نواں کوٹ میں خونی ڈکیتی،شہریوں کا احتجاج

نواں کوٹ میں خونی ڈکیتی،شہریوں کا احتجاج

جب پبلک سروس کے ادارے حکومتوں کے تحفظ اور مفاد کے لئے استعمال ہوں گے تو ریاست بحرانوں کے جھولے پر جھولے بغیر کیسے رہ سکے گی۔ ہمارے سول سرونٹس کی وابستگی ریاست سے کبھی نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ ہی سیاست سے رہی ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج پولیس کا ادارہ ناقابلِ ادراک حد تک تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ پولیس نے پاکستان کے معصوم شہریوں کو تختہ مشق بنارکھا ہے اور اس کے اسی شرمناک کردار کی وجہ سے آج ہر شریف شہری اس کے نام سے خوف کھاتا اور نفرت کرتا ہے۔ یہ پولیس کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے کہ معاشرہ بحیثیتِ مجموعی بے پناہ حد تک عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے۔ شہروں، دیہاتوں، جنگلوں اور ویرانوں میں چہار دانگ، جابجاڈاکو، راہزن، چور، موالی اور دیگر ہر طرح کے جرائم کارعناصر آزاد اور بے لگام دندناتے پھرتے ہیں اوراپنی من مانیوں میں مگن پولیس ایسے مجرموں کی بلاجھجک پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے۔ بااثر مجرموں، سیاستدانوں، سرمایہ داروں،جاگیرداروں اور صنعتکاروں کے ساتھ پولیس کے بعض کارندوں کی بخشیش و تحائف کی روایت اور بعض پولیس افسران کی اپنے ان آقاؤں پر نوازشات کی ثقافت ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے دیسی بھنگڑے کی انگلش بِیٹ پر دیوانہ وار ناچ رہی ہیں۔ ریاست کے بیشتر پولیس سٹیشنز تھانیداروں کے ذاتی ڈیروں اور تھوک پرچون کی دکانوں کا روپ دھارچکے ہیں۔وہاں صرف ان ہی کی داد رسی ہوتی ہے جن کی یا تو کوئی بہت بڑی سفارش ہو یا ان کی جیبوں میں نوٹوں کی گڈیاں چمکتی ہوں‘ اس کے بغیر ان دکانوں پر جو بھی جاتا ہے سوائے بے عزتی اور بدسلوکی کے کچھ نہیں پاتا۔ یہ وطیرہ بھی پولیس ہی کا ہے کہ مخالف پارٹیوں سے رقم ان ہی مظلوم اورکمزور لوگوں کو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے اور ان پرناکردہ جرائم ڈال کر بڑے بڑے خطرناک مقدموں میں پھنسا دیا جاتا ہے جن میں کچھ تو اپنے گھر بار بیچ کر جان بخشی کروالیتے ہیں اور بعض عمر بھر جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، یا پھر پولیس تشدد اور مقابلوں میں ماردیے جاتے ہیں جبکہ اصل مجرموں کو تفتیشوں اور انکوائریوں میں پاک دامن ثابت کرکے قانون کے شکنجوں سے بچا لیا جاتا ہے۔پولیس میں اکثر و بیشتر ناجائز اختیارات استعمال کرنے والوں کی اعلیٰ حکام کی طرف سے حوصلہ افزائی انہیں مزید شیطانیاں کرنے کی طرف راغب کرتی ہے، اور کبھی کبھار معمولی سی ڈانٹ ڈپٹ بھی رسمی طور پر ہوجائے تو ہوجائے۔ آج کی افسرانِ بالا کی اسی طرح کی سرزنش سے بچنے کے لئے کوئی بھی تھانہ ڈکیتی کی ایف آئی آر کاٹنے کو تیار نہیں،بلکہ صریحاً ڈکیتی کی وارداتوں کو بھی چھوٹی موٹی چوریوں کی وارداتوں میں تبدیل کردیا جاتا ہے، اور یہی اگر کسی کے خلاف انتقامی کارروائی مطلوب ہو تو معمولی سی چوری کو بھی خطرناک ڈکیتی کا رنگ دیدیا جاتا ہے۔ مقدمات کا اندراج بغیر رشوت کے ممکن نہیں رہا۔ رشوت تو اب پولیس کلچر کا اٹوٹ انگ بن چکی ہے‘ اس لئے پولیس کا چھوٹے سے چھوٹا کارندہ بھی تھانے کے اندر یا تھانے کے باہر، ناکوں پر یا دورانِ گشت لوگوں کو عجیب و غریب طریقوں سے تنگ کر کے ڈیوٹی کرنے کے بجائے منہ مانگی رشوت بٹورنے میں مستغرق رہتا ہے جسے وہ چائے پانی کے نام پراپنا سرکاری حق سمجھتا ہے۔

