نئی حکومت ، نئے مسائل، پس چہ بائد کرد؟

نئی حکومت ، نئے مسائل، پس چہ بائد کرد؟
نئی حکومت ، نئے مسائل، پس چہ بائد کرد؟

  

آج کے پاکستان کو کئی طرح کے داخلی اور خارجی چیلنج درپیش ہیں۔ بقول ایک فارسی شاعر، پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کسی انگوٹھی کے ایک ایسے نگینے کی سی ہے جس کو بڑی بُری طرح سے خوفناک بلاؤں اور مسائل نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔

جس طرح انگوٹھی کا نگینہ بڑی مضبوطی سے چہار اطراف سے بنائے گئے شکنجے میں جکڑا ہوتا ہے اور اِدھر اُدھر، ہل جُل نہیں سکتا اسی طرح پاکستان بُری طرح ہر قسم کی بلاؤں کا صیدِ زبوں ہے۔

بگردا گردِ خود چنداں کہ بینم

بلا انگشتری و من نگینم

سب سے بڑا بحران مالیاتی بحران ہے جو پاکستان کے نئے وزیراعظم کا سب سے پہلا دردِ سر ہو گا۔ خزانہ خالی ہے اور ملک دیوالیہ ہو رہا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ کوئی ’’مخیر‘‘ طاقت آگے بڑھ کر اس ڈانواں ڈول معیشت کو چاروں شانے چت گرنے سے بچا لے۔ نظر بظاہر چین اور سعودی عرب کے علاوہ کوئی تیسرا ملک سہارا نہیں بن سکتا ہے۔

چین نے 2ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے جس میں سے ایک ارب ڈالر پاکستانی خزانے میں آ بھی چکے ہیں۔ تیل کی درآمدات کا اگلے تین برسوں کے لئے بندوبست بھی کر لیا گیا ہے۔ لیکن خارجی قرضوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ پاکستان کو کم از کم 10ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔ پاکستان کی مالیاتی مشکلات کا حل کسی ’’کھل جا سم سم‘‘میں نہیں رکھا ہوا۔ اس لئے اگلے پانچ برسوں تک عمران خان اور ان کے وزیرخزانہ کو سرتوڑ کوششیں کرنی پڑیں گی۔

اگر عمران آج وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہیں تو آنے والے کل میں انہیں فوری طور پر ان بیرونی ممالک کے دورے پر نکلنا ہوگا جو ہماری اس پریشان حالی اور درماندگی میں ہمارا ہاتھ پکڑ سکیں۔

گزشتہ روایات کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب کا نام لیا جا رہا ہے۔ سعودی سفیر نے سب سے پہلے عمران خان سے بنی گالا آکر ملاقات کی تھی اور انہیں اپنی حمائت کا یقین دلایا تھا۔

لیکن اصل یقین دہانی کے خدوخال کیا تھے ان کو اوپن نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسا کیا جاتا ہے۔ یہ رموزِ مملکت عوام کے لئے نہیں، حکومتی خواص کے لئے ہوتے ہیں۔ اگر عمران سب سے پہلے ریاض کا رخ کرتے ہیں تو ممکن ہے پاکستان کو فوری طور پر درپیش مشکلات کا کوئی مداوا مل سکے۔ اس موضوع پر بہت سی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔

سعودی امداد امریکی اشارے سے منسلک ہوگی اور امریکی اشارے کن شرائط سے منسلک ہوں گے ان کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہر کوئی کر سکتا ہے۔ جو حضرات امریکی میڈیا کو کھنگالنے کا ذوق رکھتے ہیں وہ شائد میرے ساتھ اتفاق کریں کہ امریکی پریس ہمیشہ واشنگٹن کے اشاروں کا ترجمان رہا ہے۔ گزرے کل کے امریکی اخبارات دیکھ لیں، ان میں پاکستان دشمنی کی وہ شدت کم ہوتی نظر آتی ہے جو 2017ء کے اوائل میں ٹرمپ انتظامیہ کی پیدا کر دہ تھی۔

امریکہ نے پاکستان کی فوجی اور سویلین پہلوؤں سے وابستہ ہر قسم کی امداد بند کر رکھی ہے۔ پاکستانیوں کو انتظار رہے گا کہ نئے وزیراعظم سعودی عرب کے دورے سے آغاز کرتے ہیں تو کیا اس میں مذہبی خیر و برکت کا کوئی عنصر شامل ہو گا یا سعودی فرمانرواؤں کی روائتی اشیرباد مقصود ہوگی۔

