مایہ ناز فنکار آصف غوری کو مداحوں سے بچھڑے 3 برس بیت گئے

مایہ ناز فنکار آصف غوری کو مداحوں سے بچھڑے 3 برس بیت گئے
مایہ ناز فنکار آصف غوری کو مداحوں سے بچھڑے 3 برس بیت گئے

  


لاہور( فلم رپورٹر)ریڈیو پاکستان لاہور کے سابق پروگرام منیجر، ٹی وی،ریڈیو اور سٹیج کے مایہ ناز فنکار ، کمپئرآصف غوری کو مداحوں سے بچھڑے 3 برس بیت گئے۔ 70 کی دہائی میں فنی سفر کا آغاز کرنے والے آصف غوری 2 مارچ 1954 کو بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پیدا ہوئے۔ سٹیج پر بے مثال کامیابی کے بعد انہوں نے ریڈیو سے بطور اناؤنسر، کمپئیر، اور صداکاری کا آغازکیا بہت قلیل عرصے میں ان کا شمار ریڈیو ٹی وی کوئٹہ کے مستند فن کاروں میں کیا جانے لگا ۔1988 میں آصف غوری نے ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کی حیثیت سے مستقل ملازمت اختیار کر لی۔ ریڈیو کوئٹہ پر انہوں نے عرصہ بیس سال تک اردو اور پشتو زبانوں میں بے شمار لازوال ڈرامے، فیچرز، اور دستاویزی پروگرام تخلیق کئے جو آج بھی اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سے بطور اداکار کم و بیش200 ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اوراسٹیج پر میزبانی کے فرائض بھی انجام دیئے۔ انہیں ان کی ریڈیائی خدمات پر ’’آواز کی دنیا کا جنرل بخت خان‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا جبکہ ان کی فنی صلاحتیوں کے اعتراف میں انہیں تین پی بی سی ایکسی لینس ایوارڈزاور پی ٹی وی ایوارڈ سمیت 96 مختلف ایوارڈز سے نوازا گیا۔

ریڈیو ٹی وی اور اسٹیج کے لئے دی گئیں آصف غوری کی خدمات ہمارا ثقافتی اثاثہ ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

مزید : کلچر


loading...