بہر حال اس بگڑے ہوئے نظام کو درست سمت لے جانا راقم الحروف کے بس کی بات نہیں قارئین کی نظر شیخوپورہ فیصل آباد روڈکے قصبہ نواں کوٹ میں ڈکیتی کے دوران قتل کی ایک سنگین نوعیت کی واردات کے حالات پیش کرنے جا رہا ہوں،جہاں پر سرشام تین رکنی موٹر سائیکل سوار ڈکیت گینگ کے ارکان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران اندھا دھندفائرنگ کرکے خاندان کے واحد کفیل چار معصوم بچوں کے باپ محنت کش دکاندار اشفاق حمید عرف پھاکا ڈوگرکو چھلنی کر دیا اور فرار ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق شام تقریبا آٹھ بجے کے قریب ایک پولیس وین نواں کوٹ آبادی کے باہر ایک سروس سٹیشن کے قریب کھڑی تھی اور پولیس جوان بیٹ انچارج اے ایس آئی شہزاد علی کی زیر نگرانی پولیس ناکہ لگائے کھڑے تھے پولیس سے تقریبا دو ایکٹر کے فاصلے پر مین روڈ کے اوپر ہی مقتول اشفاق حمید ڈوگر نے سردار جی کریانہ سٹور کے نام سے کریانہ کی دکان بنا رکھی تھی اور اپنی دکان کے گرد آہنی لوہے کا حفاظتی جنگلا بھی لگا رکھا تھا، جبکہ ساتھ ہی تقریباً 30/40 فٹ کے فاصلے پر سندھو مارکیٹ میں مقامی رہائشی ملک غلام حسین نے کریانہ سٹور بنا رکھا تھا جہاں کسی قسم کا حفاظتی انتظام نا تھا ڈاکوؤں نے ملک غلام حسین کی دکان کو ٹارگٹ کرنا تھا مگر واردات کے وقت خوش قسمتی سے ملک غلام حسین کی دکان کے سامنے چند افراد کھڑے الیکشن بارے گفتگو کر رہے تھے، جبکہ اس وقت مقتول اشفاق حمید اپنی دکان کے باہر ایک لکٹری کے بنچ پر اکیلا بیٹھا ہوا تھا، جس وجہ سے موٹر سائیکل پر سوارتین رکنی ڈکیت گینگ کے ارکان نے بجائے سندھو مارکیٹ میں قائم کریانہ سٹور کو ٹارگٹ کرنے کے بڑی تیزی سے سردار جی کریانہ سٹور پر رکے اور چند روپے سیگریٹ لینے کی غرض سے نکال کر دیئے،جنہیں ہاتھ میں لئے محمد اشفاق اپنی دکان پر لگا لوہے کا آہنی جنگلا کھول کر دکان کے اندر داخل ہوا، جس کے ساتھ ہی ایک ڈاکو بھی دکان کے اندر داخل ہو گیا جبکہ دیگر دو ڈاکو اپنی موٹرسائیکل پر ہی بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران محلے کا ایک معصوم بچہ کسی چیز کی خریداری کے سلسلہ میں دکان پر آ کر کھڑا ہو گیا جسے دکاندار اشفاق حمید ڈوگر نے دکان پر بنائے گئے کاونٹر سے بچے کی مطلوبہ چیز اٹھا کر دے دی اسی دوران ڈاکو جو کے دکان کے جنگلے کے اندر داخل ہو چکا تھا اس نے اپنا دستی پسٹل نکال لیا اور تمام رقم گن پوائنٹ پر دکاندار اشفاق سے طلب کی پسٹل دیکھ کر وہاں پر موجود بچہ مارے ڈر کے قریبی گلی میں چور چور کی آوازیں لگاتا ہوا بھاگ نکلا،جس سے قریبی غلام حسین ملک کی دکان پر کھڑے افراد چوکنے ہو گئے جس سے اشفاق حمید ڈوگر کو کچھ حوصلہ ہوا اور اس نے جنگلے کے اندر داخل ڈاکو کو دبوچ لیا ،جس پر ڈاکو نے اپنے دستی پسٹل سے سیدھا ایک فائر اشفاق حمید کو مار اجو اس کے کندھے پر لگا، جس سے ڈاکو آزاد ہو کر بھاگ نکلا اسی دوران مقامی دکان پر کھڑے افراد نے فائر کی آواز سنی جیسے ہی زخمی اشفاق حمید زخمی حالت میں اپنی دکان سے باہر نکلا تو موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے دیگر دونوں ڈاکوؤں نے اشفاق حمید ڈوگر پر سیدھی فائرنگ کر دی، جس سے وہ بری طرح زخمی ہو کر گر گیا اور ڈاکو فرار ہو گئے زخمی کو فوری طبی امداد کے لئے مقامی حاجرہ ہسپتال لے جایا گیا،جہاں سے تشویشناک حالت کے پیش نظر شیخوپورہ لیجایا گیا، مگر اشفاق حمید زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ گیا ڈکیتی کے دوران قتل کی اس سنگین نوعیت کی واردات کی خبر جنگل کی آگ کی طرف پورے علاقہ میں پھیل گئی اور نواں کوٹ کے عوام سمیت ڈیرہ گلاب سنگھ ، ڈیرہ کریم بخش، ٹبی ہمبو، مہمونوالی، پرانی بھکھی اور دیگر قصبوں کے ہزاروں عوام جائے واردات پر جمع ہو گئے جنہوں نے باہمی مشاورت سے مین فیصل آباد روڈ کر احتجاجاً بلاک کرنا چاہا