عمران خان کا دوسرا دورہ مغربی ممالک کا ہو سکتا ہے۔ مغربی بلاک کا امام امریکہ ہے۔

اگرچہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ایران۔ امریکہ نیو کلیئر ڈیل کے سوال پر امریکہ اور یورپی یونین میں واضح اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں لیکن دیکھئے کہ کیا یہ اختلافات حقیقی ہیں یا کسی مصلحت کے مرہونِ منت ہیں۔ اس موضوع پر طرح طرح کے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔

ممکن ہے ہماری وزارتِ خارجہ جو ایک نئے وزیرِ خارجہ کے خیالات کے تابع ہو گی وہ نئے وزیراعظم کو مشورہ دے کہ سعودی عرب کے بعد چین کا دورہ پاکستان کی دوسری ترجیح ہونی چاہیے۔ عمران خان نے قومی اسمبلی میں اکثریتی ووٹ حاصل کرنے کے بعد بنی گالا میں (26جولائی کو) جو تقریر کی تھی اور جس میں سی این این اور بی بی سی کے نمائندوں نے بھی شرکت کرکے اس تقریر کو براہ راست اپنے ٹی وی چینلوں پر نشر کیا تھا اس میں عمران خان نے چھ سات بار چین کا نام لے کر چین کی تعریف کی تھی۔ علاوہ ازیں خان صاحب نے امریکہ کے بارے میں یہ بھی کہا تھاکہ پاکستان، امریکہ سے برابری کے تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کا یہ اعتدال پسندانہ رویہ اس امر کا غماز تھا کہ اس اولین نشری تقریر میں وہ عمران خان پیچھے رہ گیا ہے جو ہر کہ و مہ پر عقابی شان سے جھپٹا کرتا تھا اور ایک نیا عمران خان بطور وزیراعظم ایک ایسی روائت کی بنیاد ڈال رہا ہے جو قبل از کامیابی اور بعد از کامیابی کے افکار و اعمال کا شناسا ہے اور اس میں وہ لچک موجود ہے جو کسی بھی سیاسی لیڈر کو کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس تقریر کی اِن پٹ (Input) میں ISPRکی طرف سے بھی ’’کچھ نہ کچھ‘‘شامل ہوگا۔

دوسرا بڑا چیلنج داخلی محاذ سے وابستہ ہے اور یہ چیلنج اتنا ہی اہم ہے جتنا مالیات سے منسلک چیلنج ہے۔۔۔ میری مراد تحریک انصاف کے ان وعدوں سے ہے جو قائدِ تحریک نے اپنی تقاریر میں پاکستانیوں سے کر رکھے ہیں۔پاکستان کا سواد اعظم ان وعدوں کی تکمیل چاہے گا۔ یہ سواد اعظم اب ایک ایسی حد تک پہنچ چکا ہے جو برداشت اور صبر کے ’’سمندر‘‘ کے آخری کنارے پر ہے۔

جس طرح چھلنی میں پانی نہیں ٹھہر سکتا اور عشاق کے دلوں میں صبر نہیں سما سکتا اسی طرح پاکستانیوں کا وہ طبقہ جو لوئر مڈل، مڈل یا اپر مڈل کہلاتا ہے، وہ بھی چاہے گا کہ وہ وعدے وعید پورے کئے جائیں جو عمران خان کے منہ سے سن سن کر لوگوں نے ان کو حرزِ جاں بنالیا تھا۔

سب سے بڑا وعدہ اوسط درجے کی آمدن والے پاکستانی کو باعزت جینے کی نوید تھا۔ یہ نوید پوری ہوتی نظر آنی چاہیے۔ اگر اس میں تاخیر ہو گئی تو خواہ اس کی وجوہات کتنی ہی مبنی برحقیقت کیوں نہ ہوں وہ عوام کی اکثریت کو قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

مہنگائی کا جن قابو کرنے کے لئے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے کچھ نہ کچھ ہوم ورک تو ضرور کر رکھا ہوگا۔ وہ پلان اے ہو کہ بی ، اس کو فوراً لاگو ہونا چاہیے۔ عمران خان نے غریب غرباء کی حالتِ زار کا نقشہ اپنی انتخابی مہم کی تقریروں میں جس شد و مد سے کھینچا تھا، اسی عجلت سے اس مرض کا علاج بھی شروع کیا جائے۔

یہ علاج اس لئے بھی ضروری ہے کہ مریض جاں بلب ہے اور اس نے ایک مسیحا کی آمد کی امیدیں لگا رکھی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس کے علاج میں اتنی دیر کر دی جائے کہ مریض جاں سے گزر جائے۔

