تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے دعوے، نمبر گیم پوری ہے؟

تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے دعوے، نمبر گیم پوری ہے؟

قومی الیکشن کے بعد پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت کے طورپر ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے ملک بھر سے تقریبا پونے دوکروڑ ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کا دوسرا نمبر رہا ہے جس کے ووٹوں کی تعداد سواکروڑ سے زائد رہی اس طرح وفاق میں حکومت بنانے کیلئے تحریک انصاف نمبر گیم کے حوالے سے فیورٹ بن چکی ہے اورحکومت بنانے کیلئے مطلوبہ تعداد پوری کرنے کیلئے دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں اور آزاداراکین کو ساتھ ملانے کیلئے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔مسلم لیگ (ق) کے وفد چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں چوہدری پرویز الٰہی ،مونس الٰہی ، طارق بشیر چیمہ اور کامل علی آغا و دیگر کے ہمراہ پیر کو بنی گالہ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اورباضابطہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا، دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے مرکز میں حکومت بنانے کیلئے 168ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہونیکا دعوی کیا ہے جبکہ انکا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی انہیں 149ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، پنجاب میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد ارکان کی تعداد 180 تک پہنچ جائے گی،(ق) لیگ سے اتحاد کا فارمولا طے پا گیا ہے، پنجاب کا وزیراعلیٰ (ق) لیگ نہیں تحریک انصاف کا ہو گا،انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایم کیو ایم مرکز میں تحریک انصاف کا ساتھ دے گی، کے پی کے میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہے، وفاق میں ہمارے ساتھ اقلیتیں بھی ہیں،، ہم بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہو گا، اس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب ہو گا، اتحادیوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا،ہماری وفاق اور صوبے میں اکثریت کو کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ صدر مملکت نے کرنا ہے، حکومت سازی سے متعلق تمام فیصلے عمران خان کریں گے۔

ایک طرف حکومت سازی کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں بھی بھرپوراندازمیں مخالفت کیلئے اپنا لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر اتفاق رائے ہوگیا جبکہ مولانا فضل الرحمان نے ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں مشترکہ وائٹ پیپر ،حکومت بنانے کیلئے نمبر گیم آن رکھنے ، گرینڈ اپوزیشن الائنس کیلئے ایم کیو ایم اور بلوچستان کی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور شامل کرنیکی کوشش پر اتفاق کیا ،پیر کوسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور اے این پی کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف، ایاز صادق، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، مشاہد حسین سید، عبدالقادر بلوچ، شاہد خاقان عباسی اور دیگر(ن)لیگی رہنماشریک ہوئے، اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے حلف اٹھانے کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ظاہر کیے تاہم وہ ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پر رضا مند ہوگئے مشاورتی اجلاس میں مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مجلس شوریٰ میں ہونے والے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ جے یو آئی کی شوریٰ نے تجویز پیش کی ہے کہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر پی پی اور مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں سے بات کر لی جائے اور متفقہ امیدوار کھڑا کیا جائے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کاکہنا تھا کہ 2018 الیکشن دھاندلی زدہ تھے جن کو ہم مسترد کرتے ہیں، ایسے دھاندلی زدہ الیکشن تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے اور ہم ان کی مذمت بھی کرتے ہیں، مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیلئے حکمت عملی بنائیں گے، مشترکہ حکمت عملی مل کر طے کریں گے۔ میڈیا پر سنسر شپ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہورہی ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، ریاستی اداروں نے الیکشن میں منفی کردار ادا کیا، ہم تمام امور کا جائزہ لیں گے، اور تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گے۔ راجا ظفر الحق کاکہنا تھا کہ الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری تھی جس میں وہ ناکام رہا۔ الیکشن کمیشن کے تمام ارکان اپنی ناکامی پر مستعفی ہوں۔

الیکشن کمیشن میں پیر کے روز عمران خان کی جانب سے پولنگ کے روز ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف سے 16 اگست تک تحریری جواب طلب کرلیا۔ ، عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے ، انکا کہنا تھا کہ جن حالات میں الیکشن کمیشن نے انتخابات کروائے وہ قابل فخر ہے، انتخابات روکنے کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن تمام حالات کے باوجود پورا پاکستان ووٹ ڈالنے نکلا۔اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے بابر اعوان کو کہا کہ آپ جو کہنا چاہتے ہیں وہ لکھ کر دیں ۔بعدازاں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابراعوان کاکہنا تھا کہ پوری حکومت اداروں کے نیچے ہو گی افراد کا راج نہیں ہو گا قانون کا راج ہو گا‘ اداروں اور جتنے بھی ریگولیٹر ہیں ان کو مضبوط کریں گے ،پنجاب میں ہماری اکثریت ہے،وہاں لمبے عرصے بعد عوام اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے، جو جماعتیں الیکشن کا نتیجہ قبول کرکے پارلیمنٹ میں آرہی ہیں یہ بہت اچھی بات ہے۔انکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے 100 روزہ ایجنڈے پر کام ہورہا ہے اور جلد حکومت میں آتے ہی کام شروع بھی کردیں گے۔ عمران خان کی کامیابی سے خطے میں جو امید کی لہر آئی ہے اسے پور اکریں گے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت بغیر کارروائی کے یکم اگست تک ملتوی کردی گئی۔ پیر کواحتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔جج محمد بشیر نے خواجہ حارث کے معاون سعد ہاشمی سے استفسار کیا کہ خواجہ حارث کب آئیں گے؟جس پر معاون وکیل نے جواب دیا کہ خواجہ صاحب آرہے۔جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ حارث کو بلالیں، پھر کارروائی آگے بڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد جب سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو جج محمد بشیر نے سوال کیا کہ ہائیکورٹ میں آپ کی اپیل پر سماعت کب ہے؟معاون وکیل نے بتایا کہ ہائیکورٹ میں سماعت منگل کو ہوگی۔جس پر جج محمد بشیر نے جواب دیا دیکھ لیتے ہیں کہ ہائیکورٹ سے کیا ہدایات آتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت یکم اگست تک کے لیے ملتوی کردی۔

نواز شریف پمز کے کارڈیالوجی میں زیر علاج ہیں، ڈاکٹر مسلسل نگہداشت میں مصروف ہیں، نئے سٹیٹ لئے گئے اور لندن سے بائی پاس ریکارڈ کی استدعا کی گئی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...