سرکاری کمپنیوں کا رپوریٹ گورننس میں نمایاں بہتری آئی ، ایس ای سی پی

سرکاری کمپنیوں کا رپوریٹ گورننس میں نمایاں بہتری آئی ، ایس ای سی پی

 اسلام آباد (این این آئی) سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پبلک سیکٹر کمپنیز کارپوریٹ گورننس رولز مجریہ 2013 پر موثر عمل درآمد کے نتیجے میں سرکاری کمپنیوں کی کارپوریٹ گورننس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ کارپوریٹ گورننس کے اصولوں پر عمل درآمد کی شرح بڑھانے کے لئیان میں گزشتہ سال ترامیم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے چیئرمین نے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ ان قوائد پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اس امر کو سراہا کہ اس سال ان قوائد کی تعمیل کی شرح ساٹھ فیصد ہے جبکہ 2015 میں یہ شرح محض چھتیس فیصد تھی۔سرکاری کمپنیاں ملکی ترقی کے لئے اہمیت کی حامل ہیں اور معاشی شعبے میں اہم خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ان قوائد میں سرکاری کمپنیوں میں بہتر اور مستعد مینجمنٹ کے لئے اصول وضع کئے گئے ہیں جبکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل و ترتیب بھی بہتر کر دی گئی ہے۔ اب لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کمپنی میں کم از کم ایک تہائی انڈی پینڈنٹ ڈائریکٹر زہوں۔ ان قوائد میں ڈائریکٹرز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے بھی اضافی ہدایات دی گئی ہیں اور حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ سرکاری کمپنیوں میں ڈائریکٹرز کے تقرر کے وقت ان کے ساتھ پرفارمنس کنٹریکٹ بھی کریں۔ علاوہ ازیں کمپنی کے چئیرمین اور چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داریوں اور فرائض کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے جبکہ ڈائریکڑزکے لئے بھی اہلیت کا معیار متعین کر دیا گیا ہے۔ان کمپنیوں کے لئے اب لازمی ہے کہ وہ ان قوائد پر عمل درآمد کے حوالے سے ایس ای سی پی کو کمپنی کے بیرونی آڈیٹرز سے تصدیق شدہ سٹیٹمنٹ جمع کروائیں۔ ایس ای سی پی نے سرکاری کمپنیوں اور ان کی متعلقہ وزارتوں کو اس ریگولیٹری فریم ورک پر عمل درآمدمیں آسانی اور رہنمائی فراہم کرنے کے لئے کمپنیوں کو پبلک سیکٹر کمپنیز کارپوریٹ گورننس کمپلائنس گائیڈ لائنزمجریہ 2018 ، پبلک سیکٹر کمپنی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کے تقررکے لئے گائیڈ لائنز مجریہ 2015 فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ اس حوالے سے آگہی پیدا کرنے کے لئے سرکاری کمپنیوں کے ذمہ داران کیلئے ورکشاپیں ، کانفرنسیں اور تربیتی پروگرام بھی منعقد کئے گئے۔

جبکہ کارپوریٹ گورننس رولز پر عمل درآمد کی تصدیق شدہ سٹیٹمنٹ جمع نہ کروانے والی کمپنیوں کے خلاف انضباطی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

مزید : علاقائی