خیبر پختونخوا سے تمام پختون قیادت آؤٹ ہو گئی،انتخابی نتائج عوام کیلئے حیران کن تھے

خیبر پختونخوا سے تمام پختون قیادت آؤٹ ہو گئی،انتخابی نتائج عوام کیلئے حیران ...

70سالہ تاریخ کے تاریخی انتخابات کے نتائج میں پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99میں سے 66 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی اسی طرح پشاور سمیت خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی 39 نشستوں پر بھی غیر معمولی حلقے جمع تفریق کرتے ہوئے پی ٹی آئی کیلئے 20 سے 25 صوبائی نشستوں پر کامیابی کے تجزیئے کر رہے تھے مگر پولنگ کے بعد نتائج سامنے آنے پر بعض دیگر سیاسی پارٹیوں کے ووٹر سکتے میں آ گئے جبکہ بعض کو ہسپتال پہنچایا گیا خیبر پختونخوا کے ووٹروں اور عام لوگوں کو اسوقت شدید دھچکا لگا جب خیبر پختونخوا سے تمام مرکزی قیادت لگاتا شکست سے دوچار ہونے لگی اے این پی کے اسفندیار ولی خان قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کے علاوہ اکرم خان درانی ، غلام احمد بلور بھی ہار گئے اولذکر چار شخصیات اپنے حلقوں میں اسقدر وسیع ووٹ بنک کے مالک سمجھے جاتے تھے کہ ہمیشہ ان کی نشستیں کنفرم جانی جاتی ہیں اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے امیر مقام نے شانگلہ سمیت سوات اور بعض دیگر علاقوں میں اربوں روپے کی ترقیاتی سکیموں سمیت سینکڑوں بھرتیاں کر کے اپنی پارٹی کی پوزیشن مضبوط کی تھی اپنی اس کارکردگی کی بنیاد پر انہوں نے مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کو این اے3سوات سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی اسی طرح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی بڑے دعوے کے ساتھ مالاکنڈ سے انتخاب میں حصہ لیا مگر بد قسمتی سے ہارنے والی قیادت میں مذکورہ دونوں بلکہ تینوں شخصیات بھی شامل رہیں کہ پاکستان کی تاریخ کے واحد انتخابات تھے جو پولنگ کے محض چند گھنٹوں بعد ہی متنازعہ بن گئے پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے متفقہ طور پر تاریخی دھاندلی کا الزام لگایا بلکہ بھاری اکثریت حاصل کرنے والے پی ٹی آئی کے ان اُمیدواروں نے بھی دھاندلی کا الزام لگا دیا ہارنے والے اُمیدواروں نے بھی دھاندلی کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جلوس نکالے اور سڑکوں کو بلاک کیا دیگر پارٹیوں کے مرکزی قائدین نے اپنے اپنے حلقوں میں ہنگامی پریس کانفرنس کر کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اے این پی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی خان نے پشتو میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام پختون قیادت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیاست سے آؤٹ کرنے کی گہری سازش کی گئی اسفندیار ولی خان انتخابی نتائج کو مسترد کرنے والے غالباً پہلے پارٹی سربراہ تھے اسکے بعد دیگر پارٹیوں کے قائدین نے بھی لگاتار ہنگامی پریس کانفرنسز کر کے تاریخی دھاندلی کا الزام لگایا خصوصاً جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جب پریس کانفرنس کر رہے تھے تو ان کے چہرے پر غصہ اور لہجے میں تلخی صاف دکھائی اور سنائی دے رہی تھی مولانا فضل الرحمن نے تمام پارٹیوں سے اپیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہمارے ارکان نہ صرف حلف نہیں اٹھائینگے بلکہ ہم پارلیمنٹ کے راستے بند کر دینگے اور دیکھیں گے کہ ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے کیسے پارلیمنٹ میں داخل ہوتے ہیں ۔

اس سے قبل آل پارٹیز کانفرنس میں اسفندیار ولی خان نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پشاور اور کراچی ہم بند کر دینگے پنڈی اور اسلام آباد آپ (شہباز شریف) بند کر دیں مذکورہ دونوں رہنماؤں کی تجاویز انتہائی خطرناک تھیں مگر سب سے پہلے شہباز شریف نے پارٹی سے مشاورت کے نام پر وقت لے کر معاملے کو عارضی طور پر ٹال دیا جس کے بعد پیپلز پارٹی نے آکر اپنا جھرلو پھیر دیا اور اب بات پارلیمنٹ کے اندر مزاحمت پر آ گئی جس طرح نواز حکومت کے خلاف ہونے والی تحریک کو ناکام بنایا گیا بالکل اسی فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی نے اب پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے راستہ ہموار کیا اس سارے مزاحمتی عمل کے دوران عوامی نیشنل پارٹی نے 30جولائی کو ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا جس کے تحت کم سے کم خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع اور چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھر پور مظاہرے ہوئے ان مظاہروں کے دوران اہم شاہراہوں کو بلاک کیا گیا اور مخالفانہ نعرہ بازی کی گئی نعرے بازی کرتے ہوئے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ اور حساس اداروں کو بھی معاف نہیں کیا گیا ۔

انتخابی نتائج کے خلاف جماعت اسلامی کا رویہ غیر واضح اور مشکوک رہا جماعت اسلامی ایک طرف اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ساتھ148خاموش147 کھڑی رہی تو دوسری طرف سراج الحق نے پریس کانفرنس کر کے تحریک انصاف کی حکومت کو 100دن کام کرنے کا موقع دے دیا اور اسی کے 148اچھے147 کاموں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی پیشکش کی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سراج الحق اپنے حلقے میں پی ٹی آئی کے ہاتھوں نہ پٹتے تو آج وفاق اور صوبے میں حکومت کے اتحادی ہوتے مگر اب حالات نے انہیں148خاموش147 اتحادی بننے پر مجبور کر دیا دوسری طرف جماعت اسلامی کے اندر سے اپنی پارٹی قائدین پر استعفے دینے کیلئے دباؤ بڑھ گیا ہے پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اپنے قائدین سے استعفے کا مطالبہ شدت کے ساتھ کرنے لگی ہے تاہم متبادل قیادت نہ ہونے کے بعد اپنے قائدین کے خلاف کسی قسم کا محاذ نہ بنانے پر اتفاق کر لیا گیا ۔

ادھر تحریک انصاف کی صوبائی سیاست ہیں وزارت اعلیٰ کا منصب حاصل کرنے کیلئے زبردست رسہ کشی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے پرویز خٹک وزارت اعلیٰ کا منصب اپنا حق سمجھتے ہوئے موقف دیتے رہے کہ خیبر پختونخوا میں ان کی اعلیٰ کارکردگی کے باعث پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا مگر مرکز میں نمیر گیم پورا کرنے کیلئے مرکزی قیادت نے پرویز خٹک کو قومی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ148 وہ کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے147 عمران خان کا یہ جملہ معنی خیز ہے پرویز خٹک کے آؤٹ ہونے کے بعد اسد قیصر ، عاطف خان، شاہ فرمان اور شوکت یوسفزئی کے نام لئے جاتے رہے تاہم ان تمام اُمیدواروں میں عاطف خان سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے رہے ان سطور کی اشاعت تک یقینی طور پر وزیر اعلیٰ سمیت سپیکر ڈپٹی سپیکر اور کابینہ کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دے کر اعلان کیا جا چکا ہو گا دوسری طرف عمران خان نے سابق بیورو کریٹ شہزاد ارباب کو خیبر پختونخوا کی بیورو کریسی میں ردو بدل کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے جس پر انہوں نے عملدر آمد شروع کر دیا ہے شہزاد ارباب کے بارے یہ اطلاع بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کے نئے گورنر بھی آسکتے ہیں بہر حال دوسری طرف اپوزیشن بھی غم و غصے کی حالت میں کچھ نہ کچھ کرنا چاہتی ہے اب دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستان کے تاریخی انتخابات کے نتائج کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1