اتحادیوں سے مل کر بلوچستان میں حکومت بنائیں گے، اختر مینگل

اتحادیوں سے مل کر بلوچستان میں حکومت بنائیں گے، اختر مینگل

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے پرانی اتحادیوں سے مل کر حکومت بنائے گی بلوچستان میں اپنی حکومت بنانے یا کسی جماعت سے اتحاد کرے لاپتہ افراد کی بازیابی بلوچستان کے وسائل پر یہاں کے عوام کا حق ملکیت تسلیم کرانا پہلی ترجیح ہو گی وزرات اعلی ہمارا حق ہے ملا تو ٹھیک ہے مگربھیک نہیں مانگیں گے اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے نا امید کبھی نہیں ہوئے بہتری کے لئے جادو کی چھڑی نہیں ہے تاہم خواہش کی ضرورت ہے ہمارے 6 قومی اور 6 صوبائی حلقوں پر عوامی،مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کیا جائے جو تمام محرکات کو سامنے لائے نتائج میں تبدیلی بی این پی کو حکومت سازی سے روکنے کی سازش ہے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے رابطہ کیا ہے اسلام آباد جا کر بات چیت آگے بڑھائیں گے اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی سے بھی اس سلسلے میں ملاقات ہو گی اور بلوچستان میں حکومت بنانے میں ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کا یقین دلایا ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ ا نہوں نے کہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے جس طرح بی این پی کے امیدوراوں کی حمایت اس پر انکے مشکور ہیں جو مینڈیٹ ہمیں عوام نے دیا اس نے ہمیں 1970 کی یاد دلوا دی گئی عوامی مینڈیٹ اور نتائج مختلف ہیں حالیہ انتخابات اپنی نتائیج کو روکا گیا نتائج 72 گھنٹے تک تاخیر کا شکار رہے ما ضی میں موصلاتی نظام۔نہ ہونے کے باوجود نتائج میں اتنی تاخیر نہیں ہوتی تھی ایسے تاخیری حربے انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں ہمارے 6 قومی جن میں 272 ، 264 ،265 ،267 ، 271 اور 6 صوبائی حلقوں جن میں 31 ،46 ،45 ، 47 ،48 اور37 پر عوامی مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کیا جائے جو تمام محرکات کو سامنے لائے نتائج میں تبدیلی بی این پی کو حکومت سازی سے روکنے کی سازش ہے کچھ لوگ مبارکباد دینے آئے تھے اور کچھ لینے حکومت سازی میں بی این پی کی ترجیحات بلوچستان کے جملہ مسائل ہیں بلوچستان کے وسائل پے بلوچستان کے عوام کا حق ملکیت تسلیم کیاجائے پی پی پی اور پی ٹی آئی نے بات چیت کی دعوت دی ہے اور اسلام آباد جا کر ان سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے ۔

اختر جان مینگل

مزید : صفحہ اول