بجلی چوری کرنیوالے بھی فنکار

بجلی چوری کرنیوالے بھی فنکار

پاکستان میں بجلی کی سپلائی کی لائنیں قدیم ‘ بوسیدہ ‘ اور خستہ حال ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے آئے روز جان لیوا حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں بالخصوص موسم برسات میں بجلی کی لائن کی درستگی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتی ہے مگر اسکے باوجود صرف محکمہ واپڈا کے ملازمین اپنی جان پر کھیل کر بھی لائن کو درست کر کے بجلی چالو کر دیتے ہیں ایسے بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں کہ بجلی کی درستگی کے دوران لائن مین بجلی کی تاروں سے چمٹ کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا چند یوم قبل امین آباد کے رہائشی ایک لائن مین محمد سلیم جس نے اپنے پسماندگان میں کمسن بچے بیوہ اور بوڑھے ماں باپ چھوڑے ہیں بجلی کی درستگی کرتے ہوئے لائن سے چمٹ کر جل کر کوئلہ ہو گیا وہ ایک طویل عرصہ تک لائن سے چمٹا رہا اور لوگ اپنے موبائل سے اسکی مووی بناتے رہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں واپڈا نے لائن مین کے تحفظ کیلئے ایک پورا نظام وضع کر رکھا ہے جس کے تحت حفاظتی تدابیر برائے لائن سٹاف کے بڑے بڑے بورڈ نصب کیے گئے ہیں اسکے تحت یہ باور کرایا گیا ہے کہ زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں کام کاج کے دوران حفاظتی تدابیر پر عمل کر کے ہی وہ اپنی جان بچا سکتے ہیں لائنوں پر کام کرنے کے لیے مرتب کیے گئے قواعدو ضوابط پر عمل کرتے ہوئے جان کی تلافی سے بچ سکتے ہیں جبکہ اپنے تحفظ کیلئے کام شروع کرنے سے پہلے بغیر پرمٹ اور گرڈ کو آگاہ کئے بغیر کھمبوں پر چڑھنا خود اعتماد ی ہے لائن مین کو اپنے اہل خانہ اوراپنی زندگی کی خاطر تمام حفاظتی تدابیر کو اپنا نا ہوتا ہے اس سلسلہ میں گیپکو کے ایکسین چوہدری عابد نے بتایا کہ ایک فیڈرکیلئے 1 لائن مین ہونا چائیے تاکہ کام کا بوجھ کم ہوسکے اور وہ اپنا کام احسن طریقے سے ادا کرسکے حادثات کی روک تھام کیلئے افسران اپنے سٹاف خصوصاًلائن مین حضرات سے نرمی سے بات کریں تاکہ وہ بغیر کسی پریشانی و ٹینشن کے کام کرسکیں لائن مین کا احترام ہم سب پر واجب ہے کیونکہ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر شہریوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں فیلڈ سٹاف بغیر حفاظتی اقدامات کے کام نہ کریں ایکسین واپڈا انجینئر چوہدری عابد نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک ترقی پذیر اور پسماندہ ملک ہے مگر ہمارے کاریگر ‘ انجینئرز ‘ اور عملہ انتہائی محنتی اور ذہین ہیں مختلف عرب ممالک میں پاکستان نے ہی افرادی قوت بھیج کر ان ممالک میں دشوار گزار علاقوں میں بجلی کا نظام بچھایا جو آج تک احسن طریقے سے کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا نام نہ صرف بلند ہوا بلکہ مزید ٹھیکہ جات بھی حاصل ہوئے کیونکہ ترقی یافتہ اور عرب ممالک میں پیسے کی فراوانی ہے جو کام پاکستان میں سیڑھیاں لگا کر کیا جاتا ہے اسکے لیے خصوصی کرینیں اور مشینری استعمال کی جاتی ہے جس میں کام کرنے والے کی جان نہ صرف محفوظ ہوتی ہے بلکہ ایسے آلات بھی ان کے پاس ہوتے ہیں جس سے بجلی کی درستگی کرنے والے کو کوئی شاک نہیں پہنچتا اب پاکستان میں بھی ان ترقی یافتہ ممالک سے مشینری اور ٹیکنالوجی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ کم سے کم جانی نقصان اور بجلی کی چوری کی روک تھام ہو سکے واپڈا نے فرانس سے درآمد کردہ ربڑ کے دستانے جو پوری دنیا میں سب سے بہترین دستانے تصور کیے جاتے ہیں لائن مینوں کو دے رکھے ہیں مگر یہ بعض لائن مینوں کی حد سے زیادہ خود اعتمادی اور محکمانہ طور پر نافذ کیے جانیوالے حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی ہے جس وہ خاطر میں نہیں لاتے اور پھر ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں جن کی تلافی ناممکن ہو جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بجلی چوری کا کوئی تصور نہیں بلکہ ایسے میٹر ایجاد کیے جا چکے ہیں کہ ان میں جتنا ایزی لوڈ کرایا جائے گا وہ اتنی بجلی فراہم کر کے خود بخود بجلی منقطع کر دیں گے پاکستان میں یہ فارمولہ تو ایجاد کرنا ناممکن ہے مگر بجلی کی عدم ادائیگی پر صارف کا میٹر کاٹنا ایسے پلازہ جات جہاں ٹرانسفارمر کی ضرورت ہے اور وہ ڈومیسٹک یا کمرشل میٹروں پر بجلی حاصل کر رہے ہیں کی بجلی منقطع کرنے کے لیے سروے مکمل کیا جا چکا ہے انہوں نے کہا کہ بجلی کے استعمال کا لوڈ دیکھ کر ٹرانسفارمر لگانا اشد ضروری ہوتا ہے مگر بااثر افراد ٹرانسفارمر پر خرچ ہونیوالی رقم کو بچا کر دیگر صارفین کو ایک عذاب سے دوچار کر دیتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو لائن مین بجلی کی درستگی کرتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے ورثا کو گراں قدر امداد اور بچوں کو نوکری دی جاتی ہے ایسے حادثات پر لائن سپرٹینڈنٹ اور ایس ڈی او کو معطل کر دیا جاتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کرنے والے بھی فنکار ہوتے ہیں وہ ایسے ایسے طریقوں سے بجلی چوری کرتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے مین لائنوں سے کنڈے لگا کر بجلی ان علاقوں میں چوری کی جاتی ہے جہاں پر قانون کی رٹ نہیں مگر اب کنڈے لگا کر چوری کرنے کا رجحان بھی ختم ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی قوم بجلی کی بچت کیلئے اپنے فرائض حب الوطنی سے ادا کرے تو لوڈ شیڈنگ کی ضرورت ہی نہ پڑے جہاں ایک بلب سے گزارا کیا جا سکتا ہے وہاں پر امرا نے بھاری بھر کم فانوس اور لائٹیں سجا رکھی ہیں جن کے بغیر بھی کام کاج کیا جا سکتا ہے پوری دنیا میں اب ارتھ ڈے محض اس لیے منایا جاتا ہے کہ تاکہ لوگوں میں توانائی کی بچت کا شعور پیدا ہو فالو بتیاں بند کر دی جاتی ہیں اس عمل سے بھی نہ صرف بجلی کی بچت ہوتی ہے بلکہ صارف کی جیب پر بھی بوجھ نہیں پڑتا یہ امر قابل ذکرہے چوہدری عابد کا شمار واپڈا کے ان اعلی افسران میں ہوتا ہے جو الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کیلئے یورپی ممالک میں گئے اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے اکثر اوقات ان ممالک کا دورہ کرتے رہتے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2