جنوبی پنجاب سے 20ممبر، جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا؟

جنوبی پنجاب سے 20ممبر، جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا؟

عام انتخابات ہو چکے اور اس کے ساتھ ہی وہ سازشی قیاس بھی انجام کو پہنچ گیا جس کے ذریعہ عام انتخابات کے انعقاد پر شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے تھے یہ ٹھیک اسی طرح تھا کہ جب سینٹ کے انتخابات میں ’’سازشی قیاس ‘‘ عروج پر تھا اور بد اعتمادی کی ایک ایسی فضا قائم ہو چکی تھی کہ اس کے نتیجہ میں ایک ایسے شخص کو چیئر مین سینٹ بنا دیا گیا جس کا تعلق ایسی کسی سیاسی جماعت سے نہیں تھا جو سینٹ میں اکثریت رکھتی ہیں البتہ پیپلز پارٹی کے بقول وہ کمال سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئر مین کے نائب کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اب بھی کم و بیش وہی صورتحال در پیش ہے ایک طرف تو تقریباً تمام سیاسی جماعتیں نادیدہ قوتوں پر اپنا اپنا مینڈیٹ چرانے کا الزام عائد کر رہی ہیں بلکہ الیکشن کمشن کے سربراہ اور دوسرے سرکردہ عہدیداروں کے استعفوں کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں دوبارہ گنتی میں بھی فرق کی وجہ سے متعدد حلقوں کے رزلٹ بھی تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ مسترد شدہ ووٹوں پر بڑا اعتراض ہونے سے اب مزید حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں دھڑا دھڑ نا منظور ہو رہی ہیں کیونکہ یہی وجہ تھی کہ تحریک انصاف کی 122 نشستوں پر کامیابی کے اعلان کے بعد اب 110 بچ سکی ہیں ایسے میں سیاسی جماعتوں کا واویلا کچھ سمجھ میں آتا ہے اب اس مسئلے کو کون حل کی طرف لے کر جائے گا اس پر مکمل خاموشی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ماضی کے انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور نتائج کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات رہے ہیں اور یہ وہ ہیں جو ایک سے زیادہ مرتبہ وفاق میں اقتدار رہی ہیں لیکن انہوں نے اس اہم ادارے میں اصلاحات نہیں کیں جس کا نتیجہ آج پھر پانچ سال بعد ان کے سامنے آرہا ہے اور اب وہ اقتدار نہیں بلکہ احتجاج کرنے والوں کی صف میں شامل ہیں۔ اگر صاحب اقتدار جماعتیں مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کر لیتیں تو یقیناًآج وہ احتجاج نہ کر رہی ہوتیں اور نہ ہی انتخابی نتائج مشکوک دکھائی دیتے۔

یہ بھی درست ہے کہ تحریک انصاف کے چیئر مین جو اس وقت وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں، نے عام انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر پہلے خطاب میں برملا کہا کہ سیاسی جماعتیں جس جس حلقے کا کہیں گی وہ ’’کھول‘‘ دیا جائے گا جس کے بعد حلقے کھلنے شروع ہوئے تو نتائج کو دیکھتے ہوئے وہ بھی خاموش ہو گئے اور انتخابی داریوں کی آس ہے اور الیکشن کمیشن حکام کی دوڑیں ہیں ویسے تو ہمارا سیاسی ماضی گواہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے آسانی سے کسی دوسری جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا۔ لڑائی، جھگڑے، نعرے، الزامات، ریلیاں، جلسے، جلوس، دھرنے اور لانگ مارچ کے ذریعے ہر حکومت وقت کو دباؤ میں رکھا گیا اگر زیادہ ماضی میں نہ جائیں تو 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے حاصل کردہ مینڈیٹ کو تمام سیاسی جماعتوں نے نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نام سے اکٹھے ہو کر ان کے خلاف تحریک چلائی جو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء پر ختم ہوئی۔ 1988 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو اسلامی جمہوری اتحاد کے ہاتھوں رسوا کیا گیا محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ ہوا جس کے نتیجے میں عبوری حکومت آئی عام انتخابات ہوئے اور میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کی مسند پر براجمان ہو گئے لیکن پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو قبول نہ ہوا اور ان پرانتخابی مینڈیٹ چرانے اور عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر ان کے خلاف احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا اس وقت کے صدر مملکت غلام اسحاق خان نے دباؤ میں آکر نواز شریف حکومت کو برطرف کر دیا اور عبوری سیٹ اپ میں میر بلخ شیر مزاری کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا (موصوف اس وقت تحریک انصاف کے کھلاڑیوں میں شامل ہیں) لیکن اس وقت کی سپریم کورٹ نے یہ عمل خلاف ضابطہ قرار دے کر نواز شریف حکومت بحال کر دی لیکن یہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ بھی نہ چل سکی اور اس طرح 1993 میں پھر عام انتخابات کرائے گئے نتیجہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں اب احتجاج کی باری مسلم لیگ کی تھی جو نواز گروپ میں تبدیل ہو چکی تھی انہوں نے ٹھیک اسی طرح برتاؤ کیا جس طرح پیپلز پارٹی نے ان کے ساتھ کیا تھا اتار چڑھاؤ آئے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کرپشن کے الزام میں اپنے ہی منتخب صدر مملکت سردار فاروق خان لغاری کے ہاتھوں اپنی حکومت کا خاتمہ کروا بیٹھی۔

ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف تاریخی مینڈیٹ لے کر وزیر اعظم منتخب ہو گئے لیکن ماضی کے عین مطابق پیپلز پارٹی نے ان کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور حکومت کے خلاف جدوجہد شروع کر دی جو 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء پر ختم ہوئی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ’’پلے‘‘ کچھ نہ آیا ایک سرکاری اور دوسرا غیر سرکاری طور پر جلا وطن ہوا، دونوں رہنماؤں کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے ارکان اسمبلی کی کثیر تعداد نے فوجی آمر کے ہاتھوں بیعت کر لی چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کو سیاسی قبلہ بنا کر مسلم لیگ ق کی بنیاد رکھ دی اور مارشل لاء کا ’’ہاتھ بٹانے‘‘ لگ گئے اور جنرل کو قائل کر لیا کہ وہ عام انتخابات کروا دیں ہم ’’جیت‘‘ کر آپ کو صدر مملکت منتخب کر لیں گے، پلان کامیاب ہوا اب ہر طرف ق لیگ کا ہی ہرا ہرا تھا کیونکہ پیپلز پارٹی جیسی نظریاتی سیاسی جماعت سے لے کر خیبرپختون خوا، بلوچستان، سند ھ اور پنجاب کے متعدد بڑے سیاسی پہلوان ق لیگ کو پیارے ہو چکے تھے اور ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا ’’کاسہ‘‘ خالی ہو چکا تھا اگر ان کا کوئی نام لیوا تھا تو وہ جیل میں ڈال دیا گیا یہی وجہ تھی جس پر کسی مخلص ’’دوست‘‘ نے ان دونوں رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ سیاست کے ساتھ حکومت بھی کرنا چاہتے ہیں تو ملک میں جمہوریت کی بقا کے لئے سیاسی سمجھوتہ کر لیں یوں لندن میں ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے نام سے معروف سمجھوتہ سامنے آگیا جس کے نتیجہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو تو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا لیکن پیپلز پارٹی کو حکومت ضرور مل گئی آئینی پانچ سال مکمل ہوئے 2013 میں انتخابات ہوئے انتقال اقتدار ہوا حکومت ن لیگ کے پاس آگئی میاں نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہو گئے لیکن انہیں بھی ماضی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار عدالت عظمیٰ نے انہیں تاحیات نا اہل قرار دے دیا اور اب وہ اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں بند۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صرف 2 ماہ قبل وزارت عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا شاہد خاقان عباسی اپنی دونوں نشستیں ہار چکا ہے اور دوبارہ گنتی کے لئے تقریباً منت ترلا کرتا نظر آتا ہے، دوسری طرف تحریک انصاف کے پاس صرف خیبرپختون خوا میں حکومت سازی کے لئے نمبر گیم مکمل ہے لیکن وفاق سمیت پنجاب اور بلوچستان میں اکثریت نہ ہے بلوچستان میں تو خیر مخلوط حکومت ہی معرض وجود میں آئے گی لیکن پنجاب حکومت کی تشکیل کے لئے اس وقت تحریک انصاف جو کچھ کر رہی ہے اس کا عمران خان کو بخوبی علم ہے جو نہ تو ماضی میں پسند کیا گیا تھا اور نہ اب اس کی کسی بھی طور پر حمایت کی جا سکتی ہے ’’تبدیلی‘‘ کا نعرہ لگانے والوں سے توقع تھی کہ وہ اس مرتبہ اپنے سیاسی اخلاق سے ماضی میں غلطیاں کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہوں کے لئے مشعل راہ بنیں گے لیکن یہ کیا یہ تو اپنے ہی ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو محض اس لئے لگژری جیٹ پر اسلام آباد لے کر جا رہے ہیں کیونکہ وہ تحریک انصاف کے حامیوں کو سیاسی شکست دے چکے ہیں تو کیا اب بھی عمران خان سے توقع رکھنی چاہیے جو ہر آنے والے کو پارٹی پرچم کی ’’زنجیر‘‘ اور ’’قانونی سٹیمپ پیپرز‘‘ پر دستخط معہ انگوٹھا سمیت تمام انگلیوں کے نشانات لگوا رہے ہیں تاکہ مکر نہ سکیں۔

ابھی تو حکومت سازی بھی نہیں ہوئی لیکن تحریک کے اپنے آپ ہی پالیسی بیان دینا شروع کر دیتے ہیں اور ہاں ابھی تو 100 دن میں صوبہ جنوبی پنجاب بھی تو بننا ہے جہاں سے آپ نے 22 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی ہیں ذرا خیال رہے ایسا نہ ہو کہ قبل از وقت ہی احتجاج اور لانگ مارچ شروع ہو جائے اگر یہ نہ بھی ہوا تو حکومت سے باہر تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر تو تقریباً متفق ہیں کہ اسمبلی کے اندر ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرنا ہے اور اب اس پر بھی غور کر لیں کہ آپ کے پاس اپنی 104 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں باقی اتحاد ی ہوں گے اور جو بچے رہیں گے وہ اپوزیشن ہوں گے۔ ذرا دھیان رہے تبدیلی کا بھی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...