدوار ناکام ہوئے ہیں وہ واضح طور اپنی ناکامی کا ذمہ دار کسی نہ کسی کو قرار دے رہے ہیں۔

بلکہ بعض سیاستدان تو اپنی ناکامی کے کئی کئی باپ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی روایت نہیں ہے۔

اس کی وجہ دھاندلی بھی ہوتی تھی۔ جھرلو کو بھی موردالزام ٹھہرایا جاتا تھا۔ بعض اوقات ایسے امیدوار بھی دھاندلی کا شور مچاتے رہے ہیں، جن کے ناکام ہونے کا خود ان کے گھر والوں کو بھی یقین ہوتا ہے اور ان کے واویلے سے وہ چوہا یاد آتا ہے جو بن سنور کر جنگل کے بادشاہ کے دربار میں جا رہا تھا کیونکہ مبینہ طور پر شیر کا بچہ قتل ہو گیا تھا اور شیر نے تفتیش کے لئے تمام جانوروں کو طلب کیا تھا۔

چوہے سے کسی نے دریافت کیا کہ وہ اتنے اہتمام سے کیوں جا رہا ہے تو اس پر اس نے برجستہ جواب دیا کہ میں شبہے میں جا رہا ہوں۔ بعض امیدوار جیتنے کے لئے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے۔

ان کا شوق محض اتنا ہوتا ہے کہ لوگ انہیں سابق امیدوار قومی یا صوبائی اسمبلی کے طور پر یاد رکھیں۔ بعض لوگوں کی خاندانی یا مذہبی مجبوریاں بھی انہیں انتخابی میدان میں چھلانگ لگانے پر مجبور کرتی ہیں۔ دھاندلی کا شورمچا کر عزت حاصل کرنے کا کوئی موقعہ بھی ضائع نہیں کرتے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک بڑی سیاسی پارٹی ہے۔ موجودہ انتخابات میں وہ دوسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور فیصلہ ہوا ہے کہ اس کے ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر حلف اٹھائیں گے۔

میاں نوازشریف نے اڈیالہ جیل سے بیان جاری کیا ہے کہ انتخابات چوری کر لئے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انہیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے کی سازش ناکام ہو گئی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر متنازع نتائج کا اعلان کرنے میں 28 گھنٹے لگ جائیں گے تو کارکنوں کا غصہ قابل فہم ہے۔بلاول بھٹو زرداری خود اتنے اچھے ہیں کہ ان کے غصے پر بھی بہت سے لوگوں کو صرف پیار ہی آتا ہے۔

موجودہ انتخابات پر سب سے دلچسپ ردعمل مولانا فضل الرحمن کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 25جولائی کے انتخابات مینڈیٹ نہیں ڈاکہ تھا۔ ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں سرے سے انتخابات ہی تسلیم نہیں کرتے۔

وہ پورے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان انتخابات میں آراوز یرغمال تھے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی طرح انہیں بھی شکست ہوئی ہے اور اب دونوں مذہبی راہنما چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرانے میں ناکام ہوا ہے۔

لڑکی کی شادی میں میراثی کی پٹائی ہو گئی۔ بارات آئی تو میراثی زور زور سے رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس لڑکی کی جب بھی شادی ہوتی ہے میری پٹائی ضرور ہوتی ہے۔دلہن والے بڑی مشکل سے دولہا والوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ میراثی بکواس کر رہا ہے اور اس دلہن کی یہ پہلی شادی ہے۔

انتخابات کے خلاف جو واویلا نظر آ رہا ہے اس سے جمہوری نظام کسی بڑے خطرے میں پڑتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے تاہم اس نے تحریک انصاف کے لئے پریشانی ضرور پیدا کر دی ہے۔

عمران خان نے کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کھل کر اعلان کیا کہ جن حلقوں میں الزامات لگیں گے انہیں کھول دیا جائے گا۔ مگر ان کے اس اعلان سے اپوزیشن کے لیڈر مطمئن ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔

وہ مسلسل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور واویلے سے سیاسی ماحول کو خوب گرما رہے ہیں۔پاکستان میں اپوزیشن اکثر احتجاج اور الزامات کے راستے سے ہی اقتدار کی منزل تک پہنچتی ہے۔

عظیم امریکی صدر ابراہام لنکن نے اپنے بیٹے کے استاد کو ایک تاریخی خط لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان کے بیٹے کو بہت سے علوم کی تربیت دے مگر وہ ناکام ہونے کا ہنر ضرور سکھائے۔ وہ اسے سکھائے کہ جب زندگی میں شکست مقدر بن جائے تو اس نے دوبارہ جیت کی طرف سفر کیسے کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرق میں لوگ ہر معاملے کو زندگی اور موت کا معاملہ بنا لیتے ہیں۔

ناکامی پر موت کو ترجیح دینے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے مگر مغرب میں لوگ ناکام ہونے کے بعد بار بار کوشش کرنے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ Try Try Again اکثر لوگوں کا نظریہ حیات بن چکا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ انسان کو جدوجہد کرنا بند نہیں کرنی چاہیے۔ جب تک زندگی ہے مقصد کے حصول کے لئے کوشاں رہنا چاہیے۔ کیونکہ کوشش ترک کر دینے کا مطلب موت ہے۔

پاکستان میں ہونے کے باوجود عمران خان نے وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کے لئے اسی فلسفہ حیات پر عمل کیا ہے۔ وہ متعدد مرتبہ ناکام ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف بدترین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے تو اپنی کتاب میں ان پر ایسے ایسے الزامات عائد کئے ہیں کہ انہیں صرف ریحام خان کی کتاب میں ہی پڑھا جا سکتا ہے۔

ان کو بیان کرنے کے لئے خاصا واہیات ہونے کی شرط ہے۔

عمران خان کی کامیابی پر سب سے اچھا ردعمل ان کی سابقہ اہلیہ جمائما کی طرف سے آیا ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کے باپ کے آئندہ وزیراعظم پاکستان بننے پر خوشی کا اظہار کیاہے اور خوبصورتی سے ان رکاوٹوں اور ناکامیوں کا تذکرہ کیا ہے جن کو شکست دے کر عمران خان کامیابی کے تخت پر متمکن ہونے والے ہیں۔اسفند یار ولی خان کا ردعمل بھی خاصا باوقار تھا۔

انہوں نے اپنی ناکامی کو تسلیم کیا اور عمران کی کرشماتی شخصیت کی تعریف کی۔ ان کے اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔

چند عشرے پہلے پاکستان کی سڑکوں پر تقریباً ہر گاڑی چلانے والا باربار ہارن دینے کے شوق میں مبتلا تھا مگر اب یہ رحجان بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی خامیوں کا علاج ہمیشہ زیادہ جمہوریت میں تلاش کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی گاڑی رواں دواں رہی تو بہت سے نامناسب رویوں میں تبدیلی آئے گی۔ سیاسی کلچر صحت مند ہو جائے گا۔

پاکستان کے حالیہ انتخابات کے انعقاد کی دنیا بھر میں تعریف کی جا رہی ہے اور ان انتخابات میں جس طرح عوام نے مذہبی جماعتوں کو مسترد کیا ہے اس پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

عالمی مبصرین پاکستانی جمہوریت کے مقابلے میں بھارتی جمہوریت کی تعریف کرتے ہیں مگر حالیہ انتخابات کے نتائج نے ہماری جمہوریت کے حسن سے پردہ ہٹا دیا ہے۔

بھارت کا آئین اس کے سیکولر ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ مگر انتخابات کے ذریعے وہاں ایک انتہاپسند ہندو جماعت برسراقتدار آئی تھی جس کے عہد میں ملک کو اقلیتوں کے لئے جہنم بنا دیا گیا ۔

پاکستانی جمہوریت نے مذہبی انتہاپسندی کوہی مسترد نہیں کیا بلکہ اہل پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور روشن خیالی کے نئے عہد کی امید بھی دی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...