جہاں مقامی تھانہ کے اے ایس آئی شہزاد جو کہ دیگر پولیس جوانوں کے ہمراہ موقع پر موجود تھے نے زبردستی عوام کو روڈ کلیئر کرنے کے لئے نا زیبا الفاظ کا استعمال کیا جس پر عوام مزید بھڑک اٹھے اور پولیس کے ساتھ تو تکرار شروع ہو گئی جس پر بھاری پولیس نفری کو طلب کیا گیا اور عوام کو روڈ پر آنے سے روکنے کے لئے پولیس نے زور زبردستی شروع کر دی اس دوران اے ایس آئی شہزاد نے مقامی نوجوان کو بار بار سٹرک پر آنے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس سے عوام کا غصہ آپے سے باہرہو گیا اور حالات خراب تر ہوگئے ہزاروں لوگوں نے پولیس سے ہاتھ پائی کرتے ہوئے مین روڈ کو بلاک کر دیا جیسے ہی ہسپتال سے زخمی اشفاق حمید کے دم توڑ جانے کی اطلاع موصول ہوئی تو لوگوں نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی روڈ پر جگہ جگہ ٹائر جلا کر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے ہر قسم کی ٹریفک کو بری طرح بلاک کر دیا جس پر شہر سے مزید پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی ڈی ایس پی صدر سرکل ،سمیت متعددپولیس آفسران موقع پر پہنچ گئے اور عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی مگر عوام کے غٖم و غصے کے سامنے ہر طرح کا حربہ ناکام ثابت ہوا مظاہرین نے 8.15شام سے لے کر رات 12.30 بجے تک سڑک کو بلاک رکھا، اس دوران ہر طرف گاڑیوں کی طویل ترین لائنیں لگ گئیں اور شدید گرمی کی وجہ سے مسافر بسوں ،ویگنوں ، اور دیگر گاڑیوں میں سوار مرد و خواتین ،بوڑھے اور بچے بلکنے لگے اور بے شمار مسافر بے ہوش بھی ہو گئے پولیس کے آفسران اور مقامی حقیقت پسند افراد نے بار بار روڈ پر مسلسل ساڑھے چار گھنٹوں سے رکی ہوئی ٹریفک کو بحال کروانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور عوام کا ملزمان کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں پر تشدد کرنے والے اے ایس آئی شہزاد کو نوکری سے فارغ کرنے کا مطالبہ تھا عوام نے اے ایس آئی شہزاد پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ واردات سے چند فرلانگ کے فاصلے پر پولیس کے جوان ناکہ لگا کر لوگوں سے بھتہ وصول کر رہے تھے، ڈکیتی کروانے میں شہزاد اے ایس آئی کا مکمل ہاتھ ہے، جس بارے پولیس کے آفسران نے کہا کہ وہ اے ایس آئی شہزاد کو معطل کر سکتے ہیں نوکری سے فارغ نہیں کر سکتے اس دوران پولیس کے آفسران نے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لئے اے ایس آئی مذکورہ کو فوری طور پر تھانہ بھکھی سے تبدیل بھی کر دیا گیاپولیس کے ایک آفیسر نے ایک بنچ پر کھڑے ہو کر لوگوں سے بات کرنا چاہی جہاں معلوم ہوا کہ ایک رہائشی نے پولیس آفیسر پر جوتا پھینک دیا جس سے پولیس کے ملازمین بے بس ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گئے آخر رات گئے مقامی معززین نے باہم مشاورت کے بعد مقتول کے ورثاء کو اعتمادمیں لے کر روڈ پر لے کر آئے جنہوں نے مظاہرین سے منت سماجت کرتے ہوئے روڈ کو کھولنے کی گزارش کی اور کہا کہ مقتول اشفاق کی زندگی ہی اتنی تھی اور ان کے قسمت میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا لہٰذا روڈ کر کھول دیا جائے جس پر عوام نے پولیس کی نا اہلی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے روڈ پر احتجاج کر ختم کرتے ہوئے ٹریفک کو بحال کر دیا گیا، بعد میں رات گئے تک مختلف ایجنسیاں حرکت میں رہیں واردات کا مقدمہ درج کیا گیا ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئیں، مگر بعد میں پولیس نے روائتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کیس کو ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا ہے مقتول کے ورثاء اور مقتول کے بیوی اور معصوم بچوں کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ تھانہ کچہری کے چکر لگا لگا کر تھک ہار کر گھر میں بیٹھ گئے ہیں،جبکہ پولیس تھانہ بھکھی نے اس سنگین واردات کے مقدمہ کو اپنا کاروبار بناتے ہوئے اس مقدمہ میں جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مبینہ طو ر پر دیہاڑیا ں لگانا شروع کر رکھی ہیں اس مقدمہ میں جس ملزم کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے وہ سزا کے ڈر سے فوری بھاری رقم کا لین دین پولیس کے ساتھ کر کے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ ظلم زیادتی کا شکار ہونے والے اشفاق حمید ڈوگرکے گھر والوں پر کیا بیت رہی ہے کسی کو کوکئی پرواہ نہیں ہے

راقم الحروف کی ذاتی رائے ہے کہ لوگ چھوٹی موٹی وارداتوں کا شکار ہونے پر اکثر تھانوں کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں، کیونکہ وہاں مدعی کو الٹا ملزم بنادیا جاتا ہے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ہمارے پنجاب کے زیادہ تر تھانوں کے کئی ایس ایچ اوز منشیات فروشوں اور قحبہ خانوں کی سرپرستی کرنے پراور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے جانے پر تھانوں سے تبدیل اور نوکریوں سے برخاست ہو چکے ہیں ۔ تھانہ کلچر اور پولیس کی مجموعی خرابی کے ذمے دار وہ اعلیٰ افسران ہیں جو ماتحت افسروں کی غیر قانونی کارروائیوں اور خلافِ میرٹ کوتاہیوں کو بدستورنظر انداز کرتے اور ان پر دانستہ طورپر چشم پوشیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔کسی بھی نظام کے بگاڑ یا سدھار کے ذمے دار اس کے اوپر والے اور کرتا دھرتا ہوتے ہیں۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہو گا کہ ہمارے ہاں، محنتی و مثبت سوچ کے حامل قابل اور ایماندار اعلیٰ افسران بہت کم ہیں جو کڑے احتساب کا نظام رائج کرکے نچلی سطح کے کرپٹ اور غیر انسانی کرداروں کو راہ راست پر لاسکیں۔ ہمارے ایک ساتھی گزشتہ کئی برسوں سے کرائم پر تحقیق کر رہے ہیں۔ پاکستان پولیس سے متعلق سرسری سے جو چند شماریاتی حقائق انہوں نے ہمیں بتائے، انہیں پڑھ کر جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ ان کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر تاحال پاکستان میں جتنے بھی جرائم ہوئے ان میں سے زیادہ تر صرف پولیس نے کئے، یعنی پولیس ان جرائم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طرح سے شامل یا ملوث تھی۔ 67 برسوں میں لاکھوں افراد قتل ہوئے جن میں بہت کم رجسٹرڈ قتل ہیں۔

ان میں کئی ایک کا ریکارڈ مشکوک یا ضایع شدہ ہے۔ تقریباً اتنی ہی تعداد ان اقتال کی بھی ہے جو کوشش کے باوجود تھانوں میں رجسٹرڈ نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ کافی تعداد ایسے افراد کی ہے جو اغوا کے بعد قتل کردیے گئے۔ ان کے اغواء کی ایف آئی آر تو درج ہے، مگر وہ بازیاب نہ ہوسکے اور بعد میں اطلاع ملی کہ انہیں قتل کردیا گیا، جو افراد پولیس کے ہاتھوں صریحاً ہلاک ہوئے ان کی تعداد بھی افسوسناک حد تک ہے، مگر ان میں اکثریت کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ ان میں زیادہ تر پولیس تشدد، پولیس مقابلوں، جیلوں، حوالاتوں اور تھانیداروں کے خفیہ نجی تھانوں میں اور پولیس تحویل میں عدالتوں کے احاطوں میں یا قیدیوں کو گاڑیوں میں لاتے لے جاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ دُعا ہے کہ کوئی فرض شناس پولیس آفیسر تھانہ بھکھی میں تعینات پولیس ملازمین کا قبلہ درست کرنے میں مدد کار ثابت ہو تاکہ علاقہ کے عوام کو جانی و مالی تحفظ میسر آ سکے ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...