میگا کرپشن سکینڈلز کی تحقیقات اور بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا اول؛ین ترجیح : چیئر مین نیب

میگا کرپشن سکینڈلز کی تحقیقات اور بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا اول؛ین ترجیح : ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے نیب ملزمان کی گرفتاری کیلئے کسی امتیازی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ بلا امتیاز، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق مبینہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے ۔ نیب کم رقومات والے مقدمات پر اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے بڑے بڑے میگا سیکنڈلز کی تحقیقات کو ترجیح دے رہا ہے۔ جس کی بدولت بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث بڑی مچھلیوں پر قانون کے مطابق ہاتھ ڈالا جائے گا۔ کسی بھی مقدمہ میں گرفتار ملزم کیخلاف 90 دنوں میں نیب بدعنوانی کا ریفرنس متعلقہ احتساب عدالت میں قانون کے مطابق دائر کرے گا اور اس سلسلہ میں غفلت برتنے والے نیب افسران کیخلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نیب ہیڈ کوارٹرز میں اپنی زیر صدارت اجلاس میں کیا جس میں نیب کی بدعنوانی میں ملوث مبینہ ملزمان کو گرفتاری کیلئے بنائی گئی پالیسی کا جائزہ لیا گیا، چیئرمین نیب کا کہنا تھانیب بدعنوانی میں مبینہ ملزم کی گرفتاری کے وقت نہ صرف الزامات کی سنگین نوعیت ، ملزم کا بدعنوا نی میں مبینہ کردار، گرفتاری کی وجوہات خصوصاََ ملزم کے ملک سے فرار ہونے کے خدشہ سمیت تمام پہلوؤں کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر ملزم کو گرفتار کرتا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کو متعلقہ احتساب عدالت میں پیش کرکے نیب ملزم پر لگائے گئے الزامات کی مکمل تفصیلا ت سے معزز احتساب عدالت کوآگاہ کرتا ہے جس کی بنیاد پر متعلقہ معزز احتساب عدالت ملزم کا مزید تحقیقات کیلئے نیب کو ریمانڈ دیتی ہے ۔ نیب ریمانڈ کے دوران ملزم سے سائنسی بنیادوں پر ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق تحقیقات کرتا ہے۔ تحقیقات سے پہلے اور تحقیقات کے دوران نیب ملزم کو اپنی صفائی کا پورا موقع فراہم کرتا ہے۔

چیئرمین نیب

مزید : صفحہ اول