نئے پاکستان کا انتظار

نئے پاکستان کا انتظار
نئے پاکستان کا انتظار

  

مجھے نئے پاکستان کا انتظار ہے اور اس کے لئے گیارہ اگست کی تاریخ مقرر کی جا رہی ہے جب تبدیلی کے نقیب عمران خان بطور وزیراعظم حلف اٹھائیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ بد خواہوں کوابھی تک نیا خیبرپختونخوا بھی کہیں نظر نہیں آیا جس کے بننے پر پختونوں نے ہر مرتبہ انتخابات میں حکومت تبدیل کر لینے کی اپنی ہی روایت کو توڑا ہے۔ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمان کو انتخابات کے نتائج سے اتفاق نہیں ہے مگر انتخابات کی ساکھ بہرحال ایک مختلف معاملہ ہے، اس جیسے چھوٹے موٹے معاملات کو نئے پاکستان کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہئے۔

نیا پاکستان کیا ہے، عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے پر خود کُشی کو ترجیح دیں گے، یار دوستوں نے غیر ملکی انگریزی خبررساں ادارے کی اس خبر کا عکس بھی شئیر کیا ہے جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے دو برس پہلے ہی آئی ایم ایف کو خداحافظ کہنے کا اعلان کر دیا تھا۔ مجھے بطور رپورٹر آج سے بیس برس پہلے کی ایک پریس ٹاک ( یا کارکنوں سے خطاب) بھی یاد ہے جب اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے ماڈل ٹاون میں اپنے ڈرائنگ روم میں دو اہم اعلانات کئے تھے، ایک اعلان یہ تھا کہ جی ٹی روڈ کو دو رویہ کیا جائے گا اور دوسرا یہ تھا کہ پاکستان اب آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کرے گا مگر پھر پرویز مشرف کی حکومت آ گئی۔ جی ٹی روڈ تو دو رویہ ہو گئی مگر پرویز مشرف کے دور میں امریکا کو بوریوں میں بھر کے دئیے جانے والوں کے بدلے بوریوں میں ہی آنے والے ڈالروں کے باوجود یہ حال ہو گیا کہ آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کرنا پڑا، حالات پیپلزپارٹی کے دور میں انتہائی خراب ہوئے ، ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کی حکومت نے آئی ایم ایف کو خداحافظ کہا مگر ہمارے ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ ان کا یہ بیان ملک میں سب سے زیادہ ریٹنگ کا دعویٰ کر نے والے چینل نے آن ائیر کیا تو انہوں نے وضاحتی ٹوئیٹ کر دیا کہ انہوں نے دراصل یہ کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی ایک آپشن ہے۔ مجھے ان دونوں بیانات میں کچھ زیادہ فرق نہیں لگ رہا کہ دونوں اسی عالمی مالیاتی ادارے کی طرف لے جا رہے ہیں جو پاکستان کے قرضوں میں اضافہ کر دے گا، اعتراض تو پاکستان کے قرضوں میں اضافے پر تھا۔ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کون کہاں جاتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ قرضوں کے حجم میں کتنی کمی ہوتی ہے۔

نئے پاکستان کے حامی کہتے ہیں کہ صبر کریں، ایک دم سے نیا پاکستان نہیں بن جائے گا، میں عمران خان صاحب کی طرف سے دئیے گئے سو دن کے پلان کو کھول رہا ہوں، اسے بہت غور سے پڑھوں گا مگر ا س سے پہلے کچھ اہم وعدے دوسرے بھی ہیں۔ تحریک انصاف نے کہا اور بار بار کہا کہ وہ پانچ برسوں میں ا یک کروڑ نوکریاں دے گی اورغریبوں کے لئے پچاس لاکھ گھر تعمیر کئے جائیں گے۔ میں خان صاحب کے حلف اٹھانے کا انتظار کر رہا ہوں کہ اسی روز کاونٹ ڈاون شروع ہوجائے گا۔ پانچ برسوں میں ایک ہزار آٹھ سو پچیس دن بنتے ہیں اور یوں تحریک انصاف کو اپنی حکومت کے قائم ہونے کے بعد ہر دن پانچ ہزار چار سو اسی نوکریاں دینی پڑیں گی اور اسی طرح ہر روز دو ہزار سات سو چالیس گھر بھی بنانے پڑیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب پہلے دن سے ہی شروع نہیں ہوسکتا اور عین ممکن ہے کہ میرے انصافی دوست مجھے ایک یا دو برس انتظار کرنے کے لئے کہیں تاکہ نئے پاکستان کی بنیادیں کھود لی جائیں اور وہاں ایک عظیم الشان پاکستان کی عمارت تعمیرہونا شروع ہوجائے لیکن انہیں سوچنا ہو گا کہ اگر وہ دو برس انتظار کرنے کے بعد ڈیلیوری شروع کر تے ہیں تو انہیں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر ایک ہزار پچانوے دنوں میں دینے پڑیں گے اور اس طرح ایک دن میں انہیں نو ہزار ایک سو بتیس نوکریاں دینی اور چار ہزار پانچ سو چھیاسٹھ گھر بنا نے پڑیں گے۔میرا انتظار اگر دو سے بڑھ کے تین برس ہو گیا توآخری دو برسوں میں یہی تعداد بالترتیب تیرہ ہزار سات سو اور چھ ہزار آٹھ سو پچاس روزانہ ہوجائے گی اور اب خدا کے لئے مجھے یہ مت کہیے گاکہ نوکریوں کی پیداوار اور مکانوں کی تعمیر چار برس گزرنے کے بعد آخری برس میں ہو گی۔ابھی میں ان لوگوں کے گمان کے ساتھ نہیں جا رہا جو یہ کہتے ہیں کہ مخصوص سیاسی حالات کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت دو برس ہی چل سکے گی، میرا تمام تر اندازہ اور تخمینہ پانچ برس کے تمام ایک ہزار آٹھ سو پچیس دنوں کے حوالے سے ہے۔

