مون سون کا مینڈیٹ

مون سون کا مینڈیٹ
مون سون کا مینڈیٹ

  

آئندہ مون سون کے موسم میں مارشل لاء لگانا پڑ جائے ، پاکستانی الیکشن کبھی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ برسات کی بارش کی طرح مون سون کے دوران انتخابات میں ووٹ بھی ایسے ہی پڑے ہیں کہ کہیں زوردار چھپاکا اور کہیں زمین بھی گیلی نہیں ہوئی۔ کہیں کہیں تو تحریک انصاف کو وہاں بھی ووٹ مل گئے ہیں، جہاں کبھی عمران خان کا ذکر بھی نہیں ہوا تھا۔

یوں لگتا ہے کہ ووٹوں کا چھٹا دیا گیا ہے کہ کہیں گچھے کے گھچے اگ آئے اور کہیں اتنا فاصلہ کہ دو پودوں کے درمیان بستر کرکے سویا جا سکتا ہے۔

مون سون کی بارشوں کی طرح مون سون کے مینڈیٹ نے سارے الیکشن کا مزا کرکرا کردیا ہے ۔ یہ پہلا الیکشن ہے، جس میں جیتنے والا منہ چھپائے پہاڑ پر بیٹھا ہے اور ہارنے والا ہسپتال سے جیل جانے کی ضد کررہا ہے۔

اوپر سے سختی ایسی کہ میڈیا ، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا ، پرکسی کو بات کرنے کایارا نہیں۔جوذرا سی چیں چوں کرتا ہے ، سٹوڈیو سے نکال باہر کیاجاتا ہے۔ ٹی وی پر دھڑا دھڑ تجزیئے ہو رہے ہیں، لیکن سننے والوں کو سمجھ آرہی ہے نہ سنانے والوں کو، تحریک انصاف کی فقیدالمثال کامیابی کے گن گانے کے بعد بھی اینکرپرسن کہتے پائے جاتے ہیں کہ عمران خان اب بھی وزیراعظم بننے کے لئے چار سیٹوں کی دوری پر ہیں ۔

اس مون سونی مینڈیٹ نے ہر ادارے کو بھگو کر رکھ دیا ہے،کیا عدلیہ ، کیا فوج،کیا میڈیا اور کیا الیکشن کمیشن۔۔۔ہر کوئی نمو جھانا بنانظرآرہا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ کسی کے ہاتھ میں چھتری نہیں ہے ۔پی ٹی آئی والے کہتے پائے جاتے ہیں کہ اگر مینڈیٹ لے کر ہی دیناتھا تو پورا تو دے دیتے، کم ازکم حکومت بنانے کے لئے جہانگیر ترین کو جہاز رکشے کی طرح تو نہ چلانا پڑتا۔

اس سے بھی بڑھ کر خطرے کی بات یہ ہے کہ جہاں کہیںrecountہوتاہے مسلم لیگ (ن) rebound کرتی نظرآتی ہے۔ووٹوں کی گنتی چھ سات حلقوں سے شروع ہوئی تھی اور بات 70 حلقوں تک جا پہنچی ہے ، یہ الیکشن تھا یاانفیکشن کہ پھیلتاہی جا رہا ہے ۔

ابھی تو شکر ہے مولانا فضل الرحمن متحدہ اپوزیشن کی مان گئے ہیں وگرنہ اگر متحدہ اپوزیشن مولانا کی مان جاتی تو اس وقت ڈی چوک پرکنٹینروں کی بہار آچکی ہونی تھی۔ کمال کی بات یہ ہے کہ حکومت بننے سے پہلے متحدہ اپوزیشن کا محاذ وجودمیں آگیا ہے ۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ الیکشن کروایا ہی اپوزیشن کی جماعتوں کے لئے ہے تاکہ انہیں اپنے آپ کو بحال کرنے کاموقع مل جائے۔ شائدہی پاکستان میں ایسا الیکشن اس سے قبل ہوا ہو، جس کے بعداتنے بڑے پیمانے پردوبارہ گنتی کروانی پڑی ہو۔ اگر70میں سے 35سیٹیں بھی تحریک انصاف ہار گئی تو ان انتخابات کی ساکھ کیا رہے گی؟ کیاساری دنیا تھوتھو نہیں کرے گی؟کیا متحدہ اپوزیشن کوپر پرزے نکالنے کا موقع نہیں ملے گا؟

پورے مُلک میں فارم 45کی ڈھنڈیا پڑی ہوئی ہے۔اب تو میڈیکل سٹور سے دوائی لینے جائیں تو وہ احتیاطاً ساتھ میں فارم 45تھمادیتا ہے کہ کہیں گاہک دوبارہ سے مطالبہ کرتاہوا نہ آ دھمکے۔

اگر یہ تکرار ایسے ہی جاری رہی تو کریانے والے ایک پاؤ چینی کے ساتھ ایک فارم 45مفت دیا کریں گے اور عین ممکن ہے جو ں جوں سیاست دانوں کوفارم 45ملتے جائیں توں توں مُلک میں ضمیمے شائع ہوں کہ آج اتنے لوگوں کو فارم 45مل گیا، کل اتنوں کو ملے گا!

