پنجاب پولیس کے 186148افسران و اہلکار کے سروس ریکارڈ کو کمپیوٹرازڈ کر لیا گیا

پنجاب پولیس کے 186148افسران و اہلکار کے سروس ریکارڈ کو کمپیوٹرازڈ کر لیا گیا

لاہور(کر ائم رپورٹر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام کی ہدا یت پرماڈرن پولیسنگ کی طرز پرتمام سینئرافسران کو فیصلہ سازی کیلئے ماتحت افسران و اہلکاروں کے کیر یئر پروفائل کے متعلق ضروری معلومات کی فراہمی صرف ایک کلک پر یقینی بنانے کے لئے پنجاب پولیس کے186148 گزیٹڈ اور نان گزیٹڈافسران و اہلکاروں کے سروس ریکارڈ ڈیٹا کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے ۔ اس اقدام کی بدولت پولیس نظام میں میرٹ بیسڈ پالیسی کومزید فروغ ملے گا اور ہر پوسٹ پرقابل ، موزوں اور اچھی شہرت و ریکارڈ کے حامل بہترین افسران و اہلکارو ں کی تعیناتی باآسانی ہوسکے گی ۔ کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا سسٹم ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں کانسٹیبل سے لے کر آئی جی رینک تک ہر سطح کے افسران و اہلکاروں کے کوائف بشمول ا ن کی بنیادی معلو ما ت ، تعلیم ،محکمانہ تر بیت، تر قی، تنزلی، تعینا تی، سزا و جزا، چھٹیوں، سپورٹس، محکمانہ کاروائی ، میڈیکل ریکارڈاور سائیکالوجی سے متعلق ریکارڈ شامل ہے جسے سینئر افسران صرف ایک کلک پر بوقت ضرورت استعمال کرسکیں گے، خاص طور پر آئی جی پنجاب بھی جب چاہیں ڈیش بورڈ پر کسی افسر اور اہلکار کے سروس ریکارڈ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس انقلابی قدم سے فورس کی ٹرانسفر پوسٹنگ سمیت دیگر دفتری امور کی انجام دہی میں اسٹیبلشمنٹ برانچ اور کلرک مافیا کی اجارہ داری کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا اورطویل عرصے تک ایک ہی جگہ تعیناتی کی روک تھام بھی موثر انداز میں ہوسکے گی ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید پراجیکٹ کا آغاز 2016میں کیاگیا تھا تاہم آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام کے خصوصی احکامات پر اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا گیا ہے تاکہ محکمہ پولیس مزید بہتر انداز میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے عوام کی خدمت اور جان و مال کا تحفظ یقینی بنا سکے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے مکمل فعال ہونے سے طویل عرصے سے ایک ہی پوسٹ پر تعینات افسران و اہلکاروں کی نشاندہی ممکن ہوسکے گی اورافسران کو اپنے ماتحت اہلکاروں کے ماضی کے سروس ریکارڈ کے متعلق مکمل آگاہی ہوگی جس کی بدولت بروقت اقدامات کے نتیجے میں عوام الناس میں پولیس افسران واہلکاروں کی من پسند پوسٹنگ کے متعلق پائے جانے والے عمومی تاثرکی نفی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرانسفر پوسٹنگ میں اقربا پروری اورسفارش کلچرکے مکمل خاتمے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے گی۔ اس سسٹم کے آپریشنل ہونے سے صو بہ بھر میں افسران واہلکاروں کے ٹرانسفر/پوسٹنگ کے تمام ا حکاما ت اسی سسٹم سے جا ری ہونگے جبکہ ٹرانسفر آرڈر پر کیو آر کوڈ جیسے سیکیورٹی فیچر متعارف کرائے گئے ہیں تا کہ کسی بھی قسم کی جعلسازی نہ ہو سکے ۔

مزید : علاقائی


loading...