ایک سیاست سو افسانے

ایک سیاست سو افسانے
ایک سیاست سو افسانے

  

ہمارا بڑھک مار سیاسی کلچر ایسے انوکھے مناظر دکھاتا ہے کہ آنکھ دنگ رہ جاتی ہے۔ آج کل لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف بُعدِمشرقین رکھنے والے ایک جگہ کیسے بیٹھ گئے ہیں؟ سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی تصویریں گردش کر رہی ہیں جن میں شہباز شریف پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی معیّت میں باہم شیر و شکر بیٹھے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اے این پی کے اسفند یار ولی کے ساتھ کندھا ملائے براجمان ہیں، اب لوگ پوچھتے ہیں کہ شہباز شریف نے تو اپنی انتخابی مہم بھی آصف علی زرداری کی لوٹ مار پر چلائی تھی، نیازی زرداری بھائی بھائی کے نعرے بھی لگوائے تھے۔

اب وہ خود زرداری کے بھائی بن گئے ہیں۔ اُدھر عمران خان کو بھی نہیں بخشا جا رہا، ان کی چودھری برادران سے ملاقات کے موقع پر ایک پرانا کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں وہ پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دے رہے ہیں۔

آج اُسی ڈاکو سے انہیں ہاتھ ملانا پڑ گیا ہے اور انہیں پنجاب میں اہم ذمہ داری بھی سونپی جا رہی ہے۔ یہی حال ایم کیو ایم کے حوالے سے بھی سامنے آیا ہے۔ ایم کیو ایم کو سندھ کی دہشت گرد جماعت قرار دینے کے باوجود آج اس کی ضرورت پڑی ہے تو سب ٹھیک ہو گیا ہے۔

یہ آج کا مخمصہ نہیں بلکہ شروع دن سے ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف اتنی بڑھکیں مارتے ہیں کہ مولا جٹ لگتے ہیں۔ عوام ان کی ان باتوں سے متاثر ہو کر ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں، لیکن ایک دن اچانک انہیں پتہ چلتا ہے کہ معاملہ تو کچھ اور ہی تھا۔

ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے یا جیل بھجوانے کا دعویٰ کرنے والے تو ایک دوسرے سے جپھیاں ڈال رہے ہیں، ٹھٹھہ مخول کر رہے ہیں، حالانکہ وہ پہلے بھی ٹھٹھہ مخول ہی کر رہے ہوتے ہیں، بس عوام کو سمجھ نہیں آتی۔

عمران خان بھی جب اقتدار میں آئیں گے تو انہیں اپنی بہت سی باتیں عجیب لگیں گی۔ اتنی عجیب کہ ان پر عملدرآمد کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے انتخابات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں سب کو مفاہمت کا پیغام دے دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو اپنے انتخابی جلسوں میں جیل بھجوانے کا اعلان کرتے رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے کسی فیصلے سے انہیں جیل نہیں بھیج سکتے۔

یہ کام عدالتوں کا ہے۔ یہ بڑھک مار سیاسی کلچر ہمارے معاشرتی ماحول کو گدلا کر رہا ہے۔ لوگوں میں نفرت اور ہیجان پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ آج یہ حال ہو چکا ہے کہ ایک ہی محلے میں رہنے والے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے حامی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔

سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں لگائی جاتی ہیں کہ اگر کوئی مسلم لیگ (ن) کا حامی ہے تو وہ میری فرینڈ لسٹ سے نکل جائے، اسی طرح (ن) لیگ کے حامی پی ٹی آئی والوں کو نکل جانے کی وارننگ دیتے رہتے ہیں۔ اتنی زیادہ پولرائزیشن کس وجہ سے پیدا ہوئی ہے؟ صرف لیڈروں کے فلمی بیانات کی وجہ سے۔۔۔ اگر وہ شخص دشمنی کو اجاگر کرنے کی بجائے ایشوز کی بنیاد پر بات کریں تو بات دشمنی کی حد تک نہ جائے ،مگر ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ سب جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں اور پھر جب ہوش آتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ اسی دشمن سے ہاتھ ملانا پڑ گیا ہے۔ اس رویے پر یہ کہہ کر پردہ ڈالتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کے دشمن بن سکتے ہیں۔

کل پیپلزپارٹی کے رہنما منظور احمد یہ کہہ رہے تھے کہ ہم عمران خان کو اس لئے بھی وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں، جن میں شہبازشریف کو جیل میں ڈالنے کا وعدہ بھی شامل ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کس انداز سے سیاسی مخالفت کو جاری رکھنا چاہتی ہے؟۔۔۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپوزیشن میں آکر سب ایک ہو جاتے ہیں۔

خاص طور پر جب ہدف ایک بن جائے۔ متحدہ اپوزیشن کسی کے اقتدار میں آنے پر وجود میں آ سکتی ہے تو انتخابات میں مشترکہ اتحاد کے طور پر کیوں حصہ نہیں لے سکتی؟ آج دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے نرغے میں آئی ہوئی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن انہیں اپنی انگلی کے اشارے پر چلا رہے ہیں۔ یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت کیا سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ ویسے تو یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کی روادار نہیں۔