2018ء کے عام انتخابات بڑے خاص انتخابات ہیں کہ جیتے ہوئے ہار رہے ہیں اور ہارے ہوئے جیت رہے ہیں۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی سوئے ہوئے شخص کو خواب میں کوئی خوش خبری سنانے آئے اور جونہی اس کے کان میں بتانے کے لئے جھکے تو معلوم ہو کہ خوش خبری سنانے والا تو ہکلاتا ہے اور بیچارہ خواب دیکھنے والا اس کی بات سننے کی حسرت لئے نیندسے جاگ اُٹھتا ہے اور اس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ ہوتی ہے کہ کاش خوش خبری سنانے والا شخص ہکلانے کے مرض میں مبتلانہ ہوتا تو وہ جاگنے سے پہلے خوش خبری تو سن لیتا ۔

جانے کیا سن لیا اس نے پھر خواب میں

وہ بھری نیند میں مسکرانے لگا!

ہمارے عزیزوں کا ننھا سا بچہ کل دوپہر موبائل پر تحریک انصاف کا نغمہ ’تبدیلی آئی رے ‘سن رہا تھا ۔ ہم نے کہا بیٹے تبدیلی تو آچکی ہے تم پھر بھی تبدیلی آئی رے کیوں سن رہے ہو؟ اس نے معصومیت سے پوچھا انکل تبدیلی کہاں آئی ہے !

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض

پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

پاکستانی ٹی وی چینلوں کا حال دیکھ لیجئے کہ جہانگیر ترین عمران خان کے ایماپر آزاد امیدواروں کی خریدوفروخت کر رہے ہیں تو بتایا جا رہا ہے کہ آج اتنے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ۔

اگر کل کو اپوزیشن نے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنالی تو یہی میڈیا چیختا نظر آئے گا کہ انتہائی بے شرمی کے ساتھ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے ۔ ہمارے میڈیا کا یہ دوہرا معیار اس قدر عام ہے کہ عوام کا میڈیا سے اعتماد اسی طرح ختم ہوتا جا رہا ہے جس طرح نچلی عدالتوں میں انصاف کی خریدوفروخت کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے ۔

محترم مجید نظامی کے وقت تک میڈیا کی عام روش ہوتی تھی کہ اپوزیشن کی سپورٹ ڈٹ کر کی جاتی تھی، لیکن جونہی اپوزیشن حکومت میں آتی تھی ، میڈیا اپوزیشن کے ساتھ جا کھڑا ہوتا تھا اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اپوزیشن کے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا جایا کرتا تھا، لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا کے نام پر سیٹھوں نے اجارہ داری قائم کی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھلونا بننا شروع ہوئے ہیں تب سے یہ میڈیا چینل اس وقت تک راگ نہیں بدلتے جب تک ان سے کوئی راگ بدلنے کا کہتا نہیں ہے ۔

جو کوئی تھوڑی بہت جرات کرتا ہے ، اسے راندہ درگاہ کردیا جاتا ہے اور کہیں اس کی ٹرانسمیشن بند کردی جاتی ہے تو کہیں اس کے اخبار کی ڈسٹری بیوشن کو خراب کیا جاتا ہے۔ اگر الیکٹرانک میڈیا حکومت بن جانے کے بعد بھی عمران خان کی خامیوں اور کوتاہیوں پر اسی طرح پردہ ڈالتا رہا جس طرح انتخابات کے دوران ڈالتا رہا ہے تو اس ملک میں تبدیلی کی تیلی گیلی ہو جائے گی اورعوام میں انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومت لانے کا جذبہ ماند پڑ جائے گا ، غیر جمہوری قوتوں کو موقع ملے گا کہ وہ کھل کر کھیلیں اور یوں ہمارے بزرگوں کا خواب مٹی ہو جائے گا۔ میڈیا جاگے اور اپنا کردار ادا کرے ، خالی ٹائیاں لگا کر اور کوٹ پہن کر آزادی صحافت کے لیکچر دینے سے بات نہیں بنے گی ، اس کے لئے کچھ اس سے بڑھ کر کرنا پڑے گاتاکہ پاکستان جمہوریت کی ڈگر پر چلتا رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ وقت بھی آگیا ہے جب بچوں کے سلیبس میں موجود مطالعہ پاکستان کے نصاب پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ ہم مطالعہ پاکستان کے نام پر بچوں کو جغرافیہ تو صحیح بتارہے ہیں، لیکن پاکستان کی تاریخ بہت ہی غلط پڑھارہے ہیں۔

اس کا نتیجہ ہے کہ آج ہر کوئی سیاستدانوں کو گالیاں دے رہا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے سیاستدان ڈیلیور نہیں کر سکے ہیں اس لئے غیر جمہوری قوتوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے کیونکہ ہم مطالعہ پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں کے اقتدار پر قابض ہونے کے طریقوں اور گٹھ جوڑوں پر اپنے بچوں کو کچھ نہیں بتاتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے بچے ایک مفروضے کی بنیاد پر ایک ہی طرح کا سچ گھڑ کر ملک اور ملک کے سیاستدانوں کو کوستے رہتے ہیں ۔ اگر ہم واقعی ملک میں اصلی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہمیں بچوں کو پاکستان کی سیاسی تاریخ اس کے صحیح تناظر میں پڑھانی ہوگی وگرنہ مون سون کا مینڈیٹ ہمیں حبس زدہ موسم سے دوچار رکھے گا۔

مزید : رائے /کالم