ٹرمپ کا پادری کی فوری رہائی کا مطالبہ اور ترک، امریکہ تعلقات

ٹرمپ کا پادری کی فوری رہائی کا مطالبہ اور ترک، امریکہ تعلقات
ٹرمپ کا پادری کی فوری رہائی کا مطالبہ اور ترک، امریکہ تعلقات

  


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک انتظامیہ کے نام اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ ’’ترکی نے اگر پادری اینڈریو برنسن کو،جو ایک عظیم عیسائی، خاندانی آدمی اور بہترین انسان ہیں، فوراً رہا نہ کیا تو امریکہ ترکی پر طویل اقتصادی پابندیاں عائد کر دے گا۔امریکی پادری ان20 امریکیوں میں شامل ہے جنہیں2016ء میں ہونے والی فوجی بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

گزرے 23 مہینوں سے اس پر جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔گزشتہ ماہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ترک حکام نے اسے جیل سے گھر منتقل کیا تھا۔

جاری مقدمے میں اسے 35 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔امریکی انتظامیہ نے پادری کی گھر نظر بندی کو مسترد کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جسے ترکی نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فیصلہ قانون کے مطابق ہو گا اور اس سے کسی کو استثناء حاصل نہیں ہے‘‘۔۔۔پادری برنسن گزشتہ دو دہائیوں سے ترکی میں ایک عیسائی فرقے ایوینجلسٹ کا ایک چرچ چلا رہا ہے۔ یہ فرقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دُنیا میں آمد ثانی پر ایمان رکھتا ہے۔

اِس فرقے کے مطابق جب دُنیا شر سے بھر جائے گی اور اس پر اینٹی کرائسٹ یعنی ’’شر کے نمائندے‘‘ کی حکمرانی ہو گی تو پھر عیسیٰ علیہ السلام اِس دُنیا میں تشریف لاکر اس کا خاتمہ کریں گے اور دُنیا میں امن و امان قائم کریں گے۔

بائبل میں بیان کردہ احوال کے مطابق موسیٰ کا خدا اپنے بچوں،یعنی بنی اسرائیل کو گھیر گھار کر ایک مرتبہ پھر ارضِ مقدس، یعنی سرزمینِ اسرائیل میں اکٹھا کرے گا، انہیں برکت دے گا۔ طاقت دے گا، خوشحالی دے گا اور وہ سلیمان نبی کے دور کی عظمت لوٹائے گا۔ دُنیا پر اسرائیل کا دوبارہ راج ہو گا۔

ایوینجلیکل عیسائی ریاست اسرائیل کے قیام کو خدائی وعدے کی تکمیل سمجھتے ہیں۔1948ء میں برطانیہ نے اسرائیل کو قائم کیا۔ ایک مذہبی جذبے کے تحت یہودیوں کے لئے ایک ریاست قائم کی گئی۔برطانوی افواج کے سربراہ جنرل ایلن بی جب فاتح کے طور پر یروشلم آیا تو اُس نے جوتے اُتار دیئے اور بیت المقدس میں ننگے پاؤں اِس دروازے سے داخل ہوا، جس کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی دروازے سے شہر میں داخل ہوتے تھے۔

بیت المقدس کو مسلمانوں سے ’’مذہبی جذبے‘‘ کے تحت چھینا گیا تھا۔ ترک خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ بھی مذہبی جذبے کے تحت کیا گیا تھا، پھر اسی جذبے کے تحت ریاستِ اسرائیل قائم کی گئی۔برطانوی عیسائی حکمرانوں نے سیاسی، سفارتی اور عسکری طور طریقوں سے ریاست اسرائیل کے قیام کو ممکن بنایا، پھر امریکی حکمران اِسی جذبے کے تحت ریاست اسرائیل کی تعمیر و ترقی میں لگے ہوئے ہیں۔

عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی روایات اور پیشین گوئیوں کے مطابق 2500سال بعد ریاست اسرائیل کا قیام وعدۂ خداوندی ہے۔ پوری دُنیا میں بکھرے یہودیوں کا ایک پرچم تلے جمع ہونا خدائی وعدوں کے عین مطابق ہے۔

یہودی عظیم ریاست اسرائیل کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔ عہد نامہ قدیم اور جدید کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہیکل سلیمانی انہی بنیادوں پر تیسری مرتبہ تعمیر کیا جاتا ہے، جس پر نبی سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا، یہ دور یہودیوں کی عظمت کا دور مانا جاتا ہے۔

یہودی اسی عہدِ رفتہ کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ یہودی اپنے مسیحا کی آمد کے بھی منتظر ہیں۔عیسائی مسیح ابنِ مریم کی آمد ثانی پر ایمان رکھتے ہیں، گویا ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں مسیح ایک مشترکہ ایمان شے ہے۔ ایوینجلیکل عیسائی مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں۔

ان کے عقائد کے مطابق مسیح کی آمد کے لئے گریٹر اسرائیل کا قیام ضروری ہے۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور وہاں پر تابوتِ سکینہ کی موجودگی ضروری ہے ان نکات پر عیسائی اور یہودی ایک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ عظمیٰ کے تمام حکمران اور امریکی انتظامیہ اسرائیل کے قیام اور بقا کے لئے کوشاں رہے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

گزری صدی میں اقوام مغرب، بالخصوص برطانیہ عظمیٰ کا مذہبی لبادہ بہت زیادہ واضح نہیں تھا۔مشرقِ وسطیٰ اور دُنیا کے دیگر خطوں میں سیکولر ازم اور ڈیمو کریسی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور مذہبی رواداری کے فروغ کے نام پر معاملات آگے بڑھائے جاتے رہے، ٹارگٹ اہلِ اسلام اور ان کے حقیقی نمائندے تھے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حسن البنا کی تحریک، اخوان المسلمین کے خلاف بعثی تحریک کو کھڑا کیا گیا۔ ایک عیسائی دانشور مائیکل افلاک نے عربوں میں نیشنل ازم کے جذبات پروان چڑھائے۔

فرعونی تہذیب کے احیاء کی کاوشیں کی گئیں اور بعث ازم کے نام سے بعث پارٹی قائم کی۔ مصر اور شام میں بعثی پارٹی کو حکمران بنایا گیا اور پھر ان حکمرانوں نے اخوان المسلمین کے خلاف نظریاتی ہی نہیں، عسکری محاذ بھی کھول دیا۔ عربوں میں قومیت کے فروغ کے ذریعہ دینی حمیت کو کمزور کیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں عرب اتحاد پارہ پارہ ہے،اسرائیل خطے میں اصلی بدمعاش بن چکا ہے، دُنیا کی واحد سپریم پاور اس کی پشت پر ہے۔ عالمی رائے عامہ کے برعکس اسرائیل یروشلم کو ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کر چکا ہے۔

امریکہ نے اس کے اس کلیم یا دعویٰ کو تسلیم کر کے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کر لیا ہے۔گویا عربوں کے جذبات و خیالات کے خلاف اور عالمی رائے عامہ کے برعکس گریٹر اسرائیل کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

اسرائیلی حکمران ہیکل سلیمانی کو گنبد صخریٰ کی بنیادوں پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔وہ بڑی منصوبہ بندی اور یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں،جبکہ اہلِ اسلام میں اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں سید مودودیؒ کی تحریک کے خلاف بھی سیکولر اور کمیونسٹ عناصر نے فکری مورچہ لگایا۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا میں فکر مودودیؒ کے نفوذ کو روکنے کے لئے منظم کاوشیں کی گئیں۔

سید مودودیؒ کو قید و بند اور پھانسی کے حکم کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں سیکولر ازم کے تحت جماعت اسلامی کے لوگوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا چکا ہے۔پاکستان میں دینی روایات دم توڑ چکی ہیں، ہندوستان میں گاؤ ماتا کے ماننے والوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں عیسائی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہیں،مُلک شام میں درجنوں عیسائی ممالک کی افواج بظاہر ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں، کچھ بشار الاسد کی حکومت بچانے میں مصروف نظر آتی ہیں اور دیگر داعش کے خلاف برسر عمل نظر آتی ہیں، کچھ کردوں کی حمایت کرتی نظر آ رہی ہیں،لیکن بالآخر سب مسلمانوں کو قتل کرتی نظر آتی ہیں،اس طرف یا اُس طرف، دائیں یا بائیں چہار سو مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔

امریکی عیسائی انتظامیہ بڑی یکسوئی سے مسلمانوں کی بیخ کنی میں مصروف ہے۔9/11 کے فوراً بعد بش کی تقریر کا متن ملاحظہ کر لیں، اس نے صلیبی جنگ کا اعلان کیا تھا، عملاً بھی امریکی حکمران مسلمانوں کے خلاف صلیبی جذبے کے تحت ہی برسر عمل ہیں۔ ترکی گزری صدی میں مسلمانوں کی سیاسی و عسکری قوت و عظمت کا نشان رہا ہے، جسے یورپی عیسائی طاقتوں نے ختم کیا۔

اب ایک بار پھر ترکی ان کے نشانے پر آ چکا ہے۔ اردوان کی قیادت میں ترکی گزرے15/10برسوں سے تعمیر وترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ ترک قوم ایک عظیم قوم ہے، جس پر جنگِ عظیم اول کے بعد سیکولر و ملحد عناصر غالب آ گئے تھے۔

ترک فوج کمال ازم کی محافظ اور نگران تھی، اس نے کسی سول حکمران کو چلنے نہیں دیا،جس کے باعث اقوام عالم میں ترک قوم کی کوئی حیثیت نہیں رہی تھی۔

اردوان نے بڑی حکمت و تدبر کے ساتھ ترکی کو تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا، فوج کے کردار کو محدود کیا اور عالم اسلام میں قائدانہ کردار کرنا شروع کیا۔

اردوان نے فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی، اسرائیلی مظالم کو دُنیا کے سامنے پیش کیا

اس کے برعکس امریکہ کو اسرائیل کے خلاف ایسی توانا آواز ہر گز برداشت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ2016ء میں ترک فوج کی بغاوت میں شامل کئی عناصر کو امریکی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ ترک فتح اللہ گولن،امریکہ میں بیٹھ کر ترک حکومت کے مخالفین کو شہ دیتا رہا ہے۔

ترک حکومت نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہوا ہے کہ وہ ترک شہری فتح اللہ گولن کو ان کے حوالے کرے تاکہ اس پر مقدمہ چلایا جا سکے،لیکن امریکہ ترک حکومت کا مطالبہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔

ترک حکومت نے 2016ء کی بغاوت کے بعد کریک ڈاؤن میں20 امریکیوں کو بھی گرفتار کیا ہے، ان میں ایوینجلسٹ پادری اینڈریو برنسن بھی شامل ہے جو دو دہائیوں سے ترکی میں ایک چرچ چلا رہا ہے۔

ترک حکومت نے اسے جاسوسی اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط اور معاونت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔گزشتہ20/22 ماہ سے اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔ خرابئ صحت کی بنیاد پر اسے حال ہی میں گھر پر نظر بند کیا گیا ہے،لیکن امریکی حکومت نے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی کی تعمیر و ترقی، اس کا فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا،امریکی صہیونی حکمرانوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

پھر2016ء میں جس طرح ترک عوام نے فوجی بغاوت کے خاتمے میں کردار ادا کیا، وہ بھی عیسائی مغربی اقوام کے لئے لمحہ فکریہ بن چکا ہے، اِس لئے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اردوان انتظامیہ کو ناکام بنانے کے لئے یکسو ہو چکی ہے اور یہ کام انتہائی مذہبی جذبے کے تحت کرنے جا رہی ہے۔

ٹرمپ کا بیان پڑھ کر دیکھ لیں، اس میں ’’عیسائی مذہبیت کی خوشبو‘‘ رچی بسی نظر آئے گی۔ایران کو سبق سکھانے کے مشن پر وہ پہلے ہی یکسو ہے، اب وہ مسلمانوں کی رہی سہی قوت، ترکی پر بھی عرصۂ حیات تنگ کرنے جا رہے ہیں،لیکن ترک قوم کو جھکانا اتنا بھی آسان نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں امریکی دھمکیاں کہاں تک جاتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...