خود مولانا فضل الرحمن کی یہ خواہش ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر دیگر جماعتوں کے ووٹوں سے اپنی حکومت بنائیں، مگر پیپلزپارٹی یہ کسی صورت نہیں چاہتی کہ تحریک انصاف کے مقابل کوئی اتحاد کھڑا کیا جائے۔ حالت یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں چھ نشستیں رکھنے والی پیپلزپارٹی مسلم لیگ(ن) کو حکومت بنانے کے لئے اپنے ووٹ دینے کو تیار نہیں۔

ایک کمرے میں بیٹھ کر اجلاس کرنے والے اندر سے بالکل ایک نہیں ہیں، صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لئے اس قسم کے اتحاد بنتے اور اجلاس ہوتے ہیں۔۔۔ جمہوریت آگے بڑھنی چاہیے اور اس پر لولی لنگڑی جمہوریت کا لیبل لگا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی بجائے کھلے دل سے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کی روایت ڈالنی چاہیے۔

الیکشن کمیشن نے بڑی محنت کی اور ریاستی اداروں نے بھی قومی الیکشن جیسی بڑی مہم کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کوئی سیاسی جماعت اپنی جیتی ہوئی نشستیں چھورنے کو تیار نہیں، البتہ دھاندلی کا الزام ضرور لگا رہی ہے، اگر دھاندلی ہوئی ہے تو پھر پورے ملک میں ہوئی ہے، ہر حلقے میں ہوئی ہے۔

پھر تو مطالبہ سارے الیکشن کو کالعدم قرار دینے کا ہونا چاہیے، مگر جب یہ مطالبہ مولانا فضل الرحمن نے کیا توسب نے اس کی مخالفت کی اور مولانا کو سبکی سے دوچار کیا۔ اب اس بات کو کیسے مانا جائے کہ جہاں تحریک انصاف جیتی ہے ، وہاں دھاندلی ہوئی ہے اور جہاں سے دیگر جماعتیں جیتی ہیں، وہاں انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جب یہ بڑھک ماری تھی کہ تحریک انصاف کے ارکان کو اسمبلی میں گھسنے نہیں دیں گے تو اس کی کسی نے مذمت نہیں کی، البتہ اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ اسمبلی کے حلف کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔۔۔ہمیشہ یہ بات کی جاتی ہے کہ انتخابی نظام میں شفافیت لانے کے لئے اصلاحات ہونی چاہئیں، لیکن ایسی اصلاحات سے کیا ہو گا، جب تک نتائج کو تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوتا۔

جہاں دھاندلی کے الزام کو اپنے ووٹروں کے سامنے مظلوم بننے کا ذریعہ سمجھ لیا جائے، وہاں کون اعلیٰ ظرف ہے جو نتائج کو خوش دلی سے قبول کرے گا۔ ذرا ملک بھر کے عوامی نمائندوں پر نظر ڈالیں، کوئی ایک امیدوار بھی ایسا نہیں ملے گا، جو اخلاقی جرأت کے ساتھ اپنی ہار کو تسلیم کرے اور جیتنے والے کو مبارک باد دے۔

وہ سب سے پہلا کام یہی کرے گا کہ میڈیا پر آکر دھاندلی کا واویلا کرے، فرضی کہانیاں سنائے اور صاف و شفاف انتخابی عمل کو بھی مشکوک بنادے۔ دھاندلی کا کوئی ثبوت نہ دے، مگر مطالبہ یہی کرے کہ دوبارہ گنتی ہونی چاہئے یا انتخاب ہی دوبارہ کرائے جائیں۔

جہاں اوربھی بہت سے معاملات میں جمہوریت کی روح پیدا کرنے کی ضرورت ہے، وہاں نتائج کو تسلیم کرنے کا ظرف بھی درکار ہے، وگرنہ ہر پانچ سال بعد ہم انتخابات کراتے رہیں گے اور اُس کے بعد پانچ سال تک دھاندلی کے الزام کی دھول اُڑتی رہے گی۔

جس طرح مختلف بڑھکیں مارنے سے عوام کے اندر خوامخواہ اضطراب پیدا کیا جاتا ہے، اسی طرح دھاندلی کے الزامات بھی معصوم عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔

وہ ایسی باتوں سے متاثر ہو کر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، اُنہیں لگتا ہے کہ اُن کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا اور مینڈیٹ چرا لیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، اگر یہ رویے نہ بدلے گئے تو ہم دس مزید انتخابات بھی کرالیں پر نالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔

صرف ووٹ کی خاطر کسی کو سڑکوں پر گھسیٹنے، کسی کو جیل میں ڈالنے، کسی سے لوٹی دولت واپس لینے، کسی پر یہودی ہونے کا الزام لگانے اور کسی کو ملائیت پھیلانے کا مورد ٹھہرانے جیسے رویوں کی وجہ سے ہماری سیاست بہت گدلی ہوچکی ہے۔

اگر ووٹ ڈالنے کے عمل کو شفاف بنانا ہے، تو پہلے اپنے رویوں میں شفافیت لانا ہوگی۔ سیاست میں سب کچھ جائز نہیں ہوتا، ایسا ہو تو سیاست جنگل کے قانون جیسی ہوجائے۔

سیاست ایک احسن عمل کا نام ہے، جس کے ذریعے معاشرے کا نظام چلتا ہے اور معاشرہ نظم و ضبط میں ڈھلتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ معاشرے میں انتشار پھیلاکر یہ توقع رکھیں کہ ایسی جمہوریت آجائے گی، جس میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

مزید : رائے /کالم