ارکان اسمبلی میں کمروں کیلئے دوڑ ،سفارشیوں کو آلاٹ بھی ہوگئے

ارکان اسمبلی میں کمروں کیلئے دوڑ ،سفارشیوں کو آلاٹ بھی ہوگئے

لاہور ( نمائندہ خصوصی ) پنجاب اسمبلی میں نئے اراکین اسمبلی میں کمروں کے حصول کے لیے کھینچا تانی کی جنگ شروع ہو گئی ہے اور ان ارکان اسمبلی نے ایم پی اے ہاسٹل اور پیپل ہاؤس میں کمروں کے حصول کے لیے دوڑ تیز کردی ہے جبکہ تگڑی سفارشوں والوں نے تو کمرے بھی آلاٹ کروالئے ہیں جبکہ دور دراز والے بیشتر ارکان منہ تکتے ہی رہ گئے ہیں اور اس صورت حال پر اسمبلی کا سٹیٹ ا سٹاف بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے کہ کس کو کمرے آلاٹ کریں اورکس کو نہ کریں 341 ممبران کے لیے صرف 100 کمرے جبکہ درخواستوں کی تعداد 200 سے بھی زائد پر تجاوز کر گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے نئے ارکان کی رہائش گاہ کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کو اب تک 200 سے زائد درخواستیں موصول ہوچکی ہیں لیکن اسمبلی سیکرٹریٹ کے پاس صرف 100 کمرے ہی موجود ہیں پیپلز ہاؤس میں کل کمرے 40 جبکہ ایم پی اے ہاسٹل میں 60 کمرے موجود ہیں رولز آف پروسیجر کے تحت لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین کے علاؤہ تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو رہائش دینا اسمبلی سیکرٹریٹ کی زمہ داری ہوتی ہے اور اس کے پاس صرف 100 کمرے ہی موجود ہیں اسمبلی سیکرٹریٹ نے کمروں کے حصول کے لیے پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر درخواستیں طلب کی تھیں اب تک 200 سے زائد درخواستیں موصول ہوچکیں ہیں جن اراکین اسمبلی کو کمرے آلاٹ کئیے گئے تھے ۔ذرائع کے مطابق وہ تگڑی سفارشیں آنے کے بعد کینسل کردئیے گئے ہیں جبکہ سفارشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ ابھی تک جاری ہے تگڑی سفارشوں والے کمرے لے اڑے جبکہ سفارش نہ رکھنے والے منہ تکتے ہی رہ گئے جس سے اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں نئے اراکین اسمبلی کے لیے کمروں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اب اسمبلی ا سٹاف کو رہ جانے والے اراکین کے لیے شہر کے مختلف ہوٹلز میں رہاشگاہوں کا بندوبست کرنا ہوگا جس کے لئے انہوں نے تلاش شروع کردی ہے اور جلد ہی یہ کام مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول