لیاری سے تحریک لبیک کے امیدوار نے بلاول بھٹو سے زیادہ ووٹ لئے

لیاری سے تحریک لبیک کے امیدوار نے بلاول بھٹو سے زیادہ ووٹ لئے

25جولائی کو ہونے والی پولنگ کے عمل کو جس طرح آزادانہ، غیر جانبدارانہ رکھا گیا۔ کاش ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا عمل بھی دنیا بھر کے مبصرین اور آزاد اور غیر جانبدار میڈیا کو ہوتا ہوا نظر آتا۔ جو بدقسمتی سے نظر نہیں آیا۔ یہ نامہ نگار دن بھر شہر کے مختلف پولنگ سٹیشنوں میں الیکشن کمیشن کے جاری کردہ پاس دکھا کر کسی روک ٹوک کے بغیر آزادانہ آتا جاتا رہا۔ لیکن نہ ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کے عمل کو دیکھنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی کسی پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے دیا گیا، پی ٹی آئی کے مقابلہ میں الیکشن لڑنے والی جماعتیں تو یہ شکایت کرہی رہی تھیں کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی باہر نکالا جارہا ہے اور نہ انہیں فارم 45 نہیں دیا جارہا ۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ بدھ کی شب رات گئے تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس نقوی نے جن کے ساتھ ڈاکٹر عارف علوی اور دوسرے ذمہ دار بھی تھے۔ احتجاج کرتے نظر آئے کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45 نہیں دیا جارہا، فردوس نقوسی نے یہ بھی شکایت کی کہ کئی جگہوں پر ان کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم جیت رہے ہیں، مگر ہمیں نتائج نہیں دیئے جارہے، جس سے شکست کھانے والی جماعتوں کے موقف کی تائید ہوتی ہے، پولنگ کے عمل کی طرح ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا عمل بھی الیکشن کمیشن کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق صاف شفاف انداز میں نظر آتا تو انتخابی نتائج کو متنازعہ بنانے والوں کی بات پر کوئی کان بھی نہ دھرتا، اللہ کا شکر ہے کہ انتخابی نتائج کو مسترد کرنے والی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے احتجاج کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر قانون کی عدالتوں میں اپنا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تحسین ضروری ہے، یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے جس نے ان قوتوں کی امیدوں اور خواہشوں پر اوس ڈال دی ہے، جو وطن عزیز میں ’’موب کریسی‘‘ کی سیاست کو فروغ دے کر قومیسلامتی اورقومی یکجہتی کو پارہ پارہ دیکھنے کے خواہش مند رہتے ہیں، اس سے قطع نظر وفاق میں عددی اعتبار سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت تحریک انصاف نے یہ مینڈیٹ کن قوتوں کی اشیرباد اور کن کن کے عملی تعاون سے حاصل کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی انتخابی عمل کے ذریعہ عمل میں آرہی ہے، جس کا خیر مقدم دنیا کررہی ہے، فیصلہ سے اختلاف کرنے والی سیاسی قوتوں نے درست فیصلہ کرکے قوم کو اس بحران سے بچا لیا ہے، جو دھرنا سیاست اختیار کرنے کی وجہ سے سامنے نظر آرہا تھا، اس کا ادراک جناب عمران خان کو ضرور ہوگا اس ملک میں احتجاج کرنا آسان ہے، جبکہ اچھی حکمرانی کے لئے حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر رہ جانے والی سیاسی جماعتوں اور سیاسی قوتوں کا تعاون ناگزیر ہوتا ہے۔انتخابی نتائج چیلنج کرنے والی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے حلف اٹھانے کا فیصلہ کرکے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کیا اور ملک کوکسی نئے بحران میں جانے سے بچا لیا ہے، ملک میں جمہوریت کا تسلسل سیاسی عمل اور سیاسی جماعتوں کی اجتماعی دانش کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ حزب اختلاف اجتماعی دانش کا مظاہرہ کررہی ہے، اب اسی طرح کی دانش کا مظاہرہ اقتدار پرمتمکن ہونے والوں کو بھی کر نا پڑے گا۔ عمران خان کو وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہی اس طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جو پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) نے صدارت کا حلف اٹھاتے ہی قومی اسمبلی میں موجود جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کے قائدین سے ملاقاتیں کرکے اس تلخی کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ جو انتخابی مہم کے بعد ان کے طرز عمل کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔

بھٹو مرحوم کو اس کا فائدہ ہوا تھا،سقوط ڈھاکہ کے بعد حزب اختلاف کی بعض جماعتیں اور سول سوسائٹی کے موثر طبقات یہ مطالبہ کررہے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو نئے انتخابات کرائیں، کیونکہ 1970ء کے انتخابات میں مرکز میں اکثریت عوامی لیگ کی تھی، جسے اقتدار نہ دینے کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا، اس وقت بھی مکالمہ کے ذریعہ حزب اختلاف کو مطمئن کرکے ملک کو درپیش شدید معاشی بحران پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور اس بحران پر بھی قابو پانے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر بامعنی بحث کے بعد ان سے مکالمہ کا آغاز ممکن ہوگا، جن پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ووٹوں کی گنتی کے عمل کو غیر شفاف رکھنے اور انتخابی نتائج کو ’’مینی پولیٹ‘‘ کرنے کا الزام لگایا ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی ایک بھی انتخاب مینی پولیشن کے الزام سے محفوظ رہا ہے اور نہ ہی 1958ء کے بعد کوئی ایک بھی ایسا سیاست دان رہا ہے، جس پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کا الزام نہ لگا ہو۔ اب اسی الزام کی زد میں جناب عمران خان ہیں، جناب عمران خان کے پاس اس کو دھونے کا اس کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق امور مملکت کی انجام دہی میں ہر سطح پر آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ پارلیمنٹ کو طاقت کا مرکز بناکر اس مکالمہ کا آغاز کریں، جس کے بغیر منتخب حکومتوں اور سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے درمیان ’’اسموتھ‘‘ ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہونا اور برقرار رکھنا محال ہوگا۔

خود ریاستی اداروں کو پوری سنجیدگی اور خود احتسابی کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر غور و فکر اور نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ آخر کیا وجہ ہے جن افراد اور جن جماعتوں کے بارے میں عوام کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ وہ ان کی سرپرستی کر رہے ہیں وہ بھی یہ کہنے لگتے ہیں ’’جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘ حد تو یہ ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفٰے کمال اور جی ڈی اے کے سیکرٹری جنرل ایاز لطیف پلیجو نے انتخابی نتائج کو ’’مینی پولیٹ‘‘ کرنے کا سارا الزام انہی پر لگا دیا ہے۔ جنکی سرپرستی کا تاثر دے کر وہ انتخابی معرکہ سر کرنے کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے اور تو اور تحریک لبیک والے بھی انہی پر الزام لگا رہے ہیں کہ ان کو دھاندلی سے ہرایا گیا ہے۔ تحریک لبیک نے کراچی سے صوبائی اسمبلی کی نشستیں تو صرف دو حاصل کی ہیں مگر کراچی سے پونے چار لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے اور ملک بھر میں 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے ہیں۔ لیاری کی نشست پر تحریک لبیک کے امیدوار کے ووٹ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یہاں سے تحریک انصاف کے امیدوار عبدالشکورشاد کامیاب ہوئے ہیں اور تحریک لبیک کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری تیسرے نمبر پر رہے اہم بات یہ ہے کہ لیاری سے قومی اسمبلی کی نشست پر تو تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ایک صوبائی نشست تحریک لبیک کے امیدوار اوردوسری نشست ایم ایم اے کے امیدوار نے حاصل کی ہے۔عبدالشکور شاد بھی حال ہی میں پیپلزپارٹی کو خیر باد کہہ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور تحریک لبیک کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے والے یونس سرور نے بھی حال ہی میں پیپلزپارٹی کو خیر باد کہہ کر تحریک لبیک کا ٹکٹ لیا تھا تحریک لبیک کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے امیدوار نے لیاری کی نشست پر 44 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ اس کے علاوہ دوسرے کئی حلقوں میں اس کے امیدواروں نے بیس بیس ہزار تک ووٹ حاصل کئے۔

کراچی میں ایک جماعت کے طور پر تحریک انصاف نے ووٹ بھی سب سے زیادہ لئے ہیں اور نشستیں بھی، کراچی سے قومی اسمبلی کی چودہ اور صوبائی اسمبلی کی 23 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ ووٹ (10,05702) دس لاکھ سے زائد حاصل کئے ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی چار نشستیں اور صوبای اسمبلی کی 18 نشستیں اور ووٹ حاصل کئے ہیں (620103)، کراچی سے پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کی نشستیں تین حاصل کی اور ووٹ 370820 حاصل کئے جبکہ ایم ایم اے نے کراچی سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست اور ووٹ حاصل کئے ہیں 337052، مسلم لیگ(ن) نے نشست تو کراچی سے کوئی حاصل نہیں کی تاہم کراچی سے مسلم لیگ (ن) نے 2013ء کے مقابلے میں ووٹ زیادہ حاصل کئے ہیں 2018ء میں مسلم لیگ (ن) نے کراچی سے قریب قریب ایک لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ اس بار 261175 ڈھائی لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے میاں شہباز شریف کی نشست پر ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہونے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار کامیابی کی توقع کر رہے ہیں۔تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والوں میں انجینئر نجیب ہارون، تحریک انصاف کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں۔ وہی تحریک انصاف میں ڈاکٹر عارف علوی، فردوس نقوی کو لے کر آئے تھے علی زیدی بھی پارٹی کے ابتدائی ارکان میں شامل ہیں۔

ایم کیو ایم نے اگرچہ باقاعدہ تحریک انصاف کی وفاق میں بننے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا اعلان تو ابھی تک نہیں کیا، تاہم یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ایم کیو ایم حکومت سازی اور صدارتی انتخاب میں تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ تحریک انصاف باقاعدہ ایم کیو ایم کو مرکز میں اپنی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے چکی ہے۔ اس طرح کراچی سے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اٹھارہ نشستوں کی حمایت حاصل ہو گی جبکہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم تحریک انصاف کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے گی اس کے بعد دیکھنا ہے کہ ایم کیو ایم جس نے انتخابی نتائج کو مسترد کر کے اسکے خلاف احتجاج کا جو اعلان کیا وہ تبدیل ہوگا یا نہیں؟ پولنگ کے عمل کی شفافیت پر میڈیا نے سوال اٹھائے ہیں اور نہ ہی مبصرین نے اس پر کوئی اعتراض کیا ہے۔ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ووٹوں کی گنتی کے عمل اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کے غیر شفاف عمل پر اور انتخابی نتائج کی تاخیر پر سیاسی جماعتوں نے بھی پولنگ کے ختم ہونے کے بعد کی کارروائی اور گنتی کے عمل اور انتخابی نتائج کو متنازعہ بنایا ہے۔ اس کی آزادانہ تحقیقات کا آغاز اسی طرح کے عدالتی کمیشن کے طرز پر ضروری ہے جس طرح کے عدالتی کمیشن جناب عمران خان کے مطالبہ پر سابقہ حکومت نے اس وقت کے چیف جسٹس اور موجودہ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی سربراہی میں قائم کر کے کیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1