کاشتکار کپاس سے بارش کے زائد پانی کے نکاس کیلئے اقدامات کریں

کاشتکار کپاس سے بارش کے زائد پانی کے نکاس کیلئے اقدامات کریں

لاہور(اے پی پی )محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکار وں کو خبردار کیا ہے کہ ماہ اگست میں بارشوں کی صورت میں درجہ حرارت عموماََ 33سے 37ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب بھی 60فیصد سے تجاوز کر جاتا ہے ۔ اس موسم میں بارش کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے کاشتکار فصلوں کے لیے پیشگی اقدامات کریں، کھیتوں میں ضرورت سے زائد بارش کے پانی کی نکاسی کو یقینی بنائیں ورنہ پودوں کی نباتاتی اور تولیدی بڑھوتری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کاشتکار آبپاشی محکمہ موسمیات کی پیشنگو ئیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کریں،ترجمان نے مزید بتایا کہ کپاس کی فصل اس وقت بھر پور افزائشی بڑھوتری میں داخل ہو چکی ہے چونکہ کپاس میں نباتاتی اور افزائشی بڑھوتری ہمہ وقت ہو رہی ہوتی ہے لہٰذااس دوران تناسب کو برقرار رکھنا زیادہ پیداوارکے حصول کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر بارشوں کے موسم میں پودا نباتاتی بڑھوتری کرنے لگتا ہے جِس سے پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تا ہے ۔ اس موسم میں نائیٹروجنی کھادوں کا استعمال بھی احتیاط سے کریں،بارشوں کے موسم میں فصل میں جڑی بوٹیوں کی بہتات ہو جاتی ہے لہذا حشرات کے بر وقت اور مؤثر انسدادکے لیے ہفتہ میں فصل کی دوبار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں، برسات کا موسم جڑی بوٹیوں کی افزائش کے لیے بھی مو زوں ہے اس لیے بارش کے بعد اگنے والی جڑی بوٹیوں کے تدراک کو یقینی بنائیں اس سے نہ صرف فصل کی بڑھوتری بہتر ہو گی بلکہ فصل پر حشرات کے انسداد میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی،کپاس کی فصل کھڑے پانی سے خصوصی طور پر متاثر ہو تی ہے ایسی صورتحال میں کپاس کی جڑیں زیادہ گہرائی تک نہیں جاتیں اور خوراکی اجزاء جذب کرنے میں بھی ناکام رہتی ہیں، لہذا کپاس کی فصل سے بارش کے زائد پانی کے نکاس کے لیے اقدامات کریں، اس موسم میں فصل پر وائرس کا حملہ بھی ہو سکتا ہے ، حملہ کی صورت میں متاثرہ پودوں کو کھیت سے نکال کر تلف کرد یں اور بقیہ فصل کو کھاد اور پانی کی کمی کی نہ آنے دیں تا کہ بیماری کے اثرات کم سے کم ہوں اور بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔

مزید : علاقائی