میرا خیال ہے کہ ایک کروڑنوکریاں اسی طرح دی جا سکتی ہیں جس طرح ایک ارب بیس کروڑ درخت لگائے گئے اور سینکڑوں ڈیم تعمیر کئے گئے ورنہ عملی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ریلوے ایک ادارہ ہے جس میں چھہترہزار افراد ملازمت کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے وعدوں میں موجود اعداد وشمار کے مطابق پانچ برسوں کے دنوں کی تقسیم کے مطابق ہر چودہ دن میں اوردوبرس کی تیاریوں کے بعدہر ساڑھے آٹھ دنوں میں ریلوے جیسا ایک ادارہ کھڑا کرنا ہو گا اور یہ کام وہی کر سکتے ہیں جنہوں نے ایک سے دو برس میں خیبرپختونخوا میں اتنے درخت لگا دئیے ہیں کہ عملی طور پر وہاں نوشہرہ اور مردان جیسے شہر تو ایک طرف رہے چارسدہ کے تاریخی قبرستان کی بھی جگہ باقی نہیں رہنی چاہئے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر پرانے منشور کے مطابق خیبرپختونخو ا میں صوبائی حکومت نے اتنی نوکریاں پیدا کی ہوتیں جن کا وعدہ اور دعویٰ کیا جا رہا تھا تو کراچی اور لاہور سمیت ہمارے شہر ہمارے پختون بھائیوں سے خالی ہوچکے ہوتے جو یہاں منی بسیں چلاتے،مکئی بھونتے اور جوتیاں پالش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

میں اس نئے پاکستان کا انتظار کر رہا ہوں جس میں پٹرول کی قیمت چھیالیس روپے لیٹر ہو گی اور بھارت کے ساتھ دما دم مست قلندر ہو گا۔ برائے مہربانی مجھے اوگرا کے اس اعلان کے بارے میں مت بتائیے گا جس کے مطابق پٹرول مزید مہنگا ہو رہا ہے اور نہ ہی نریندر مودی کی خان صاحب کو فون کال کا ذکر کیجئے گا۔مجھے ابھی یہ تحقیق بھی کرنی ہے کہ جب ایک سو دنوں میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن جائے گا تو اس پھٹے پرانے پنجاب کی اسمبلی اور حکومت کا کیا بنے گا۔ مجھے ان تمام معاملات پر زیادہ سر کھپائی کی اس لئے بھی ضرورت نہیں ہے کہ پہلے سو دن کے دعوے ہوں یا منشور کے وعدے، وہ الیکشن میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے کے بعد کئے گئے خطاب کی طرح اسی طرح ہوا میں اڑائے جا سکتے ہیں جس طرح کہا گیاکہ وہ ہر حلقہ کھولنے کے لئے تیار ہیں اور طلال چودھری نے جواب دیا کہ وہ نہیں کہتے کہ حلقہ کھول دیں، تھیلے کھولیں اور ووٹ کھولیں، وہ تو بس اتنا کہتے ہیں کہ جناب ریٹرننگ افسر کے کمرے میں لگے ہوئے کیمرے کی ویڈیو ہی کھول دیں۔میں نے سنا ہے کہ نئے پاکستان میں سب کچھ کھلا ہو گا، سنی ہوئی اس بات نے میری بہت ساری خوابیدہ خواہشوں کو جگا دیا ہے، لہو نے رگوں میں ٹکریں مارنی شروع کر دی ہیں۔

مزید : رائے /کالم