آخرِ شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ

صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

ایک اور موضوع بھی میرے نہاں خانہء دماغ میں چکر لگا رہا ہے۔ اس کا تعلق میڈیا سے ہے۔ اب تک یہی ہوتا رہا ہے کہ ٹاک شوز کی بھرمار ہے۔ اس میں دونوں فریقوں کو دعوتِ مبازرت دی جاتی ہے اور پھر جب لڑائی شروع ہوتی ہے تو اللہ دے اور بندہ لے کا سا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔۔۔ اس کلچر کو اب بریک لگنی چاہیے۔۔۔ کسی حکومتی شخصیت کو یا تحریک کے کسی بھی رہنما کو کسی ٹی وی چینل پر آکر اس طرح کے مباحثے میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ فریقین کی باہم متخالف آراء سامعین و ناظرین کو ایک بڑی مشکل میں ڈال دیتی ہیں۔

وہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ کون درست ہے اور کون غلط!۔ سامع کا ذہن کنفیوژ ہو جاتا ہے۔ یہ ذہنی انتشار اس کی جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس بارے میں افواجِ پاکستان سے کیو (Cue) لی جا سکتی ہے۔

آئی ایس پی آر، فوج کا ترجمان ہے۔ وہ صرف مختصر سی ٹویٹ پر انحصار کرتا ہے۔ اس اختصار کے معانی و مطالب نکالنے کے لئے کسی بزرجمہر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور اگر معاملہ زیادہ ہی اشد اور نازک ہو تو ڈی جی آئی ایس پی آر خود ٹی وی پر ’’نمودار‘‘ ہو کر ایک پریس کانفرنس کر دیتے ہیں۔ لیکن ان کا لب و لہجہ بھی مختصر اور دوٹوک ہوتا ہے۔

وہ زیادہ لمبی چوڑی بحث میں نہیں پڑتے۔ آرمی چیف کبھی بھی کسی پریس کانفرنس کا اہتمام نہیں کرتے۔ ہاں کسی اور فورم یا کسی اور واقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اس مسئلے کا ذکر بھی کر جاتے ہیں جو وقت کا تقاضا ہوتا ہے۔ لیکن یہ تبصرہ محض اشارتاً اور ضمناً ہوتا ہے، تفصیلاً یا تخصیصاً نہیں۔

نئے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو بھی یہی رویہ اپنانا چاہیے۔ کسی معمولی سے واقعے کو اہم بنا کر اس پر بحث و مباحثے کا بازار گرم کرنا نجی ٹی وی چینل کے مالکان کی کمرشل مجبوری ہو تو ہو، اسے معمول اور وتیرہ نہیں بنا لینا چاہیے۔

میں تو یہاں تک جاؤں گا کہ ہر اہم وزارت (مثلاً خارجہ، داخلہ، دفاع، قانون، تجارت، اطلاعات و نشریات و غیرہ) کو بھی اسی طرح کا اپنا ایک نمائندہ مقرر کر دینا چاہیے، جس طرح وزارتِ خارجہ کا ترجمان ہفتے کے ایک مخصوص دن ٹی وی پر آکر متلعقہ / اہم موضوعات پر حکومت کا نقطہ ء نظر پیش کرتا ہے۔

اسی طرح ان وزارتوں کو بھی ہفتے کا ایک دن مقرر کرکے ایک مفصل پریس کانفرنس کرنی چاہیے جس میں میڈیا افراد کے سوالوں اور جوابوں کی خاطر خواہ کوریج کی جا سکتی ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کو ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کرنی چاہیے اور پھر اسے پوری کابینہ میں ڈسکس کرکے اس پر کوئی حتمی فیصلہ لے لینا چاہیے۔ قوم کو بے جا ’’ٹی وی زدگی‘‘ سے باہر نکالنے کی یہ ایک مثبت کوشش تصور ہوگی۔

اور آخر میں ایک اور بڑے چیلنج کا ذکر بھی ضروری ہے جس کا تذکرہ خود عمران خان نے اپنی 26جولائی والی تقریر میں کیا تھا اور جو یہ تھا کہ وہ ’’انتقامی سیاست‘‘ سے احتراز کریں گے۔۔۔ یہ ایک مشکل اور بڑا فیاضی والا کام ہے۔۔۔ کئی میڈیا چینل، ان کے اینکرز اور ان کے حالاتِ حاضرہ کے مبصر اب تک اپنے مالکان کی دی ہوئی پالیسی پر گامزن ہونے پر مجبور تھے۔

ان کو موردِ الزام ٹھہرایا بھی جا سکتا ہے اور نہیں بھی۔ میڈیا میں غیر جانبدار رہنا کسی بھی اینکر، شریکِ مباحثہ، تجزیہ کار اور مبصر کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ نئی حکومت کو پیمرا کے توسط سے اس روش کو ختم کر دینا چاہیے۔ جو کچھ اب تک ہو چکا اس کو فراموش اور درگزر کرکے ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہیے!

مزید : رائے /کالم